کنٹونمنٹ ایکٹ 1924 کے تحت 185 کا ward 3 / C / BCC 5402 نوٹس جاری, نوٹس کے مطابق جلد ریمول کے احکامات جاری
نوٹس کی کاپیاں لینڈ ڈیپارٹمنٹ ، بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ ، ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سمیت دیگر ڈیپارٹمنٹس میں ارسال لیکن بلڈنگ سیکشن کی لاعلمی پر اٹھتے سوال
نوٹس کے مطابق فیلڈ اسٹاف کی رپورٹ میں چاہے پراٹھا کو غیر قانونی قرار دیا جانے کے بعد سی آی او نے کاروائی کیلئے پہلا نوٹس 185 جاری کر دیا ہے
کوئی بھی ذمہ دار چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق شائع کیا جائیگا ، ادارہ
راولپنڈی ( مدثر الیاس کیانی سے) راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے سب سے مصروف ترین بازار صدر میں بننے والے چاے پراٹھا کیفے کو سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ عامر رشید کی جانب سے بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کنٹونمنٹ ایکٹ 1924 کے تحت 185 کا نوٹس ward 3 / C / BCC 5402 جاری کر دیا نوٹس میں قانونی حیثیت بارے متنازع جگہ چاہے پراٹھا کہ مالک کو بتایا گیا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے فلڈ اسٹاف کی جانب سے اعلی حکام کو فراہم کی جانے والی رپورٹ کے مطابق یہ ہوٹل غیر قانونی ہے اور اسکو جلد از جلد ہٹا دیں بصورتِ دیگر کنٹونمنٹ بورڈ کا عملہ اسکو ختم کر دیگا ۔ یاد رہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کی جانب سے کسی بھی محکمانہ کاروائی سے قبل کسی بھی غیر قانونی عمارت یا منزل کو پہلے 185 کا نوٹس پیشگی اطلاع کیلئے بھیجا جاتا ہے اور اسکے بعد پندرہ دن کے اندر اندر اگر مالک کنٹونمنٹ بورڈ سے رجوع کر لے اور پراپرٹی کی قانونی حیثیت کے بارے میں کاغذات جمع کروا دے تو کاروائی جرمانوں کے بعد روک دی جاتی ہے بصورت دیگر پندرہ دن بعد 256 کا نوٹس بھیج کر غیر قانونی عمارت یا پورشن کو ڈیمالش کر دیا جاتا ہے لیکن متذکرہ نوٹس میں سی ای او کی جانب سے پہلے ہی کہا گیا ہے کہ انکے ماتحت عملے کی رپورٹ کے مطابق چاہے پراٹھا ہوٹل غیر قانونی ہے اور یہ پلاٹ مبینہ طور پر سرکاری ہے اسی وجہ سے مذکورہ ہوٹل کی ریمول کیلئے نوٹس جاری کر دیا گیا ہے یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ سی ای او کے دستخط اور سرکاری مہر سے جاری ہونے والے لیٹر کی کاپیاں برائے اطلاع انفوسمنٹ ڈیپارٹمنٹ،لینڈ ڈیپارٹمنٹ ، بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں سی سی کیے جانے کے بعد بھی اس نوٹس کے بارے میں موجودہ تعینات ٹیم لاعلم ہے جبکہ اسکی ایک کاپی انکے ڈیپارٹمنٹ میں بھی بھیجی گئی اور کسی بھی نوٹس کو ڈسٹرںیوٹ کرنے والی ٹیم بھی بلڈنگ سیکشن میں ہی بیٹھتی ہے یہاں ذرائع کی جانب سے شک کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ بلڈنگ سیکشن میں تعینات عملہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی صرف اس لیے نادان بن رہا ہے کہ وہ چاہے پراٹھا نامی ہوٹل کے مالک کو مبینہ فاصل عدالتوں سے حکم امتناعی لینے کیلئے مہلت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یہاں یہ الزام بھی ذرائع کی جانب سے لگایا جا رہا ہے کہ مذکورہ ہوٹل بارے اعلی حکام کو بتایا گیا ہے کہ ہم نے اسکو نوٹس بھی جاری کیا ہے اور سیل بھی کر دیا ہے جبکہ حقیقت میں چاہے پراٹھا نامی ہوٹل جس کو سی آی او عامر رشید نے نوٹس جاری کیا ہے سیل نہیں ہے اور اسکی رونقیں جوں کی توں بحال ہیں اس حوالے سے کوئی بھی ذمہ دار چاہے گا تو اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کی جائیگی۔
11