تحریر: عظیم ناشاد اعوان (مانسہرہ/ صدر بزمِ مصنفین ہزارہ)
عاصم نواز خان طاہرخیلی صاحب کا تعلق غازی، ضلع ہری پور سے ہے۔ آپ ایک منجھے ہوئے معلم، سنجیدہ کالم نگار، صاحبِ اسلوب شاعر، محقق، مصنف اور تاریخ دان کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ علمی و ادبی حلقوں میں آپ کا شمار ان شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے قلیل مدت میں اپنی محنت، لگن اور خلوص کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا۔
آپ اس وقت بزمِ مصنفینِ ہزارہ، ضلع ہری پور کے جنرل سیکرٹری کی حیثیت سے فعال کردار ادا کر رہے ہیں اور ہزارہ کی ادبی سرگرمیوں میں نہایت متحرک نظر آتے ہیں۔ آپ نے مختصر عرصے میں ترقی کی کئی منازل طے کیں اور ہزارہ کے ادبی حلقوں میں اپنی الگ شناخت قائم کی۔
عاصم نواز خان طاہرخیلی صاحب کی تاریخ پر دسترس نہایت مضبوط ہے۔ جہاں ہزارہ میں دیگر ادبی اصناف پر کام کرنے والوں کی تعداد خاصی ہے، وہیں تاریخ جیسے مشکل اور محنت طلب میدان میں کام کرنے والوں کی تعداد محدود ہے، اور اس قلیل تعداد میں آپ کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ تاریخِ قوم طاہرخیلی کی اشاعت میں آپ کا کردار بطورِ خاص قابلِ تحسین ہے۔ جہاں آپ نے معاون کی حیثیت سے گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔
اب تک آپ نصف درجن ضخیم کتب مرتب کر چکے ہیں جبکہ اتنی ہی کتب اشاعت کے مراحل میں ہیں۔ آپ کی شائع شدہ تصانیف میں نقطہ نظر، بابا جی سلم کھنڈی، عاصمیات، بوندیں، اور اِک سفر اِک روداد شامل ہیں۔
سفرنامہ پر مبنی آپ کی کتاب ”اک سفر اک روداد“ اور روایات،حکایات و عاصمیات پر مشتمل کتاب”بابا جی سلم کھنڈی” کو ادبی حلقوں میں خاص پذیرائی حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ آپ کے کالموں اور سوشل میڈیا تحاریر کے مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔
آپ کالم نگاری کے فن سے بخوبی واقف ہیں۔ آپ کے کالم مختلف اخبارات اور ادبی مجلوں کی زینت بنتے ہیں اور قارئین میں سنجیدگی سے پڑھے جاتے ہیں۔ اردو شاعری کا ایک مجموعہ زیرِ غور ہے جو جلد ادبی منظرنامے پر آنے کی امید ہے۔
اس وقت آپ تاریخِ گندگر اور اپنے قبیلہ طاہرخیلی کی تاریخ پر تحقیقی کام کر رہے ہیں، جبکہ ”دبستانِ ہری پور“ آخری مراحل میں ہے، جو ہری پور کے شعرائے کرام کی ایک جامع اور مستند تاریخ پر مشتمل اہم کتاب ہوگی۔
عاصم نواز خان طاہرخیلی صاحب کی بے لوث ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ ان میں ادب سماج اور انسانیت، بزمِ مصنفینِ ہزارہ، میری ادب میری پہچان، بھیل ادبی سنگت، ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان،پہچان پاکستان نیوز گروپ، تحریک اصلاح معاشرہ پاکستان اور انٹرنیشنل رائٹرز فورم کی جانب سے دیے گئے ایوارڈز شامل ہیں۔
یونیورسٹی آف صوابی سے ملحقہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج صوابی میں بی ایس اردو کے اک طالب علم نے پروفیسر ڈاکٹر محمد اسماعیل کی زیر نگرانی آپ کی کتاب “بوندیں” پر ایک تحقیقی مقالہ بھی ترتیب دیا جس سے عاصم نوازخان طاہرخیلی کے ادبی قد اور وقار میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
بلاشبہ عاصم نواز خان طاہرخیلی صاحب ہزارہ کی علمی، ادبی اور تاریخی روایت کے امین ہیں اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بقول شاعر:
خط اُن کا بہت خُوب،عبارت بہت اچھی
اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ
(آمین ثم آمین)
