
کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی
پاکستانی معاشرت میں سوشل میڈیا اب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ یہ مظلوموں کی عدالت اور محروموں کی آواز بن چکا ہے۔ گزشتہ کئی روز سے ضلع بہاولنگر کے علاقے ’اسلام نگر‘ کے مکینوں نے انٹرنیٹ کے ہر فورم پر ایک ہی دہائی دے رکھی تھی: “ہمیں صاف پانی دو”۔ یہ پکار جب ڈیجیٹل دیواروں سے ٹکرا کر عوامی نمائندوں کے کانوں تک پہنچی تو جمود ٹوٹا اور امید کی ایک نئی کرن نمودار ہوئی۔ اسلام نگر کے باسیوں کا مسئلہ نیا نہیں تھا لیکن اس کی سنگینی اب اس نہج پر پہنچ چکی تھی جہاں صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا تھا۔ صاف پانی کی عدم دستیابی نے نہ صرف روزمرہ کی زندگی کو اذیت ناک بنا دیا تھا بلکہ مضرِ صحت پانی کے استعمال سے بیماریاں بھی ڈیرے ڈالنے لگی تھیں۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی تھی کہ کوئی ایسا کردار سامنے آئے جو عوامی درد کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا سکے۔ہفتہ کے روز سابق ضلعی چیئرمین بیت المال بہاولنگر چوہدری محمد اسلم نے ایک وفد کے ہمراہ ممبر قومی اسمبلی میاں عالم داد لالیكا سے ہارون آباد میں ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اگرچہ اس ملاقات کا بظاہر مقصد میاں عالم داد لالیكا کو عمرہ کی سعادت حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرنا تھا لیکن اس موقع پر چوہدری محمد اسلم نے ثابت کیا کہ ایک حقیقی عوامی رہنما وہی ہوتا ہے جو خوشی کے لمحات میں بھی اپنے علاقے کے دکھوں کو فراموش نہیں کرتا۔ دورانِ ملاقات اسلام نگر کے دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ چوہدری محمد اسلم نے واٹر سپلائی کے ادھورے منصوبے کا مقدمہ نہایت مدلل انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے میاں عالم داد لالیكا کو حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام نگر کے لیے تقریباً سوا کروڑ روپے کی خطیر لاگت سے الگ ٹربائن پہلے ہی نصب کی جا چکی ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ مین واٹر سپلائی لائنیں بھی محلے کی دہلیز تک پہنچ چکی ہیں۔ اب رکاوٹ صرف اتنی ہے کہ ان مین لائنوں سے گھر گھر تک پانی پہنچانے کے لیے گلیوں میں پائپ لائن بچھانا باقی ہے۔ جس کا سروے ہو چکا، فیزیبلٹی رپورٹ بھی بن چکی، بس ضرورت ہے تو “سیاسی عزم” اور “فنڈز” کی۔ جب میاں عالم داد لالیكا نے فیزیبلٹی کی رقم کے بارے میں دریافت کیا تو انہیں بتایا گیا کہ اس بقیہ کام کے لیے کم و بیش ستر لاکھ روپے درکار ہیں۔ میاں عالم داد لالیكا نے فنڈز کی موجودہ قلت کا تذکرہ تو کیا لیکن اسلام نگر کے پیاسے مکینوں کو مایوس نہیں کیا۔ انہوں نے فوری طور پر وعدہ کیا کہ وہ سوموار کو ہی اس منصوبے کے لیے پچاس لاکھ روپے متعلقہ محکمے کو جاری کر دیں گے۔ یہ اعلان اسلام نگر کے مکینوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھا۔ اس پچاس لاکھ روپے کے انجکشن سے ادھورا منصوبہ دوبارہ زندگی پائے گا۔ ضروری قانونی کارروائی اور ٹینڈرنگ کے عمل کے بعد جب گلیوں میں پائپ بچھانے کا کام شروع ہو گا تو برسوں سے جاری پانی کا بحران دم توڑ دے گا۔ میاں عالم داد لالیكا کا یہ اقدام اس بات کی دلیل ہے کہ اگر عوامی نمائندہ چاہے تو وسائل کی کمی کے باوجود ترجیحات کا درست تعین کر کے عوام کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ آج سوشل میڈیا پر صاف پانی کے آواز اٹھانے والے اسلام نگر کے مکین چوہدری محمد اسلم کی اس مخلصانہ سفارت کاری اور میاں عالم داد لالیكا کی فوری داد رسی پر ان کے شکر گزار ہیں لیکن یہاں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ فنڈز کا اجرا صرف پہلا قدم ہے۔ اب اصل ذمہ داری متعلقہ محکمے اور ٹھیکیداروں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس رقم کا ایک ایک پیسہ امانت سمجھ کر دیانت داری سے خرچ کریں اور کام کی کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔ اسلام نگر کا یہ کیس اسٹڈی ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب سوشل میڈیا کی طاقت، عوامی اتحاد اور مخلص سیاسی قیادت ایک پیج پر آ جائیں تو بڑے سے بڑا مسئلہ حل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ امید ہے کہ بہت جلد اسلام نگر کی گلیوں میں پانی کی لائنیں بچھ جائیں گی اور وہاں کے باسیوں کو اپنے گھروں کی دہلیز پر صاف پانی میسر ہو گا۔ یہ کامیابی صرف ایک محلے کی نہیں بلکہ بہاولنگر کے اس سیاسی شعور کی کامیابی ہے جو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانا جانتا ہے۔ اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین