
تحریر: عاصم نواز طاہرخیلی (تربیلہ غازی)
ہمارے معاشرے میں مردوں نے ہمیشہ ایک سے زیادہ شادیاں روا رکھنے کے لیے اسلام میں اسکی اجازت اور نبی پاکؐ کی گیارہ شادیوں کے حوالے پر زور دیئے رکھا۔اسی طرح زیادہ تر واعظ نبی پاکؐ کی زلفیں “والیل” اور چہرہ مبارک “والضحی” سے تک محدود رہے۔
ان باتوں سے کچھ انکار نہیں، یہ سو فیصد سچ ہیں اور ہمارے عشق نبیﷺ کا حصہ ہے لیکن کچھ انداز فکر کو تبدیل کر کے دیکھا جائے تو مزید بھی بہت کچھ کُھلتا ہے۔ کیا ہم نے کبھی یہ سوچا کہ حضور پاکؐ نے اپنی جوانی کے 25 سال ایک ہی شادی کی۔ آپ نے دوسری شادی حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد کی۔ ہر بار کنواری دوشیزہ ڈھونڈنے والوں کو یہ بھی علم ہونا چاہیے کہ آپؐ کی ازواج مطہرات میں حضرت عائشہؓ کے علاوہ باقی تمام بیوہ و مطلقہ تھیں۔ یعنی اسلام میں شادی کا مقصد بےآسرا عورت کو ٹھکانہ دے کر عزت بخشنی ہے ناکہ کچھ اور۔
کیا کبھی ہماری سوچ کو اس طرف بھی کرایا گیا ہے کہ عرب کے جس معاشرے میں لوگ غربت کے ہاتھوں لوٹ مار میں مصروف رہتے تھے وہاں حضرت محمدؐ کس نے کیسے ایسی کایا پلٹ تبدیلی لائی کہ زکواۃ تک لینے والا کوئی نہ رہا۔
ہم ہمیشہ سے یہود و نصاری کی دشمنی کا درس دیتے نظر آتے ہیں، لیکن ہمیں یہ بھی تو علم ہونا چاہیے کہ میثاق مدینہ کے وقت یہودیوں کے دس قبائل نبی پاکؐ کے اتحادی تھے۔ جب کسی ملک میں گستاخی ہوتی ہے تو ہم اپنے ملک میں جلاؤ گھیراؤ احتجاج شروع کر کے خود کو ہی نقصان دینے پر تل جاتے ہیں۔فرانس والا واقعہ اس کی بڑی مثال ہے۔ کیا ہم نے کبھی اسلام کی تاریخ سے یہ نہیں سیکھا کہ نبی کریمؐ نے دشمنانِ اسلام کو معاشی طور پر کمزور کر کے بدلہ لیا۔
کفار مکہ شام سے تجارت میں بہت کماتے تھے۔آپؐ نے ان کے راستے پر واقع قبائل سے تعلقات استوار کر کے مشرکین مکہ کی تجارت کا راستہ بند کروایا۔ پھر جب دوسرے راستے سے یمن جانے لگے تو آپ نے وہاں بھی مختلف معاہدے کر کے قریش کا راستہ روک دیا۔ آپؐ نے اپنے ملک میں کبھی آگ نہیں لگائی یا لگوائی بلکہ دشمن کو معاشی طور پر کمزور کرکے اس کی کمر توڑ دی۔ پریشان ہوکر ابو سفیان نے حاضری دی اور بچوں کے فاقوں کی دہائی دی تب اسے نبی کریمؐ کی طرف سے پانچ سو اشرفیاں اور بہترین کھجوریں بطور امداد اور تجارت کرنے کی اجازت ملی۔ یعنی دشمن کے خلاف احتجاجوں کے بجائے آپؐ نے ان کی معاشی طور پر کمر توڑی اور پھر جب وہی دشمن بطور انسان رحم کی بھیک مانگنے آئے تو آپ نے ان کی مدد کر کے اپنی برتری ثابت کی۔
نبی پاکؐ (رحمت اللعالمینؐ، شاہِ دو عالمؐ) کی زات بابرکات کی شخصیت کا بطور نبیؐ احاطہ کرنا تو مجھ کم علم کیلیے بلکہ کسی کے لیے بھی ممکن نہیں۔البتہ وہ مسلمانوں کے لیے عملی نمونہ تھے اس لیے ان کی زات کو میں بطور انسان اپنی محدود سوچ کے مطابق مندرجہ زیل خصوصیات سے مزین پاتا ہوں۔
1..ایک عظیم مدبر: آپ نے اپنی حسن تدبیر سے صلح حدیبیہ جیسے معاہدے کئے۔ بظاہر کمزور گردانے والے یہی معاہدے بعد میں فتح مکہ کا باعث بنے۔اسی طرح دشمنان کے ارادے جاننے کے لیے حضرت ابو ہریرہؓ کو جاسوس مقرر کیا۔
2..ایک عظیم سفارت کار: اپنے مخالفین کے دوستوں سے تعلقات استوار کر کے آپ نے مخالفین کا اثر کم کیا۔آپ نے کمال ذہانت سے صلح حدیبیہ میں اہل مکہ سے معائدہ کر کے خیبر اور اہل مکہ کے مشرکین کو جدا کر کے شکست دی۔
3:ایک باکمال سپہ سالار: مدینہ شہر کو اس کے واحد زمینی راستے پر خندق کھود کے بچانا اور یہودیوں کے دس قبائل سے معاہدے کر کے مسلمانوں کے لیے جنگی اخراجات اور دہگر معاملات میں مدد ان کی باکمال سپہ سالاری کا ثبوت تھا۔
4: ایک بہترین منتظم: آپ نے بہترین نظامت سے ایک اسلامی ریاست کو بام عروج پر پہنچایا۔ پولیس اور انصاف کا بہترین نظام اور مختلف ریاستوں کے گورنر نامزد کر کے امور مملکت کو عمدہ ترین طریقے سے چلا کر دکھایا۔
5:ایک بہترین معلم: آپ اک بہترین معلم تھے۔آپ کی دی گئی تعلیم سے مزین صحابہ نے دنیا بدل کر رکھ دی۔ صفہ کا قیام عمل میں لا کر لوگوں کی تعلیم و تربیت کا بندوبست کیا۔
مندرجہ بالا خصوصیات کی بدولت آپ ساری دنیا کے دانشوروں اور عظیم ہستیوں میں عظیم ترین مقام پر فائز ہیں۔
اب زرا ہمیں اپنی اداؤں پر غور کرتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ کیا ہم اپنے عظیم ترین نبیؐ کے مقام،مرتبے اور وقار کے ساتھ انصاف کر رہے ہیں؟
کیا ہمارے اعلی ترین نبیؐ کی شخصیت صرف چاند کو توڑنے، واقعہ معراج، ہتھیلی میں کنکروں کے بول اٹھنے اور ایسے دوسرے معجزات تک ہی محدود ہے؟
کیا بطور بشر آپ کے کمالات کچھ کم تھے کہ ان کا بیان کم یا پھر نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟
میرا خیال ہے کہ آپؐ نے بطور بشر زندگی کے ایک اک گوشے کو رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے عملی نمونہ بنا کر پیش کیا۔ساری کائنات کے شاہ ہو کر بھی آپ نے فاقے گزارے اور اس حالت میں بھی غریب پروری کی مثال قائم کی، پیوند لگے کپڑوں پہن کر ہر قسم کے غرور کو پاؤں تلے روندا اور اپنے کام خود سر انجام دے کر وہ مثالیں قائم کیں جو ہر خاص و عام کے لیے زندگی گزارنے کا عملی درس بنیں۔آپ نے تن تنہا ایک ایسی اسلامی فلاحی ریاست کا قیام عمل میں لا کر دکھایا جسے دیکھ کر قیصر و قصری اور فارس جیسی بڑی بڑی عسکری و معاشی طاقتیں سرنگوں ہوئیں۔آپؐ وہ بشری معراج تھے کہ پھر ان کے بعد کسی دوسرے نبی کی ضرورت نہ رہی۔
کیا حضرت یوسفؑ کا صرف حسن و جمال ہی بیان کیا جانا چاہیے؟ میرا خیال ہے کہ یوسفؑ اپنے ملک کے سات سالہ قحط کو جس معاشی پلان کے تحت ختم کر دکھایا اس کا زکر اس دنیا کے لیے زیادہ ضروری ہے۔
ہمیں یہ تو بتایا جاتا ہے کہ حضرت سلیمانؑ کی سلطنت بہت وسیع تھی۔ان کا رعب و دبدبہ صرف انسانوں پر ہی نہ تھا بلکہ جنات بھی ان کے ماتحت تھے۔
بے شک یہ بات بالکل درست ہے لیکن کیا ان کی بہترین سیاسی بصیرت جس کے باعث
ان کے ملک فلسطین صنعتی معیشت اور ملکہ بلقیس کے ملک یمن کی زرعی معیشت دو طرفہ معاہدوں کے زریعے دونوں ممالک میں خطے کی خوشحالی کا ایسا دور دورہ ہوا کہ جس کا زکر نہ کر کے آج کے جدید معاشرے کو معاشی مسائل کے بہترین حل و نمونے سے دور نہیں رکھا جارہا؟
آج بھی ہمارا دور جاہلیت جیسے فسادات کا شکار ہے، ہر طرف بےحیائی ہے، انسانیت سسک رہی ہے، عزتیں نیلام ہو رہی ہیں، مذہب کے نام قتل و غارت جاری ہے، لوگ اعلی و ادنی کی تقسیم کا شکار ہیں۔
کیا تھی وہ حضرت عیسیٰ کی عدم تشدد پر مبنی سوچ کہ جس نے پورے معاشرے کو تبفیل کر کے رکھ دیا؟
کیا تھی وہ حضرت موسیٰ کی فرعون کے خلاف وہ بغاوت کہ جس میں کوئی قتل بھی نہ ہوا اور آزادی بھی مل گئی؟
کیا تھا حضرت یوسف کی معاشی پالیسی کہ جس نے قحط سالی ختم کی؟
کیا تھا حضرت سلیمان کی اتنی بڑی سلطنت کی خوشحالی کا راز؟
کیا تھی نبی آخرالزماں حضرت محمدؐ کی طرز زندگی کہ جس نے تمام دنیا کیلیے اک نمونہ اسلامی فلاحی ریاست قائم کر دکھائی اور بڑی بڑی معاشی طاقتوں کو سرنگوں کر دکھایا۔
المختصر آج انسانیت کو معجزوں سے زیادہ ان کے کردار اور ان پالیسیوں کا تعارف چاہیے کہ جن کی بنیاد پر اپنے دور کی اقلیت سے اکثریت پر غالب ہوئے۔ بے شک ان کے ساتھ اللہ تعالی کی مدد تھی لیکن ان کی زندگی کو اللہ تعالی نے آزمائشوں اور ان کے کردار کے زریعے رہتی دنیا تک نمونہ بھی اسی لیے بنایا تھا کہ ان کی زندگیوں سے سیکھا جائے اور اپنے معاشرے کو بہترین اصولوں پر کھڑا کیا جائے۔