29

کیا نواز شریف اپنی سیاسی وراثت بچانا چاہتے ہیں؟

(جہانزیب خان کاکڑ)

وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و امور خیبر پختونخوا اختیار ولی خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ملک کو عدم استحکام کا شکار کر رہی ہے اس لیے حکومت انہیں اڈیالہ جیل سے کسی دوسرے صوبے میں منتقل کر سکتی ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں اور ملک میں عشق پاکستان اور عشق عمران میں واضح لکیر کھینچ دی گئی ہے۔

حکومت تحریک انصاف کے لیڈروں کو عمران خان سے قطع تعلق کر کے مذاکرات کی طرف لانے کی حکمت عملی پر گامزن ہے۔ اسی پالیسی کے تحت سخت بیان دیے جا رہے ہیں اور پنجاب اسمبلی سے عمران خان کے خلاف قرار داد میں تحریک انصاف پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے اسی قرار داد کا حوالہ دیتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ وفاقی حکومت اب صوبوں کو آپس میں لڑانا چاہتی ہے۔ قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مائنس ون کا فارمولا کامیاب نہیں ہو گا۔ اگر عمران خان کو مائنس کرنے کی کوشش کی گئی تو کوئی بھی باقی نہیں بچے گا۔ البتہ انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی کہ وہ اس جملے میں کیا کہنا چاہتے ہیں۔

اسی موقع پر البتہ پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ حکومت کے ساتھ اسی صورت میں بات چیت ہو سکتی ہے جب وہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت دے۔ عمران کی اجازت کے بغیر کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ ان کا کہنا تھا اگر عوام اٹھ کھڑے ہوئے تو سب کچھ جل کر راکھ ہو جائے گا۔ تباہی سے پہلے حکمرانوں کو بات چیت پر راضی ہوجانا چاہیے۔ عمران خان سے ملنے کی اجازت دی جائے تاکہ حالات کو بہتر بنایا جا سکے۔ اچکزئی کی گفتگو کو اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی خواہش تو کہا جا سکتا ہے لیکن درحقیقت تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان نامی سیاسی اتحاد میں شامل جماعتیں اس ایک نکتہ پر سیاسی دباؤ میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں کہ عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ بحال کیا جائے۔ بیرسٹر گوہر علی بھی ’عقل کے ناخن لینے‘ کی بات کرتے ہوئے بنیادی طور سے یہی مطالبہ کر رہے ہیں کہ عمران خان سے اہل خاندان اور پارٹی لیڈروں کی ملاقاتیں شروع ہوئے بغیر سیاسی کشیدگی میں کمی واقع نہیں ہوگی۔

لیکن حکومت اور اپوزیشن لیڈروں کی طرف سے اختیار کیے گئے لب و لہجہ سے یہ باور کرنا ممکن نہیں کہ ان میں سے کوئی فریق بھی مصالحت کی طرف قدم بڑھانا چاہتا ہے۔ حکومت اور اس کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی نے آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد تحریک انصاف اور عمران خان کے خلاف سخت موقف اختیار کیا ہے۔ حکومتی وزرا اور خاص طور سے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے اطلاعات و امور خیبر پختونخوا اختیار ولی خان کی پریس کانفرنس کے بعد واضح ہو رہا ہے کہ حکومت اس وقت پی ٹی آئی پر پابندی لگانے یا خیبر پختون خوا میں گورنر راج سمیت سب آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ البتہ ان میں سے کوئی بھی آپشن خطرات سے خالی نہیں ہے۔ تحریک انصاف اسٹریٹ پاور سے سیاسی مطالبہ منوانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ گزشتہ روز اڈیالہ جیل کے قریب عمران خان سے ملاقات کے لیے احتجاج کے نام پر تحریک انصاف کے لیڈروں اور عمران خان کی بہنوں نے دھرنا دیا تھا۔ لیکن حکومت نے آج علی الصبح اس دھرنے کو ختم کرا دیا۔ اس موقع پر مظاہرین پر پانی پھینکنے کے سوال پر پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا احتجاج کی کیفیت بنانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن تحریک انصاف اپنی پوری کوشش کے باوجود اس دھرنے کو جاری نہیں رکھ سکی۔ اس سے یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ پارٹی شاید کوئی بڑا احتجاج منظم نہ کرسکے۔

اس صورت حال کو مگر تحریک انصاف کی کمزوری سمجھنا غلطی ہوگی۔ خیبر پختون خوا جیسے اہم صوبے میں اس کی حکومت ہے۔ یہ صوبہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان کے ساتھ معاملات میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ خیبر پختون خوا کی حکومت کو ان دونوں معاملات میں اعتماد میں لینا بے حد ضروری ہے۔ البتہ اسٹیبلشمنٹ اور حکومت تحریک انصاف پر دہشت گردی کے سوال پر سیاست کرنے کا الزام عائد کرتی ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف پالیسیوں کو غلط قرار دے کر موجودہ صورت حال کی ذمہ داری فوجی ایکشن پر لگانے کی کوشش کرتی ہے۔ تاہم بلاشبہ اس چپقلش میں ملکی مفاد داؤ پر لگا ہوا ہے۔ لیکن اس کا احساس موجود نہیں ہے۔

تحریک انصاف کا یہ مطالبہ اگرچہ درست ہے کہ عمران خان کے ساتھ ملاقاتوں کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے اور ان کی بہنوں، وکیلوں اور پارٹی لیڈروں کو ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پارٹی نے نہ تو چیف آف ڈیفنس فورسز کے خلاف عمران خان کے ٹویٹ پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور نہ ہی پارٹی کے بعض حلقوں کی جانب سے فوج مخالف مہم جوئی کا سلسلہ بند کیا گیا ہے۔ پارٹی نے یہی غلطی مئی 2023 کے ناکام مظاہروں کے بعد بھی کی تھی۔ ان مظاہروں میں عسکری تنصیبات اور شہدا کی یادگاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اب اس وقوعہ کو ایک ایسی سازش کے طور پر جانا جاتا ہے جس میں فوج کے اندر سے بعض عناصر کے ذریعے مرضی کی فوجی قیادت مسلط کرنے کی کوشش کی گئی تھی جو ناکام ہو گئی۔ تحریک انصاف کے پاس اس غلطی کا اعتراف کر کے سیاسی راستہ اختیار کرنے کا موقع موجود تھا لیکن اس نے تصادم کا راستہ چنا اور اس دن ہونے والے مظاہروں کی ذمہ داری قبول کرنے کی بجائے اسے فالس فلیگ آپریشن قرار دیا۔ اسی طرح اب آئی ایس پی آر کے سربراہ کی طرف سے عمران خان کے بیانیے کو ملک دشمنی پر مبنی قرار دینے کو تو سختی سے مسترد کیا جا رہا ہے لیکن عمران خان کے ناجائز اور سخت بیانات سے پیچھے ہٹنے کا اعلان نہیں کیا جاتا۔ اس کی بجائے انہیں 70 فیصد عوام کا نمائندہ قرار دے کر سہولت لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکومت تحریک انصاف کے طرز عمل کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی پر پابندی لگانے اور کے پی میں گورنر راج جیسے انتہائی اقدامات کے اشارے دے رہی ہے۔ یوں اس وقت ملک میں ایسا ماحول بن چکا ہے جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کو پرکھنے اور جانچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تحریک انصاف کوشش میں ہے کہ کسی طرح حکومت کو دباؤ میں لاکر کچھ باتیں منوا لی جائیں لیکن اس کے بدلے میں وہ کوئی سیاسی رعایت دینا نہیں چاہتی۔ تحریک انصاف نے دو اڑھائی سال تک اڈیالہ جیل کو سیاسی مہم جوئی کا مرکز بنایا ہوا تھا۔ حکومت اب اس کی اجازت دینے پر آمادہ نہیں ہے۔ ای لیے حکومتی ترجمانوں کے بیانات سخت اور تلخ ہیں۔ ایک طرف سب کچھ ختم ہونے کا انتباہ ہے تو دوسری طرف عمران خان سے محبت کرنے والوں کے مقابلے میں ’عشق پاکستان‘ کا نعرہ بلند کیا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ حالات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچ چکے ہیں۔ حالانکہ سیاست میں ایسے دعوے کرنے سے مسائل حل ہونے کی بجائے ان کی سنگینی میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس وقت ملک میں دو ہی ایسے سیاسی لیڈر موجود ہیں جو اس اشتعال انگیز اور مشکل صورت حال میں کوئی راستہ نکالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں آصف علی زرداری اس وقت ملک کے صدر ہیں اور اس عہدے کی وجہ سے ان کی کچھ آئینی حدود ہیں۔ اسی لیے وہ شاید سیاسی تنازعات میں کوئی موثر کردار ادا کرنے کے قابل نہ ہوں۔ یوں بھی مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے۔ اس وقت اسٹیبلشمنٹ اور تحریک انصاف کے درمیان شروع ہونے والے تنازعہ میں اگر مسلم لیگ (ن) کمزور ہوتی ہے اور اسٹیبلشمنٹ مسلسل تحریک انصاف کو فاصلے پر رکھنا چاہتی ہے تو پیپلز پارٹی کے سیاسی امکانات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ آصف زرداری اپنے بیٹے بلاول کو وزیر اعظم بنوانے کے لیے ایسے امکانات کی تلاش میں رہتے ہیں۔

دوسری شخصیت نواز شریف ہیں۔ انہوں نے اپنے طویل سیاسی سفر میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعاون اور اس کی مخالفت کے سارے موسم دیکھے ہیں۔ اور آئینی بالادستی کے اصول کے ساتھ اپنی وابستگی کا ثبوت بھی فراہم کیا ہے۔ اس وقت ان کی زیر صدارت کام کرنے والی پارٹی ہی مرکز اور پنجاب میں حکمران ہے۔ وزیر اعظم ان کے بھائی ہیں اور صاحبزادی وزیر اعلیٰ ہیں۔ تاہم طویل سیاسی سفر میں نواز شریف نے ضرور یہ سیکھ لیا ہو گا کہ ہر لیڈر ملکی تاریخ میں اپنا نام اچھے لفظوں سے لکھوانا چاہتا ہے۔ اسے ہی اس کی سیاسی وراثت کہا جاتا ہے۔ نواز شریف کی وراثت کا تعین بھی مریم نواز کو اگلا وزیر اعظم بنوانے یا اپنی پارٹی کے اقتدار کی مدت میں اضافے سے متعین نہیں ہوگی۔ بلکہ مؤرخ و تجزیہ نگار یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ جس وقت ملک 1971 کے بعد ایک بار پھر ایسے دوراہے پر کھڑا تھا جب اس کے ٹوٹنے یا منتشر ہونے کی باتیں کی جا رہی تھیں تو نواز شریف نے اس بحران کو ختم کرانے میں کیا کردار ادا کیا تھا۔

نواز شریف کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے کہ سیاست میں کوئی بات حتمی اور کوئی الائنس آخری نہیں ہوتا۔ اسی لیے اس میں کوئی پوائنٹ آف نو ریٹرن نہیں ہونا چاہیے۔ مکالمے اور راستے تلاش کرنے کے ہنر کا نام ہی سیاست ہے۔ نواز شریف کو اس ہنر میں ملکہ حاصل ہے۔ شہباز شریف متعدد بار یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ملکی معیشت بچانے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے اپنی سیاست قربان کردی۔ لیکن اب وقت آن پہنچا ہے جب نواز شریف بتا سکتے ہیں کہ کیا وہ اس بحران سے قوم کو نکالنے کے لیے پارٹی مفادات اور رشتے و تعلق سے بالا ہو کر صرف قومی مفاد کے لیے کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں یا نہیں۔ یہی کردار تاریخ میں نواز شریف کی سیاسی وراثت کا تعین کرے گا ورنہ پی ایم ایل این اگر 2029 کے انتخاب جیت کر مزید پانچ سال بھی حکومت میں رہے تو اس سے نواز شریف کی نیک نامی میں اضافہ نہیں ہو گا۔ بلکہ یہی کہا جائے گا کہ شکست خوردہ عناصر نے دھاندلی کے نئے ہتھکنڈوں سے مزید ایک انتخاب جیت لیا۔

نواز شریف کو طے کرنا چاہیے کہ وہ اقتدار کے نشے میں مست رہنا چاہتے ہیں یا اپنے تجربے اور اثر و رسوخ سے ملکی سیاست میں افہام و تفہیم اور مصالحت کا نیا باب رقم کرنے کی خواہش بھی ان کے دل میں موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں