شٹر ٹوٹے، مگر مافیا نہ ٹوٹی، کنٹونمنٹ بورڈ میں کس کا حکم چلتا ہے؟۔نئے انسپیکٹر کی کارروائی، پرانے نظام کی بدعنوانی بے نقاب
قانون یا مافیا؟ راولپنڈی کنٹونمنٹ میں طاقت کا فیصلہ کن امتحان۔غیر قانونی تعمیرات پر خونریز مزاحمت، کنٹونمنٹ اہلکار زخمی
کوئی بھی ذمہ دار چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق شائع کیا جائیگا ، ادارہ
راولپنڈی (مدثر الیاس کیانی) راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی حدود میں غیر قانونی تجاوزات، ناجائز تعمیرات اور بغیر اجازت قائم تجارتی مراکز ایک بار پھر انتظامیہ کی کارکردگی اور شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا رہے ہیں۔ روزنامہ عوامی مشن کی جانب سے 15 اور 22 دسمبر 2025 کو انکشاف کیا گیا تھا کہ صدر کے علاقے میں تہذیب بیکری کے سامنے قائم لنڈا بازار غیر قانونی ہے۔ان خبروں کے بعد 23 دسمبر 2025 کو کنٹونمنٹ بورڈ نے کارروائی کرتے ہوئے شٹر توڑ کر تجاوزات ختم کر دی تھیں اور علاقہ کلیئر کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ جو علاقہ مکمل طور پر خالی کرایا گیا تھا، وہ چند ہی دنوں میں دوبارہ کیسے آباد ہو گیا؟ذرائع کے مطابق یہ سب کچھ بااثر عناصر اور اندرونی سہولت کاری کے بغیر ممکن نہیں تھا، جس نے کنٹونمنٹ بورڈ کی سابقہ کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔کنٹونمنٹ بورڈ کے وارڈ نمبر تین میں تعینات نئے بلڈنگ انسپیکٹر ابوذر بھٹی نے چارج سنبھالتے ہی غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا۔کارروائی کے دوران متعدد غیر قانونی دکانیں سیل کی گئیں اور باقاعدہ قانونی عمل شروع کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وارڈ تین، بالخصوص صدر کا علاقہ، ایسی متعدد تعمیرات سے بھرا پڑا ہے جن کی قانونی حیثیت مشکوک ہے۔اسی سلسلے میں کوئٹہ کیفے کو سیل کیا گیا، جبکہ سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ عامر رشید کی جانب سے 16 جنوری 2026 کو تحریری احکامات جاری کیے گئے تھے کہ مذکورہ پراپرٹی غیر قانونی ہے اور اسے فوری طور پر مسمار یا سیل کیا جائے۔ مزید برآں، تہذیب بیکری کے سامنے دوبارہ قائم کی جانے والی غیر قانونی لنڈا مارکیٹ کے خلاف بھی فوری آپریشن کرتے ہوئے تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔
کارروائی کے دوران قبضہ مافیا نے سرکاری عملے پر کھلی مزاحمت کی، جس کے نتیجے میں کنٹونمنٹ بورڈ کے کئی اہلکار زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد بورڈ انتظامیہ نے حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ حکام کے مطابق یہ اقدام شہریوں کو واضح پیغام دینے کے لیے ضروری تھا کہ قانون شکنی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔یہ واقعات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قبضہ مافیا نہ صرف منظم بلکہ بااثر بھی ہو چکا ہے۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ماضی میں بعض بلڈنگ انسپیکٹرز اور فیلڈ اسٹاف قبضہ مافیا کے فرنٹ مین کے طور پر کام کرتے رہے، جن کی مبینہ سرپرستی کے باعث غیر قانونی مارکیٹیں، ناجائز پارکنگ اور اولڈ گرانٹ کی خلاف ورزیاں فروغ پاتی رہیں۔ ان کرداروں کے خلاف تاحال کوئی مؤثر اور شفاف انکوائری نہ ہونا بھی ایک اہم سوال ہے۔نئے بلڈنگ انسپیکٹر کی تعیناتی کے بعد کنٹونمنٹ بورڈ کے اندر بھی ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔ملازمین کے حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ اگر قوانین پہلے سے موجود تھے تو برسوں تک غیر قانونی تعمیرات کیسے قائم رہیں؟کیا سابق افسران واقعی لاعلم تھے یا خاموش شراکت دار؟۔شہری اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ابوذر بھٹی کی تعیناتی نے امید ضرور پیدا کی ہے، تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ آیا یہ کریک ڈاؤن محض چند علامتی کارروائیوں تک محدود رہتا ہے یا واقعی قبضہ مافیا کے سرغنوں، سہولت کار افسران اور غیر قانونی نیٹ ورک کو قانون کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے۔ذرائع کے مطابق ماضی کی کوتاہیاں اور غیر قانونی سرگرمیاں نئے سی ای او کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم بلڈنگ انسپیکٹر ابوذر بھٹی کا کہنا ہے کہ تمام کارروائیاں شفاف انداز میں کی جائیں گی اور کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہوگا۔عوامی اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ میں ماضی کی تمام غیر قانونی تعمیرات، اولڈ گرانٹ میں رد و بدل، غیر مجاز کمرشل سرگرمیوں اور ان کے ذمہ دار افسران کے خلاف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انکوائری کی جائے، تاکہ یہ طے ہو سکے کہ قانون واقعی سب کے لیے برابر ہے یا نہیں۔اس حوالے سے کوئی بھی ذمہ دار چاہے گا تو اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کی جائیگی۔
17