31

کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کی خاموشی، کنٹونمنٹ ایکٹ کی کھلی خلاف ورزیاں بے نقاب



کوئی بھی چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گا

راولپنڈی(مدثر الیاس کیانی) کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کی حدود میں صدر روڈ پر مبینہ طور پر قائم غیرقانونی مارکیٹوں اور تجاوزات سے متعلق خبر شائع ہونے کے باوجود تاحال کسی ذمہ دار افسر نے نوٹس لینا گوارا نہیں کیا، جو کہ نہ صرف انتظامی غفلت بلکہ کنٹونمنٹ ایکٹ 1924 کی صریح خلاف ورزی کے مترادف ہے۔کنٹونمنٹ ایکٹ 1924 کی شق 179 کے تحت کنٹونمنٹ ایریا میں کسی بھی عمارت، شیڈ یا دکان کی تعمیر بورڈ کی پیشگی منظوری کے بغیر غیرقانونی تصور کی جاتی ہے۔ اسی طرح شق 181 اور 182 کے مطابق بغیر اجازت نقشہ، ساخت یا استعمال میں تبدیلی قابلِ تعزیر جرم ہے، جبکہ شق 192 کنٹونمنٹ بورڈ کو غیرقانونی تعمیرات اور تجاوزات کے فوری خاتمے کا مکمل اختیار دیتی ہے۔اس کے باوجود زمینی حقائق یہ ہیں کہ بغیر لائسنس، بغیر نقشہ منظوری اور عوامی راستوں پر قائم دکانیں اور عارضی شیڈز بدستور فعال ہیں، جو اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ یا تو قوانین پر دانستہ عملدرآمد نہیں ہو رہا یا متعلقہ افسران ملی بھگت کے مرتکب ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق کنٹونمنٹ ایکٹ کی شق 259 کے تحت فرائض میں غفلت برتنے والے افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی اور قانونی سزا بھی ممکن ہے، مگر کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی کی خاموشی سوالیہ نشان بن چکی ہے۔شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہی قانون شکنی کسی عام شہری کی جانب سے کی جاتی تو فوری مسماری اور جرمانے عمل میں آ جاتے، مگر بااثر عناصر کے سامنے قانون بے بس نظر آتا ہے۔ یہ دوہرا معیار کنٹونمنٹ انتظامیہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔علاقہ مکینوں کا ڈائریکٹر ریجن راولپنڈی،اسٹیشن کمانڈر راولپنڈی اور ایگزیکٹو آفیسر کنٹونمنٹ بورڈ راولپنڈی سے مطالبہ کیا ہے کہ جو کوئی بھی ادارے کو بدنام کرنے کے ساتھ ساتھ پیسوں کی خاطر کینٹ بائی لاز کی خلاف ورزی کر رہا ہے اس کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیتے ہوئے ذمہ دار افسران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔کوئی بھی چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں