8

راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی نااہلی بے نقاب، فیلڈ اسٹاف کے پاس ڈیٹا ہی موجود نہیں، اہلیانِ کینٹ عذاب میں مبتلا


غلط رپورٹس، غلط کارروائیاں، شہریوں کو بلا وجہ دفاتر کے دھکے


کوئٹہ کیفے کیس نے کنٹونمنٹ بورڈ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیا


اہلیانِ کینٹ کا دو ٹوک مطالبہ: نااہل فیلڈ اسٹاف کا احتساب کیا جائے

راولپنڈی ( مدثر الیاس کیانی )؛راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں فیلڈ اسٹاف کی ناقص کارکردگی، عدم دلچسپی اور مکمل ڈیٹا نہ ہونے کا خمیازہ اہلیانِ کینٹ کو روزانہ کی بنیاد پر بھگتنا پڑ رہا ہے، شہری شدید ذہنی اذیت اور مالی نقصان کا شکار ہیں جبکہ کنٹونمنٹ بورڈ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے، گزشتہ ہفتے یہ نااہلی اس وقت کھل کر سامنے آ گئی جب سی ای او راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ عامر رشید کی جانب سے صدر کے علاقے میں واقع کوئٹہ کیفے نامی ہوٹل کو 185 نوٹس جاری کیا گیا اور نوٹس میں فیلڈ اسٹاف کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا گیا کہ چائے پراٹھا ہوٹل غیر قانونی ہے، اسی نامکمل اور غیر مصدقہ رپورٹ کی بنیاد پر انفورسمنٹ اسٹاف نے کارروائی کرتے ہوئے ہوٹل کا سارا سامان ضبط کر کے کنٹونمنٹ بورڈ منتقل کر دیا، کاروبار بند ہوا، عملہ بے روزگار ہوا اور مالک کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم جب ہوٹل کے مالک نے تمام قانونی شواہد، این او سیز اور ریکارڈ اعلیٰ حکام کے سامنے پیش کیے تو کنٹونمنٹ بورڈ کی ساری کہانی زمین بوس ہو گئی اور حقائق کے سامنے آنے پر چائے پراٹھا ہوٹل کو ڈی سیل کرنا پڑا، اس واقعے نے کنٹونمنٹ بورڈ کے فیلڈ اسٹاف کی قابلیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اہلیانِ کینٹ کا کہنا ہے کہ اگر کنٹونمنٹ بورڈ کے پاس مکمل ڈیٹا، ریکارڈ اور معلومات موجود نہیں تو کارروائیاں کس بنیاد پر کی جا رہی ہیں، شہریوں کے مطابق فیلڈ اسٹاف کی معمولی کوتاہی پورے کینٹ ایریا کو مسائل میں دھکیل دیتی ہے اور لوگوں کو بلا وجہ دفاتر کے چکر لگوا کر ذہنی اذیت دی جاتی ہے، واضح رہے کہ اس معاملے پر پہلے بھی مالکان کا واضح اور جامع مؤقف شائع ہو چکا ہے اور اب بھی اگر کوئی فریق چاہے تو شواہد اور حقائق کی بنیاد پر اس کا مؤقف شائع کیا جائے گا، تاہم اہلیانِ کینٹ نے مطالبہ کیا ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ اپنی صفوں میں موجود نااہل فیلڈ اسٹاف کا فوری احتساب کرے ورنہ شہریوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں