۔
ریفرنڈم کے دوران لاہور بھر کے اہم چوکوں اور چوراہوں پر پولنگ اسٹیشنز اور کیمپس قائم کیے جائیں گے۔
عوامی ریفرنڈم کے لیے بیلٹ باکسز کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور بڑی تعداد میں بیلٹ باکسز تیار کیے جا چکے ہیں۔
امیرجماعت اسلامی لاہور ضی2اء الدین انصاری ایڈووکیٹ کا عوامی ریفرنڈم کی تیاریوں کے سلسلے ذمہ داران کے اجلاسز سے خطاب
لاہور( عمرحیات چوہدری)جماعت اسلامی لاہور کے زیر اہتمام بلدیاتی ایکٹ 2025ء کے خلاف صوبائی دارالحکومت میں عوامی رائے کے حصول کے لیے عوامی ریفرنڈم کرانے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ عوامی ریفرنڈم 15 سے 18 جنوری 2026 تک منعقد ہوگا، جس کی تاریخوں کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ عوامی ریفرنڈم کے لیے بیلٹ باکسز کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور بڑی تعداد میں بیلٹ باکسز تیار کیے جا چکے ہیں۔ ریفرنڈم کے انتظامی امور کو مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے تین رکنی کمیٹیاں قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جو پولنگ کے عمل کی نگرانی کریں گی۔اس موقع پر ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ عوامی ریفرنڈم کے ذریعے بلدیاتی نظام پر براہ راست عوامی رائے لی جائے گی اور عوام کو بلدیاتی ایکٹ میں ترمیم کے عمل میں باقاعدہ طور پر شامل کیا جائے گا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی پنجاب حکومت کو عوامی طاقت کے ذریعے مجبور کرے گی کہ وہ بلدیاتی ایکٹ میں شامل عوامی مفاد کے منافی شقوں کا خاتمہ کرے۔امیر جماعت اسلامی لاہور نے مزید کہا کہ ریفرنڈم کے دوران لاہور بھر کے اہم چوکوں اور چوراہوں پر پولنگ اسٹیشنز اور کیمپس قائم کیے جائیں گے، جہاں امن و امان اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے گا۔ خواتین کی بھرپور شمولیت کے لیے خصوصی اور محفوظ انتظامات کیے جائیں گے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت کو بلدیاتی ایکٹ میں کسی قسم کی راہِ فرار اختیار نہیں کرنے دی جائے گی اور عوامی رائے کو فیصلہ کن حیثیت دلائی جائے گی۔جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ مضبوط اور بااختیار بلدیاتی نظام ہی عوامی مسائل کے حل اور جمہوریت کے استحکام کی ضمانت ہے، اور یہ عوامی ریفرنڈم اسی جدوجہد کا عملی اظہار ہے۔
