32

چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ میں غیر قانونی تعمیرات کی پشت پناہی کا انکشاف



محکمے کو ٹیکسوں اور فیسوں کی مد میں کروڑوں کا چونا لگانے والوں میں انسپکٹر اور انچارج کا نام بھی شامل

غیر متعلقہ افراد کو وردی والا بتا کر بلڈنگ بائی لاز کی دھجیاں اڑانے والوں کے اثاثے چیک کیے جائیں ، ذرائع

کوئی بھی چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گا

راولپنڈی (مدثر الیاس کیانی) چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے بلڈنگ سیکشن میں تعینات انسپکٹر اور انچارج کی جانب سے تعمیراتی قوانین کو مفادات کے لیے توڑ مروڑ دیا گیا ہے، جس سے محکمے کو چند ٹکوں کے لیے کروڑوں روپے کا مالی نقصان پہنچا۔ ذرائع کے مطابق، انسپکٹر اور بلڈنگ انچارج کی ملی بھگت سے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشل سرگرمیوں کو فروغ دیا گیا، جبکہ خود بھی مختلف کاروباروں جیسے گاڑیوں کے کاروبار، کیبل بزنس اور ٹاورز میں سرمایہ کاری کر کے کروڑوں روپے کمائے۔ذرائع کے مطابق کئی علاقوں میں جو مکمل طور پر چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں آتے ہیں، انہیں دانستہ طور پر آر ڈی اے (RDA) کی حدود ظاہر کر کے غیر قانونی بلڈنگز تعمیر کروائی گئی ہیں۔ مزید انکشاف ہوا ہے کہ بلڈنگ انسپیکٹر نے بعض ملزمان سے ساز باز کر کے محکمے کے نام پر عدالتوں سے حکمِ امتناع (Stay Orders) حاصل کیے تاکہ یہ مؤقف اختیار کیا جا سکے کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور کنٹونمنٹ بورڈ بے بس ہے۔
ذرائع کے مطابق بلڈنگ سیکشن کے انسپیکٹر نے ہر غیر قانونی کمرشل دکان یا یونٹ کھولنے کی اجازت کے عوض پانچ سے دس لاکھ روپے تک رشوت وصول کی۔ ابتدائی چند دنوں کے لیے وہاں ایک اپنے ہی کار خاص کو وردی پہنا کر تعینات کیا جاتا تھا تاکہ اگر کوئی شہری، صحافی یا متعلقہ ادارہ سوال کرے تو وہ خود کو بااثر افسر ظاہر کر کے معاملے کو دبائے۔شہریوں کے مطابق جب ان غیر قانونی اقدامات پر سوال اٹھایا جاتا ہے تو کبھی کہا جاتا ہے کہ متعلقہ افراد بلڈنگ انچارج کے رشتہ دار ہیں اور کبھی مؤقف اختیار کیا جاتا ہے کہ “ڈائریکٹر کی اجازت” حاصل ہے۔ اس غیر رسمی مگر طاقتور نظام کے باعث شکایات دبائی جاتی ہیں اور قانون کی عملداری عملاً مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ بلڈنگ انسپیکٹر جب محسوس کرتا ہے کہ اسے حصہ نہیں مل رہا تو وہ اپنے چند مخصوص دوستوں کے نام پر پہلے ڈمی درخواستیں ادارے کو جمع کرواتا ہے تاکہ پارٹی اس کا ریٹ بڑھا دے۔ اگر آج تک جمع ہونے والی درخواستوں کا جائزہ لیا جائے تو زیادہ تر درخواستیں انہی کی ڈمی تیار کردہ ہیں۔ان غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے نہ صرف لاکھوں بلکہ کروڑوں روپے کمائے گئے، جبکہ چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کی ساکھ کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ کنٹونمنٹ کے سخت قوانین صرف عام اور کمزور شہریوں پر لاگو ہوتے ہیں، جبکہ بااثر افراد کے لیے سب کچھ “مینج” کر دیا جاتا ہے۔عوامی اور سماجی حلقوں نے وزارتِ دفاع، ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹ ڈیپارٹمنٹ (ML&C) اور قومی احتساب بیورو (نیب) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں۔کوئی بھی چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں