
تحریر:حافظ محمد صالح
قائد اعظم محمد علی جناح کی قائدانہ صلاحیتوں، انتھک محنت، بے لوث جذبے اور فہم وفراست کی بدولت آ ج ہم ایک آزاد مملکت میں آزادی کے سانس لے رہے ہیں۔ قائد اعظم کی حکومت کا وژن ایک ایسا ملک تھا جہاں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہو، قانون کی بالادستی ہواور جہاں مسلمانوں کے لیے ایک آزاد، خود مختار ریاست ہو۔قائد اعظم کا نظریہ پاکستان بڑا واضح ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے مشکلات کے باوجود ریاست کو ایک سال تک انتہائی کامیابی کے ساتھ چلایا اور سلامتی کے چیلنجوں کے باوجود پاکستان کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کر دیا۔ قائد اعظم کے پاکستان کو جاننے اور سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہم ان کے ایک سالہ مثالی دور حکومت کا جائزہ لیں۔ قائد اعظم نے گورنر جنرل کی حیثیت سے پاکستان کی پہلی وفاقی کابینہ تشکیل دی جو صرف 10 شخصیات پر مشتمل تھی۔ اس کابینہ میں لیاقت علی خان، آئی آئی چندریگر ،ملک غلام محمد،سردار عبدالرب نشتر،غضنفر علی خان ، جوگندر ناتھ منڈل ،سر ظفر اللہ خان‘ فضل الرحمان، خواجہ شہاب الدین اور پیرزادہ عبدالستار جیسے اہل لیڈر شامل تھے۔ قائداعظم نے یہ کابینہ میرٹ اور صرف میرٹ پر تشکیل دی۔ کوئی دباوقبول نہ کیا ملکی خزانے پر بوجھ نہ ڈالا کوئی اقربا پروری نہ کی۔ آج پاکستان بدقسمتی سے آدھا ہے مگر اس کی کابینہ کے ارکان میںوزیر اعظم ، 31 وزیر ، 11 وزیر مملکت ،4 ایڈوائزر،9 معاون خصوصی اور 24پارلیمانی سیکرٹری شامل ہیں۔ کابینہ بناتے وقت میرٹ کو نظر انداز کیا گیا اور یہ بھی نہ سوچا کہ پاکستان ایک غریب اور مقروض ملک ہے جو بڑی کابینہ کا متحمل ہی نہیں ہو سکتا۔
قائداعظم نے اپنی حکومت کے ایک سال کے دوران مثالی گورننس کا عملی نمونہ پیش کیا۔ بیوروکریٹس کو باور کرایا کہ وہ عوام کے حاکم نہیں بلکہ خادم ہیں وہ سیاست سے الگ تھلگ رہیں عوام کے مسائل کو برداشت کے ساتھ سنیں اقربا پروری سے اور رشوت ستانی سے گریز کریں کسی کے دباﺅ میں نہ آئیں اپنے فرائض انتہائی احساس وفاداری دیانت راست بازی لگن اور وفا شعاری کے ساتھ انجام دیں تاکہ اپنے اللہ کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکیں۔ آج کی بیوروکریسی قائد اعظم کے فرمان سے کھلا انحراف کر رہی ہے۔ قائد اعظم نے فوجی افسروں کو آئینی حلف پڑھ کر سنایا اور انتباہ کیا کہ وہ سیاست سے الگ تھلگ رہیں۔ قائد کے اس فرمان پر بھی کسی نے عمل نہیں کیا ۔ قائد اعظم نے آئین اور قانون کی حکمرانی کی شاندار مثال پیش کی۔ انہوں نے ریلوے کی ٹرین کے گزرنے کا انتظار کیا اور ریلوے کا پھاٹک کھلوا کر آگے جانے سے انکار کر دیا۔ قائداعظم نے سیاست کو سرمائے سے الگ رکھا سیاست کو خدمت عبادت سمجھا ۔ افسوس آج سیاست سرمایہ کاری اور تجارت بن چکی ہے۔ انہوں نے قومی خزانے کو عوام کی امانت سمجھ کر خرچ کیا، رات کو سونے سے پہلے گورنر جنرل ہاﺅس کی فالتو بتیاں بجھا دیتے۔ موجودہ پاکستان میں مقتدر حکمران اشرافیہ نے لوٹ مار کر کے بیرون ملک اپنی جائیدادیں بنا رکھی ہیں جبکہ قائد اعظم نے اپنی محنت کی کمائی کے ساتھ بنائی جائیدادیں اور اثاثے فلاحی اور تعلیمی اداروں کو وقف کر دیئے۔قائداعظم نے ایک سال سچ کی بنیاد پر حکومت چلا کر دکھائی جب کہ آج پاکستان میں صبح شام جھوٹ بولا جاتا ہے۔ آج پاکستان کی حالت بقول شاعر کچھ اس طرح ہو چکی ہے۔
بولوں اگر میں جھوٹ تو مر جائے گا ضمیر
کہہ دوں اگر میں سچ تو مجھے ماردیں گے لوگ
قائد اعظم نے اپنا خون جگر دے کر جس پاکستان کو بہاروں کا مسکن بنایا تھا آج وہ خزاں کے سفاک ہاتھوں سے برباد ہو رہا ہے۔ اقبال کے جس خواب کی تعبیر بن کر قائد اعظم نے اپنا سب کچھ قربان کر کے ہمیں الگ وطن دیا تھا، آج ہماری نااہلی اور سستی کے باعث دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔قائد کے جس دیس کو دنیا بھر میں رول ماڈل بننا تھا آج کرپشن اور جہالت کی منڈی بن چکا ہے۔پاکستان کو آزاد ہوئے 78 سال سے زائد کا عرصہ ہو چکاہے آج اگر ریفرنڈم کرایا جائے تو پاکستان کے 98 فیصد عوام اس رائے کا اظہار کریں گے کہ موجودہ پاکستان قائد اعظم کا پاکستان نہیں ہے۔ آج کے پاکستان کو انگریزوں کے نظام کے مطابق چلایا جا رہا ہے جو قائد اعظم کے تصورات سے مکمل انحراف ہے۔پاکستان دوقومی نظریہ کی بنیاد پر وجودمیں آ یا، آ ج نظریہ پاکستان سے زیادہ ہم نظریہ ضرورت کے دلدادہ ہیں۔ ان حالات میں خاموشی بے حسی جرم اور سکیورٹی رسک ہے۔ پاکستان کے عوام کا قومی فرض ہے کہ وہ آزادی کی تکمیل قائد اعظم کے پاکستان کی تشکیل کیلئے جدوجہد کریں۔ آنکھیں کھول کر بیدار اور باشعور ہو جائیں۔ کیونکہ ہم میں سے ہر فرد اس ملک اور ملت کی تقدیر بدل سکتا ہے اور قائد ملت کے اس پیغام کو عام کر سکتا ہے:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ