
بسنت کے نام پرسات گھرانوں کے چراغ گل اوردرجنوں زندگی بھر کیلئے معذور ہوگئے ۔
بسنت کے تین روز میں 7 ہلاکتیں،100 سے زائد زخمی نام نہاد حفاظتی انتظامات بری طرح ناکام ہوئے ۔
ناچ گانے، فحاشی اور جان لیوا سرگرمیوں کو ثقافت کے نام پر فروغ دینا افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔
امیرجماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ
لاہور( )امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے بسنت کے دوران نوجوانوں اور بچوں کی ہلاکتوں اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے پر شدید افسوس اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتِ پنجاب، بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے بسنت جیسے جان لیوا کھیل کی اجازت دینا ایک سنگین انتظامی اور اخلاقی ناکامی ہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق تین روزہ بسنت کے دوران 7 افراد جاں بحق جبکہ100سے زائدافراد زخمی ہوئے، جن میں اکثریت پتنگ کی ڈور کے مہلک وار اور چھتوں سے گرنے جیسے واقعات کا شکار بنی۔ یہ اعداد و شمار حکومت کے ان دعوؤں کی نفی کرتے ہیں جن میں بسنت کو محفوظ اور کامیاب قرار دیا جا رہا ہے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ بسنت کے نام پر خونی کھیل کی اجازت دے کر پنجاب حکومت نے سینکڑوں گھروں میں ماتم کا ماحول پیدا کر دیا۔ سات خاندان اپنے پیاروں سے محروم ہو گئے جبکہ درجنوں افراد زندگی بھر کیلئے اپاہج ہو گئے، مگر افسوس کہ حکومت کی جانب سے جشن اور کامیابی کے دعوے تو سامنے آئے،متاثرہ خاندانوں کیلئے نہ کوئی ریلیف پیکج دیا گیا اور نہ ہی حکومتی سطح پر کوئی ذمہ داری قبول کی گئی۔ امیر لاہورنے مزید کہا کہ ایسا کھیل یا شوق جو انسانی جانوں کے ضیاع اور معصوم بچوں کی ہلاکت کا سبب بنے، کسی صورت تفریح یا ثقافت نہیں ہو سکتا۔ ناچ گانے، فحاشی اور جان لیوا سرگرمیوں کو ثقافت کے نام پر فروغ دینا افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔آئندہ ایسی جان لیوا سرگرمیوں پرمکمل اور مستقل پابندی عائد کی جائے۔