
لاہور (سدرہ شہزاد) اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF)، وزارت داخلہ و کنٹرولِ منشیات (MoI&NC)، اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (UNODC)، اور امریکی وزارتِ خارجہ کے انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لا انفورسمنٹ ادارہ (INL) کے زیرِ انتظام، نیشنل کاؤنٹر نارکوٹکس کوآرڈینیشن سینٹر (NCNC2) کے آپریشنل فریم ورک اور گورننس ماڈل کی پالیسی منظوری کے سلسلے میں قومی ورکشاپ اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ ورکشاپ میں انٹر ایجنسی ٹاسک فورس (IATF) کے تحت وفاقی و صوبائی ریگولیٹری/ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ دار نمائندوں نے شرکت کی۔
ورکشاپ کا آغاز، ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عبدالمعید HI(M) کے افتتاحی خطاب سے ہوا، جس کے بعد INL کے پروگرام افسر برائے کاؤنٹر نارکوٹکس آسٹن ویسٹن ہوفر اور UNODC پاکستان کے کنٹری ہیڈ ٹرولز ویسٹر نےبھی خطاب کیا۔ مقررین نے ادارہ جاتی ہم آہنگی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور پائیدار بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
اے این ایف کے ڈائریکٹر انفورسمنٹ بریگیڈیئر سید عمران علی نے شرکاء کو NCNC2 کے آپریشنل فریم ورک پر تفصیلی بریفنگ دی، بریفنگ میں فیوژن سینٹر کے گورننس ماڈل، ایس او پیز، مرحلہ وار نفاذ اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کی وضاحت شامل تھی۔ ورکشاپ کا مقصد پالیسی منظوری کو حتمی شکل دینا، بین الاٰیجنسی ہم آہنگی کو مضبوط کرنا، اور NCNC2 کے لیے واضح ذمہ داریاں اور فیصلہ سازی کے طریقہ کار کو طے کرنا تھا۔
تمام شرکاء ورکشاپ نے گفتگو میں حصہ لیا اور پیش کیے جانے والے نکات پر سیر حاصل بحث کی اور مزید بہتری کے لیے تجاویز بھی دیں۔ آخر میں ان سفارشات کو باہمی مشاورت کے بعد کثرت رائے سے منظور کیا گیا ۔
تمام شریک اداروں نے مشترکہ ہم آہنگی، NCNC2 کے بروقت نفاذ، اور مؤثر عملدرآمد کے لیے باقاعدہ فالو اپ کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
ورکشاپ کے اختتام پر ڈی جی اے این ایف میجر جنرل عبدالمعید نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ این سی این سی ٹو کا پلیٹ فارم مستقبل میں انسدادِ منشیات کے مؤثر نظام کی صورت میں سامنے آئیگا اور بروقت اور بر محل ڈیٹا استعمال سے مستقبل کی پالیسیوں پر مثبت اثرات کے ساتھ پاکستان کو منشیات سے پاک کرنے کے مشن میں معاون ثابت ہوگا۔