
امیرجماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کا سید مودودی اسلامک سنٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب
لاہور: امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے بسنت سے قبل ناقص انتظامات پر شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ بسنت کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بسنت ایک خونی کھیل بن چکا ہے اور اس کی اجازت دینا شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی لاہور نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی بسنت کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی اور عوام کے ساتھ مل کر بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ پریس کانفرنس میں سیکرٹری جماعت اسلامی لاہور اظہر بلال اور کنوینئر پبلک ایڈ کمیٹی قیصر شریف بھی موجود تھے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے شاد باغ میں ڈور پھرنے سے 24 سالہ نوجوان بلال اسلم کے شدید زخمی ہونے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پابندی کے باوجود ڈور پھرنے سے قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جو حکومتی نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی بھی حادثے میں جانی یا مالی نقصان ہوا تو اس کے ذمہ دار کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ انتظامی افسران ہوں گے، جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب بھی اس کی ذمہ داری قبول کریں۔امیر جماعت اسلامی لاہور نے مطالبہ کیا کہ اگر بسنت کرانا ناگزیر ہے تو اسے گنجان آبادیوں میں ہرگز اجازت نہ دی جائے بلکہ صرف کھلے میدانوں تک محدود کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بسنت صرف ایک دن کی ہوتی تھی، اب تین دن تک اس خونی کھیل کو جاری رکھنے کا فیصلہ ناقابل فہم ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بسنت سے قبل نقصان کی صورت میں ذمہ داران کا واضح تعین ہونا چاہیے اور کسی حادثے کی صورت میں ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بسنت پر 30 کروڑ روپے خرچ کرنے کے بجائے ایک لاکھ ہیلمٹ شہریوں میں مفت تقسیم کیے جائیں تاکہ انسانی جانوں کا تحفظ ممکن ہو۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مہنگائی، چینی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافے پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ شہر میں سرکاری ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے عوام شدید اذیت میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے پولیس کے رویے کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ریاست والدین کی حیثیت رکھتی ہے، عوام کو خوفزدہ کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔آخر میں امیر جماعت اسلامی لاہور نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور بسنت کے خلاف قانونی و عوامی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔