عمران حیدر

سٹاک ہوم سنڈروم ایک نفسیاتی اصطلاح ہے جس سے مراد وہ کیفیت ہے جس میں کوئی فرد یا گروہ اپنے جابر، نقصان پہنچانے والے یا قابو میں رکھنے والے فریق سے ہی ہمدردی، وابستگی یا دفاعی رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ یہ اصطلاح ابتدا میں انفرادی نفسیات کے لیے استعمال ہوئی، مگر وقت کے ساتھ سماجی اور قومی رویّوں کو سمجھنے کا ذریعہ بھی بن گئی۔ اگر 2026 کے پاکستان کو دیکھا جائے تو یہ سوال سنجیدگی سے اٹھتا ہے کہ کیا پاکستانی عوام بھی کسی اجتماعی سٹاک ہوم سنڈروم کا شکار ہو چکے ہیں؟
پاکستانی عوام گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل بحرانوں کی زد میں ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، کمزور عدالتی نظام، تعلیم اور صحت کی گرتی ہوئی حالت اور سیاسی بے یقینی اب وقتی مسائل نہیں رہے بلکہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود ایک بڑا طبقہ نہ صرف ان حالات کو قبول کرتا دکھائی دیتا ہے بلکہ اکثر انہی ڈھانچوں اور فیصلوں کا دفاع بھی کرتا ہے جنہوں نے ان مشکلات کو جنم دیا۔2026 میں بھی حالات میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ اشیائے ضروریہ عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ آمدن اور اخراجات کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے، مگر اجتماعی ردِعمل محدود ہے۔ احتجاج وقتی ہیں، بحث جذباتی اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ یہی خاموشی وہ جگہ ہے جہاں اجتماعی ذہن آہستہ آہستہ سمجھوتہ کرنا سیکھ لیتا ہے۔
اس تناظر میں یہ بات واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان کی افواج کا کردار محض ایک ادارے تک محدود نہیں۔ ایک ایسے خطے میں جہاں سرحدی خطرات، دہشت گردی اور علاقائی عدم استحکام مستقل حقیقت ہیں۔افواج پاکستان کی جغرافیائی سلامتی، داخلی استحکام اور ریاستی تسلسل کے لیے ناگزیر ستون کی حیثیت رکھتی ہیں۔ سرحدوں کا تحفظ، قدرتی آفات میں امداد اور قومی سلامتی کے چیلنجز سے نمٹنا وہ ذمہ داریاں ہیں جن کے بغیر پاکستان کا وجود خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔
مسئلہ اداروں کی ضرورت نہیں، مسئلہ توازن کا ہے۔ ایک مضبوط ریاست کے لیے طاقتور دفاع کے ساتھ ساتھ مضبوط معیشت، فعال جمہوریت اور بااعتماد شہری بھی ضروری ہوتے ہیں۔ جب عوام کی معاشی اور سماجی مشکلات طویل ہو جائیں تو وہ ہر طاقتور ڈھانچے سے امید باندھنے لگتے ہیں اور یوں سوال کرنے کے بجائے جذباتی وابستگی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سٹاک ہوم سنڈروم کی اجتماعی شکل جنم لیتی ہے۔یہ کہنا بھی ناانصافی ہوگی کہ تمام ذمہ داری کسی ایک ادارے پر ڈال دی جائے۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ بارہا سول اداروں کی کمزوری، سیاسی عدم بلوغت اور بدعنوانی نے ایسے خلا پیدا کیے جنہیں پُر کرنے کے لیے دیگر ریاستی ستونوں کو آگے آنا پڑا۔ ایسے حالات میں افواج کا کردار اکثر ایک استحکامی قوت کے طور پر سامنے آیا، جس نے ریاست کو مکمل انتشار سے بچایا۔
تاہم 2026 کا تقاضا یہ ہے کہ استحکام کو مستقل حل سمجھنے کے بجائے ایک عبوری ضرورت کے طور پر دیکھا جائے۔ قومی سلامتی صرف سرحدوں کے تحفظ سے مکمل نہیں ہوتی، بلکہ شہری کے جان و مال، عزت، روزگار اور انصاف کے تحفظ سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ اگر عوام مسلسل دباؤ میں رہیں تو وہ آہستہ آہستہ اپنے دکھ کو معمول سمجھنے لگتے ہیں، یہی ذہنی کیفیت ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔اسلام سمیت تمام الہامی مذاہب میں عدل، توازن اور جواب دہی کو بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے۔ اسلام طاقت کو امانت سمجھتا ہے اور امانت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر فریق اپنی حدود میں رہ کر قوم کی خدمت کرے۔ صبر کو خاموشی نہیں بلکہ شعور، حکمت اور حق گوئی کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
نیا سال پاکستان ایک نازک مگر فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ مسلح افواج کی مضبوطی اور ملکی دفاع نہایت ضروری ہیں، مگر اسی کے ساتھ شہری زندگی کا وقار، معاشی انصاف اور ادارہ جاتی توازن بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ کسی ایک ستون پر ضرورت سے زیادہ انحصار باقی ستونوں کو کمزور کر دیتا ہے، اور کمزور ستون پوری عمارت کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔سٹاک ہوم سنڈروم سے نکلنے کا راستہ کسی ادارے کی نفی نہیں، بلکہ شعور کی بحالی ہے۔ سوال اٹھانا، بہتر نظام کا مطالبہ کرنا اور ذمہ داری کا تعین کرنا ریاست دشمنی نہیں بلکہ ریاست کی بقا کی علامت ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو مضبوط دفاع کی ضرورت ہے یا نہیں، وہ ضرورت ایک حقیقت ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم 2026 میں ایک ایسا متوازن، باوقار اور باشعور معاشرہ بننے کے لیے تیار ہیں جہاں طاقت، اختیار اور عوامی فلاح ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ معاون ہوں۔