کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

پاکستان کے بڑے شہروں کی تنگ و تاریک گلیوں میں بسنے والی کچی آبادیاں محض اینٹوں، ٹین کی چادروں اور مٹی سے بنے گھروں کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ یہ اُن لاکھوں خوابوں کی بستی ہوتی ہیں جو دیہات سے روزگار کی تلاش میں آنے والے مزدوروں، رکشہ ڈرائیوروں، گھریلو ملازموں اور چھوٹے تاجروں کے دلوں میں پلتے ہیں۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان جیسے شہروں کے گرد پھیلی یہ آبادیاں ہمارے معاشرتی نظام کی ایک ایسی حقیقت ہیں جس سے آنکھیں چرائی نہیں جا سکتیں مگر افسوس کہ دہائیوں سے یہ بستیاں ریاستی بے توجہی، قانونی پیچیدگیوں اور سیاسی وعدوں کی نذر ہوتی آ رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں فیڈریشن آف کچی آبادیز پنجاب کی جانب سے صوبائی حکام کو بھیجی گئی ایک درخواست نے ایک مرتبہ پھر اس دیرینہ مسئلے کو اجاگر کیا ہے۔ اس درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پنجاب بھر میں موجود کچی آبادیوں کو ملکیتی حقوق دینے کے لیے واضح اور عملی اقدامات کیے جائیں، خصوصاً ان بستیوں کو جو 1985ء اور 2012ء سے پہلے قائم ہو چکی تھیں۔ بظاہر یہ محض ایک سرکاری مراسلہ معلوم ہوتا ہے مگر اس کے پس منظر میں لاکھوں خاندانوں کی امیدیں، خوف اور مستقبل کی غیر یقینی صورتحال چھپی ہوئی ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ آخر کچی آبادیوں کا مسئلہ پیدا کیوں ہوا؟ قیامِ پاکستان کے بعد شہروں کی طرف ہجرت کا سلسلہ کبھی رکا نہیں۔ صنعتی مراکز، تعلیمی ادارے اور روزگار کے مواقع شہری علاقوں میں مرتکز ہوتے گئے، جب کہ دیہی علاقوں میں سہولتوں کی کمی لوگوں کو شہروں کی طرف دھکیلتی رہی۔ سرکاری رہائشی منصوبے آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا مقابلہ نہ کر سکے، نتیجتاً لوگوں نے خالی سرکاری زمینوں، ریلوے لائنوں کے اطراف اور نہروں کے کناروں پر جھونپڑیاں ڈالنا شروع کر دیں۔ یہی جھونپڑیاں وقت کے ساتھ پختہ کمروں میں بدل گئیں اور یوں کچی آبادیاں وجود میں آئیں۔ ریاست نے مختلف ادوار میں ان بستیوں کو ریگولرائز کرنے کے وعدے کیے۔ کبھی کسی حکومت نے سروے کا اعلان کیا، کبھی پالیسی بنی اور کبھی فائلیں کابینہ تک پہنچتے پہنچتے گرد میں دب گئیں۔ 1985ء اور 2012ء کی پالیسیوں کا حوالہ آج بھی دیا جاتا ہے مگر عملی صورت حال یہ ہے کہ بے شمار خاندان اب تک ملکیتی دستاویز سے محروم ہیں۔ ان کے پاس نہ تو گھر گرانے سے بچنے کی کوئی ضمانت ہے اور نہ ہی وہ اپنے مکان کو قانونی طور پر گروی رکھ کر قرض حاصل کر سکتے ہیں۔ ملکیتی حقوق محض ایک کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہوتے بلکہ یہ انسان کو تحفظ، اعتماد اور ترقی کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔ جب کسی کے پاس اپنے گھر کی قانونی ملکیت ہوتی ہے تو وہ اس کی مرمت، بہتری اور توسیع پر سرمایہ لگانے سے نہیں گھبراتا۔ بچوں کی تعلیم، صاف پانی، نکاسی آب اور بجلی جیسے مسائل بھی تبھی بہتر انداز میں حل ہو سکتے ہیں جب رہائشی خود کو مستقل سمجھیں۔ اس کے برعکس جب ہر وقت بے دخلی کا خوف سر پر منڈلاتا رہے تو کوئی شخص اپنے گھر پر ایک اینٹ بھی لگانے سے پہلے دس بار سوچتا ہے۔ فیڈریشن آف کچی آبادیز کی درخواست میں یہی بنیادی نکتہ اجاگر کیا گیا ہے کہ جن بستیوں کو پہلے ہی جزوی طور پر ملکیتی حقوق دیے جا چکے ہیں، انہیں مکمل طور پر ریگولرائز کیا جائے اور باقی ماندہ خاندانوں کو بھی اس سہولت سے محروم نہ رکھا جائے۔ ساتھ ہی یہ تجویز دی گئی ہے کہ 2012ء سے پہلے قائم ہونے والی آبادیاں بھی قانون کے مطابق اس عمل میں شامل کی جائیں۔ یہ مطالبہ کسی غیر معمولی رعایت کا نہیں بلکہ ایک منظم، شفاف اور منصفانہ پالیسی کا تقاضا ہے۔ تاہم یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ کچی آبادیاں ریگولرائز کرنے کے ساتھ ساتھ مستقبل میں نئی غیر قانونی بستیوں کے قیام کو روکنے کے لیے بھی ٹھوس منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اگر صرف پرانی بستیوں کو قانونی حیثیت دے دی جائے اور شہری منصوبہ بندی میں کوئی بہتری نہ لائی جائے تو مسئلہ دوبارہ سر اٹھائے گا۔ کم آمدنی والے طبقے کے لیے سستے رہائشی منصوبے، کرایہ داروں کے لیے تحفظ اور شہروں کے مضافات میں منظم ہاؤسنگ اسکیمیں اس مسئلے کا مستقل حل ہو سکتی ہیں۔ یہاں سیاسی قیادت کا کردار بھی اہم ہے۔ انتخابی مہمات کے دوران کچی آبادیوں کے مکینوں سے کیے گئے وعدے اکثر ووٹوں کی حد تک محدود رہ جاتے ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد فائلیں دفتروں میں گھومتی رہتی ہیں اور متاثرہ خاندان سالہا سال انتظار کرتے رہتے ہیں۔ اگر صوبائی حکومت واقعی اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے تو محض سمریاں تیار کرنے کے بجائے ٹائم لائن مقرر کی جائے، شفاف طریقے سے سروے ہوں اور مقامی آبادی کو اس عمل میں شریک کیا جائے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض اوقات زمین کی ملکیت کے تنازعات، عدالتی مقدمات اور محکموں کے درمیان اختیارات کی کشمکش اس عمل کو سست کر دیتی ہے۔ کالونیز ڈیپارٹمنٹ، بورڈ آف ریونیو، لوکل گورنمنٹ اور ترقیاتی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کے بغیر کوئی بھی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ ایک مشترکہ ڈیٹا بیس، واضح قوانین اور عوامی آگاہی مہم اس سمت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ کچی آبادیوں کے مسئلے کو صرف قانونی یا انتظامی زاویے سے دیکھنا بھی کافی نہیں۔ یہ دراصل سماجی انصاف کا سوال ہے۔ کیا وہ مزدور جو شہر کی عمارتیں تعمیر کرتا ہے، سڑکیں صاف رکھتا ہے اور گھروں میں کام کرتا ہے، اپنے خاندان کے لیے ایک محفوظ چھت کا حق دار نہیں؟ کیا اس کے بچوں کو یہ خوف لے کر سونا چاہیے کہ کل صبح بلڈوزر آ کر ان کا گھر مسمار کر دے گا؟ یہی وہ سوالات ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کو خود سے پوچھنے چاہئیں۔ دنیا کے کئی ممالک میں غیر رسمی بستیوں کو باقاعدہ شہری علاقوں میں تبدیل کر کے وہاں بنیادی سہولتیں فراہم کی گئیں، جس سے نہ صرف رہائشیوں کی زندگی بہتر ہوئی بلکہ شہر کی مجموعی ترقی میں بھی اضافہ ہوا۔ پاکستان میں بھی اگر نیت اور منصوبہ بندی درست ہو تو یہی ماڈل اپنایا جا سکتا ہے۔ فیڈریشن کی درخواست دراصل حکومت کے لیے ایک موقع ہے۔ ایسا موقع جس سے فائدہ اٹھا کر وہ لاکھوں شہریوں کا اعتماد بحال کر سکتی ہے۔ اگر صوبائی کابینہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے، واضح پالیسی مرتب کرے اور عمل درآمد کو یقینی بنائے تو یہ ایک تاریخی قدم ثابت ہو سکتا ہے، بصورتِ دیگر یہ درخواست بھی ان بے شمار فائلوں میں شامل ہو جائے گی جو الماریوں میں بند ہو کر گرد آلود ہوتی رہتی ہیں۔ آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا کچی آبادیوں کے مکینوں کے لیے بھی وہی قانون، وہی حقوق اور وہی تحفظ ہوگا جو کسی پوش علاقے میں رہنے والے شہری کو حاصل ہے؟ کیا ہم انہیں محض ووٹ بینک سمجھتے رہیں گے یا واقعی انہیں شہری تسلیم کر کے ان کی زندگی بدلنے کی کوشش کریں گے؟ شاید اس کا جواب آنے والے دنوں میں سامنے آ جائے لیکن اگر یہ موقع بھی ضائع ہو گیا تو تاریخ ایک بار پھر یہی لکھے گی کہ ہم نے مسئلہ پہچان تو لیا تھا مگر حل کرنے کی ہمت نہ کر سکے۔ حکومت وقت کو چاہیے اس طرف خصوصی توجہ کر کے عملی اقدامات کرے، اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین