وارڈ 1٫2٫3٫7٫8٫9 اور 10 ملازمین کیلئے سونے کی چڑیا بن گئے ، ذرائع کے مطابق بڑے وارڈوں کی بڑی کہانیاں ہیں
بلڈنگ سیکشن میں تعینات ملازمین کے شاہانہ ٹھاٹ باٹ کئی اہم رازوں کے پردے چاک کرنے کا سبب لیکن افسران کی آنکھوں پر بندھی پٹیاں
راولپنڈی ( مدثر الیاس کیانی سے) راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے وارڈ نمبر 3 میں تعینات بلڈنگ انسپکٹر کے ہاتھ کھڑے کرنے کے بعد متعلقہ وارڈ میں تعیناتی کیلئے ملازمین میں غیر معمولی دلچسپی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق جیسے ہی وارڈ خالی ہونے کی خبر دفتر میں پھیلی، مختلف حلقوں کی جانب سے اس اہم وارڈ میں پوسٹنگ کیلئے کوششیں تیز کر دی گئیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وارڈ 3 بظاہر خالی ہونے جا رہا ہے، تاہم اس کی اندرونی باگ ڈور بدستور ایک منظم اور مضبوط گروہ کے کنٹرول میں ہے۔ مزید یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اس سے قبل بھی وارڈ 3 میں بلڈنگ انسپکٹر کاغذوں میں تو تعینات تھا، تاہم عملی طور پر وارڈ کے بیشتر معاملات اور فیصلوں کی باگ ڈور دیگر بااثر افراد کے ہاتھ میں رہی۔بلڈنگ سیکشن میں تبادلوں کا عمل کئی برسوں سے جاری ہے، مگر چند مخصوص وارڈز کو ملازمین کیلئے ’’سونے کی چڑیا‘‘ تصور کیا جاتا ہے۔ ان میں وارڈ 10، وارڈ 10/A، وارڈ 9، وارڈ 8، وارڈ 7، وارڈ 1، وارڈ 2 اور وارڈ 3 شامل ہیں، جبکہ وارڈ 6 کو بھی بااثر وارڈز میں شمار کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس وارڈ 4 اور 5 میں تعیناتی کو ملازمین ایک طرح کی سزا سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے ہی کسی بڑے وارڈ میں جگہ خالی ہوتی ہے، وہاں تعیناتی کیلئے سفارشوں اور رابطوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ذرائع یہ الزام بھی عائد کر رہے ہیں کہ بعض وارڈز میں تعیناتی اور تبادلوں کیلئے مبینہ طور پر بھاری نذرانے پیش کیے جاتے ہیں، تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔ بلڈنگ سیکشن میں تعینات بعض ملازمین کے شاہانہ طرزِ زندگی کو بھی کئی اہم حقائق کے آشکار ہونے کا سبب قرار دیا جا رہا ہے، مگر مبینہ طور پر اعلیٰ افسران اس صورتحال پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ وارڈ 3 میں نئی تعیناتی کس کے حصے میں آتی ہے، تاہم ذرائع کے مطابق یہ وارڈ رسمی طور پر خالی ہونے کے باوجود عملی طور پر مکمل طور پر آزاد نہیں ہوگا۔
