18

محلہ اسلام نگر بہاولنگر میں صاف پانی کا سنگین بحران

کالم نگار: محمد شہزاد بھٹی

​کہتے ہیں کہ چراغ کے تلے اندھیرا ہوتا ہے لیکن بہاولنگر کے محلہ اسلام نگر میں اس محاورے کی حقیقی تصویر کو عملی صورت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ محلہ اسلام نگر فورڈواہ نہر سے کچھ دور تھوڑے ہی فاصلہ پر واقع ہے جہاں سے پورے شہر کی رگوں میں خون کی طرح پانی دوڑانے والی ٹربائنیں لگی ہیں یعنی جہاں سے پورے بہاولنگر کو پانی کی سپلائی جاتی ہے اور محلہ اسلام نگر کے مکیں آج بھی صاف پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں۔ محلہ اسلام نگر کے مکینوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں دستیاب زمینی پانی انتہائی کھارا ہے جو پینے کے قابل نہیں۔ مجبوری کے تحت استعمال ہونے والا یہ پانی صحت کے لیے سنگین خطرات کا باعث بن رہا ہے۔ دوسری جانب محلے میں موجود قدیم واٹر سپلائی لائنیں جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، جن کے باعث ان لائنوں میں نالیوں اور سیوریج کا گندا پانی شامل ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کہیں پانی آ بھی جائے تو وہ بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔ صاف پانی کی عدم دستیابی نے اہلِ علاقہ کو دور دراز فلٹریشن پلانٹس کا رخ کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بزرگ، خواتین اور بچے کافی سفر طے کر کے پانی لاتے ہیں جو نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ انسانی وقار کے بھی منافی ہے۔ گرمیوں کے موسم میں یہ صورتحال مزید اذیت ناک ہو جاتی ہے۔ یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ پورے شہر کی واٹر سپلائی کی دو بڑی مین لائنیں محلہ اسلام نگر کے مشرق اور دو مغرب سے گزرتی ہیں مزید یہ کہ محلہ اسلام نگر کے لیے واٹر سپلائی کی ٹربائن بھی نصب کی جا چکی ہے۔ اب صرف محلے کی گلیوں میں واٹر سپلائی لائنیں بچھانا باقی ہیں تو کیا صرف گلیوں میں پائپ بچھانا کوئی مریخ پر مشن بھیجنے جیسا مشکل کام ہے؟ یاد رہے، اب اس کے لیے کسی بڑے فنڈ یا طویل المدت منصوبے کی ضرورت نہیں بلکہ محدود وسائل میں یہ مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے مگر اس کے باوجود کوئی عملی پیش رفت نظر نہیں آتی۔ اس حوالے سے سابق چیئرمین بیت المال بہاولنگر چوہدری محمد اسلم نے ایم این اے میاں عالم داد لالیكا کے کہنے پر محلہ اسلام نگر کی تمام گلیوں کا باقاعدہ سروے کروایا اور فیزیبلٹی رپورٹ تیار کروا کے متعلقہ ایم این اے تک پہنچائی مگر اس کے باوجود آج تک کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آ سکا، اب اس رپورٹ پر مٹی کی تہیں جم رہی ہونگی یا اسے کسی الماری کے پائے کے نیچے توازن برقرار رکھنے کے لیے شاید رکھ دیا گیا ہو، یہ ایک معمہ ہے۔ میاں عالم داد لالیكا مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے تیسری مرتبہ ایم این اے منتخب ہو چکے ہیں۔ ہر انتخابی مہم کے دوران ان کی طرف سے صاف پانی کی فراہمی کے وعدے کیے گئے مگر محلہ اسلام نگر کے عوام آج بھی ان وعدوں کی تکمیل کے منتظر ہیں۔ ستم ظریفی کی انتہا یہ ہے کہ چیئرمین صاف پانی اتھارٹی پنجاب چوہدری زاہد اکرم کا تعلق بھی ضلع بہاولنگر سے ہے مگر اس کے باوجود ان کے اپنے ضلع کا ایک محلہ بنیادی سہولت سے محروم ہے جو انتظامی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ محلہ اسلام نگر کے عوام ڈپٹی کمشنر بہاولنگر ذوالفقار احمد بھون، ایم پی اے بہاولنگر سہیل خاں زاہد، ایم این اے میاں عالم داد لالیكا، چیئرمین صاف پانی اتھارٹی پنجاب چوہدری زاہد اکرم اور بالخصوص وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے اور محلہ اسلام نگر کے مکین اب مزید وعدوں کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ یہاں کے لوگ ٹیکس دیتے ہیں، یہاں کے لوگ ووٹ دیتے ہیں اور بدلے میں انہیں ملتا ہے “کھارا پانی” اور “جھوٹے وعدے”۔ وزیر اعلی مریم نواز شریف صاحبہ! آپ تو پنجاب کی بیٹی بن کر خدمت کا عزم رکھتی ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ صوبہ پنجاب کے ضلع بہاولنگر میں محلہ اسلام نگر ایسا بھی ہے جہاں “خدمت” کا سفر پائپ لائنوں کے چند فٹ کے فاصلے پر آ کر رک گیا ہے؟ کیا “پنجاب سپیڈ” یہاں آ کر پنکچر ہو گئی ہے؟ کیا انتظامیہ صرف پروٹوکول دینے کے لیے ہے یا عوامی مسائل کے حل کے لیے بھی؟ایم پی اے اور ایم این اے صاحب کیا آپ کی ذمہ داری صرف فیتے کاٹنا ہے یا ان ٹوٹی ہوئی لائنوں کی مرمت کروانا بھی؟ اسلام نگر کے مکیں مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر تیار شدہ فیزیبلٹی رپورٹ پر عمل درآمد کیا جائے۔ گلیوں میں نئی واٹر سپلائی لائنیں بچھائی جائیں۔ سیوریج ملے پانی کی فراہمی کا فی الفور سدِباب کیا جائے تاکہ محلہ اسلام نگر بہاولنگر میں صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اللّه کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں