25

چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ،انچارج بلڈنگ عظمت کی بروقت کاروائی مافیا کی حوصلے پست



غیر متعلقہ افراد کو وردی والا بتا کر بلڈنگ بائی لاز کی دھجیاں اڑانے والوں کے اثاثے چیک کیے جائیں، ذرائع

کوئی بھی چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گا
راولپنڈی (مدثر الیاس کیانی) چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ میں غیر قانونی تعمیرات سے متعلق خبر شائع ہونے کے فوری بعد بلڈنگ سیکشن کے انچارج عظمت نے بروقت اور عملی اقدام کرتے ہوئے صبح سویرے کالٹیکس روڈ کا دورہ کیا اور وہاں زیرِ تعمیر تمام عمارتوں کا تفصیلی معائنہ کیا۔
انچارج عظمت نے اس موقع پر واضح کیا کہ ستون نمبر چھ (Boundary Pillar) کا علاقہ چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور یہاں ہونے والی تمام تعمیرات کنٹونمنٹ کے قوانین کے مطابق ہونی چاہئیں۔تاہم انہوں نے بتایا کہ متعلقہ عمارتوں کے نقشے راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) سے منظور شدہ ہیں کیونکہ آر ڈی اے اس علاقے کو اپنی حدود میں کلیم کرتا ہے۔اس ابہام کو دور کرنے کے لیے دونوں اداروں کے درمیان متعدد میٹنگز ہو چکی ہیں جبکہ معاملہ عدالت میں بھی زیرِ سماعت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ سی ای او چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے واضح احکامات کے مطابق زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے اور بلڈنگ بائی لاز کی کسی بھی خلاف ورزی پر بلا امتیاز فوری کارروائی کی جائے گی،چاہے خلاف ورزی کرنے والا کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔علاقہ مکینوں اور شہریوں نے انچارج عظمت کے فیلڈ ایکشن اور دوٹوک مؤقف کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر اسی طرح ایمانداری، فیلڈ موجودگی اور زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کام جاری رہا تو غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا اور کنٹونمنٹ بورڈ کو ریونیو نقصان سے بھی بچایا جا سکے گا۔ذرائع کے مطابق ماضی میں بلڈنگ سیکشن کے بعض اہلکار،جن میں ایریا انسپیکٹر اور سپر چیکر شامل ہیں، رشوت کے عوض غیر قانونی کمرشل دکانوں اور یونٹس کی اجازت دیتے رہے۔ابتدائی دنوں میں اپنے ہی افراد کو وردی پہنا کر تعینات کیا جاتا تھا تاکہ کوئی شہری،صحافی یا ادارہ سوال نہ اٹھا سکے۔ شہریوں کے مطابق جب ان غیر قانونی اقدامات پر اعتراض کیا جاتا تو کبھی کہا جاتا کہ متعلقہ افراد انچارج کے رشتہ دار ہیں اور کبھی مؤقف اختیار کیا جاتا کہ “ڈائریکٹر کی اجازت” حاصل ہے، جس کے باعث اصل شکایات دبائی جاتی رہیں اور قانون کی عملداری عملاً مفلوج ہو گئی۔مزید یہ بھی انکشاف ہوا کہ بعض انسپیکٹرز خود ہی ڈمی درخواستیں ادارے میں جمع کراتے تاکہ پارٹی سے زیادہ رقم وصول کی جا سکے۔ان غیر قانونی سرگرمیوں کے ذریعے کروڑوں روپے کمائے گئے اور نوٹوں کی چمک نے کنٹونمنٹ بورڈ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا، جس سے شہریوں میں یہ تاثر پیدا ہوا کہ قوانین صرف غریب اور بے بس افراد پر لاگو ہوتے ہیں جبکہ طاقتور افراد کے لیے سب کچھ “مینج” کر لیا جاتا ہے۔عوامی اور سماجی حلقوں نے وزارتِ دفاع، ملٹری لینڈز اینڈ کنٹونمنٹ ڈیپارٹمنٹ (ML&C) اور چکلالہ کنٹونمنٹ بورڈ کے سی ای او سے مطالبہ کیا ہے کہ ان سنگین بے ضابطگیوں کا بھی فوری نوٹس لیا جائے، باقاعدہ شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے اور ایسے اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے جنہوں نے ادارے کو نقصان پہنچا کر کروڑوں کی جائیدادیں بنائیں۔کوئی بھی چاہے تو شواہد کے ساتھ اپنا موقف دے سکتا ہے جسکو ادارہ اپنی غیر جانبدرانہ پالیسی کے مطابق مناسب جگہ فراہم کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں