تیسری منزل غیر قانونی، پارکنگ غائب، انتظامیہ کی غفلت کھلی کھلی سامنے۔اہم عہدوں پر براجمان سفارشی عناصر قانون کے محافظ کی بجائے سہولت کار بن گئے، ذرائع کا دعویٰ
کوئی بھی متعلقہ فرد یا ادارہ اگر ثبوت کے ساتھ اپنا موقف دینا چاہے تو ادارہ اپنی غیر جانبدارانہ پالیسی کے مطابق اسے مناسب جگہ فراہم کرے گا
راولپنڈی (مدثر الیاس کیانی) راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے حساس علاقے ڈھوک مستقیم میں زیرتعمیر پلازہ تعمیراتی قوانین کی ایسی مبینہ سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کا مرکز بن چکا ہے کہ پورے بلڈنگ کنٹرول سسٹم کی ساکھ سوالیہ نشان ہی نہیں، بلکہ مکمل طور پر مشکوک ہو گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس پلازے کی تیسری منزل نقشے میں موجود ہی نہیں تھی، پھر بھی دن دہاڑے تعمیر ہوتی رہی، اور متعلقہ محکمے کے کسی بھی ذمہ دار نے اس پر نہ اعتراض اٹھایا اور نہ کارروائی کی جس نے پورے نظام کی غیر معمولی خاموشی کو مشتبہ بنا دیا ہے۔انکشافات یہیں ختم نہیں ہوتے۔پلازے کی لازمی پارکنگ مبینہ طور پر مکمل طور پر ختم کر کے کمرشل اسپیس میں تبدیل کر دی گئی، جبکہ شیڈ کو تقریباً 20 فٹ آگے بڑھا کر کنٹونمنٹ ایکٹ 1924 کی سیکشن 179، 185 اور 256 کی کھلی خلاف ورزی کی گئی۔تعمیراتی قوانین کی اس سطح پر پامالی کو ذرائع ”قانون کی بے حرمتی“ سے تعبیر کر رہے ہیں۔باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ وارڈ کی نگرانی چوہدری بلال کے پاس ہے، اور یہ پہلی بار نہیں کہ ان کے وارڈ میں اس نوعیت کی شکایات سامنے آئی ہوں۔ متعدد معطلیوں، انکوائریوں اور تبادلوں کے باوجود اگر آج بھی ان کے زیرِ نگرانی ایسے واقعات جنم لے رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بلڈنگ کنٹرول عملہ واقعی بے بس ہے، یا پھر ”بے بس“ دکھائے جانے کا کھیل کہیں اور کھیلا جا رہا ہے؟ذرائع اس خاموشی کو معمولی کوتاہی نہیں بلکہ مبینہ ”منظم غفلت یا ممکنہ ملی بھگت“ قرار دے رہے ہیں۔قانونی ماہرین صورتحال کو نہایت سنگین اور خطرناک قرار دے رہے ہیں۔کنٹونمنٹ بائی لاز 2021 کے مطابق پارکنگ کی عدم فراہمی پر نہ صرف جرمانہ اور مسماری ممکن ہے بلکہ عمارت کی مکمل قانونی حیثیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ بیس فٹ آگے بڑھایا گیا شیڈ براہِ راست تجاوزات، پبلک نیوسنس اور شہری حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔ اس کے باوجود بلڈنگ کنٹرول عملے کی جانب سے کسی قسم کی مداخلت نہ ہونا، خود ایک الگ سوال بن چکا ہے۔ذرائع کے مطابق یہ صرف بے ضابطگی نہیں بلکہ مبینہ طور پر انتظامیہ اور کچھ سفارشی عناصر کے ذریعے قانون کی خلاف ورزی میں سہولت کاری کی مثال ہے۔اہم عہدوں پر براجمان افراد نے قانون کے محافظ کی بجائے سہولت کار کا کردار ادا کیا، جس سے شہری منصوبہ بندی، فائر سیفٹی اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو عملی شکل مل گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈائریکٹر لینڈ کو پلازے کی سرکاری ری میژرمنٹ کی تحریری درخواست تیار ہے، اور اگر سرکاری پیمائش میں یہی خلاف ورزیاں ثابت ہوگئیں تو یہ کیس محض ایک غیر قانونی تعمیر کا نہیں، بلکہ پورے بلڈنگ کنٹرول سیکشن کے اندر موجود خامیوں، مبینہ بدعنوانی اور مبینہ ملی بھگت کے پردے چاک کرنے کا آغاز بن جائے گا۔ اس کیس کو ذرائع کنٹونمنٹ تاریخ کا ایک ”فیصلہ کن ٹیسٹ کیس“ قرار دے رہے ہیں۔روزنامہ عوامی مشن نے ڈائریکٹر لینڈ و ملٹری کنٹونمنٹ بورڈز اور اسٹیشن کمانڈر سے مطالبہ کیا ہے کہ پلازے کی فوری پیمائش، مکمل شفاف انکوائری اور مبینہ ذمہ داران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ادارے نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر کوئی متعلقہ افسر اپنا مؤقف اس سنگین صورتحال پر پیش کرنا چاہے تو اسے مکمل غیر جانبدرانہ اور باضابطہ جگہ فراہم کرے گا۔مگر اس بار ”خاموشی“ قابلِ قبول نہیں ہو گی حقائق کو چھپانا اب ممکن نہیں۔
