
ظلم یہ ہے کہ ٹاؤنز کی سربراہی ڈپٹی کمشنر کے حوالے کی جا رہی ہے،جو ناقابل قبول ہے ۔
یوروکریسی قیامِ پاکستان سے عوامی نمائندوں کو بااختیار نہیں ہونے دے رہی ، ہماری جدوجہد مزید تیز ہوگی ۔
جماعت اسلامی ایک نئے، منصفانہ اور بااختیار بلدیاتی قانون کا مطالبہ کرتی ہے، جس میں حقیقی اختیارات عوامی نمائندوں کو دیے جائیں۔
امیرجماعت اسلامی لاہورضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کی مسلم ٹاؤن عوامی ریفریڈم کیمپ پولنگ اسٹیشن پر میڈیا سے گفتگو
لاہور (عمرحیات چوہدری) جماعت اسلامی کے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف عوامی ریفرنڈم کا دوسرا روز بھی بھرپور اور کامیاب انداز میں جاری ہے جبکہ 18 جنوری تک ہوگا۔ امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے مسلم ٹاؤن میں قائم پولنگ کیمپ کا دورہ کیا اور ریفرنڈم کے انتظامات کا جائزہ لیا ۔ اس موقع پر انہوں نےعوامی ریفرنڈم کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے کہا کہ عوامی ریفرنڈم کل سے کامیابی کے ساتھ جاری ہے اور شہری بڑی تعداد میں بلدیاتی کالے قانون کے خلاف اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی حقیقی بااختیار بلدیاتی نظام چاہتی ہے۔ایسا بلدیاتی نظام جس میں مالی و انتظامی اختیارات عوامی نمائندوں کو منتقل ہوں۔پنجاب کا بلدیاتی ایکٹ عوام سے ان کا آئینی حقِ حکمرانی چھینتا ہے ،مسترد کرتے ہیں،یہ قانون دراصل بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے بجائے اسے مفلوج کرتا ہے ۔پنجاب حکومت عوامی نمائندوں کے اختیار کو تقویت دینے کی بجائے سلب کرنا چاہتی ہے ۔عوام کے منتخب نمائندوں کی بجائے بیوروکریسی کو مزید طاقتور بنانے کی سازش ہے۔لاہور ایک میٹروپولیٹن شہر ہے، لیکن اسے بلاجواز طور پر نو سے دس ٹاؤنز میں تقسیم کر دیا گیا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹریز جماعت اسلامی لاہورقیصر شریف، شاہدنوید ملک ، رہنما جماعت اسلامی احمد سلمان بلوچ، فیاض احمد فیضی، حافظ عبداللطیف، عبدالرحمن، قاری محمد سلیم، جمیل احمد سمیت دیگر ذمہ داران بھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ ان ٹاؤنز کی سربراہی ڈپٹی کمشنر کے سپرد کی جا رہی ہے، جبکہ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک بیوروکریسی عوامی نمائندوں کو کام کرنے اور بااختیار ہونے نہیں دیتی۔ امیر جماعت اسلامی لاہور نے کہا کہ پاکستان کا آئین جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا واضح حکم دیتا ہے، لیکن پنجاب حکومت غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کروانا چاہتی ہے۔ضیاء الدین انصاری نے مزید کہا کہ ایک ماہ بعد سیاسی جماعت میں شمولیت کی شرط دراصل ہارس ٹریڈنگ کا راستہ کھولتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ عمل اب گلی محلوں تک لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی ایک نئے، منصفانہ اور بااختیار بلدیاتی قانون کا مطالبہ کرتی ہے، جس میں حقیقی اختیارات عوامی نمائندوں کو دیے جائیں۔