14

ڈی جی واسااورایم ڈی واسا کی دانستہ غفلت و بہانے، ایکسین فیصل سرور کاکیس اینٹی کرپشن کے حوالے

ایڈیشنل DG اینٹی کرپشن کا ریکوری کرنے کی یقین دہانی

ڈی جی واسا پنجاب کاسیکرٹری کے حکم پر بھی انکوائری نہ کروانا کرپٹ افسر کو پروٹیکشن دینے کے مترادف، ایم ڈی ٹھیکیداروں کو تیزی سے ادائیگیاں کروانے میں مصروف

ایم ڈی کے ذاتی قانون میں ثبوتوں کے ساتھ تحریری شکایات ردی ۔!! ایکسین ا ور ٹھیکیداروںکے غیر قانونی دستاویزات جھٹ پٹ پاس، دوہرے معیار کی اصل چہرہ شناسی

ڈائریکٹر (O&M) اقبال ٹائون بھی PPC کی دفعہ 163کے مرتکب، غفران ماضی میں بطور ایکسین اقبال ٹائون اینٹی کرپشن کی E-107/23 میں FIRکے دہانے پر موجود

ایم ڈی کی جانب سے انکوائری نہ کروانے کا مقصد ڈائریکٹر فنانس واسا سے ادائیگیوں کا کام لینا ہے، ڈائریکٹر فنانس کو بھی دی گئی تحریری شکایت رائیگاں، آوے کا آوہ ہی بگڑہ ہوا ہے

ثبوتوں کی وصولی کے بعد4منٹ میں ہونے والا فیصلہ 4مہینوں پر محیط کرنے پر 7عدد افسرانِ بالا کی کارکردگی کا پول کھل گیا، سرکاری خزانے سے خطیر فنڈز خرد برد کا سراغ مل گیا۔!!

لاہور (نیوز انویسٹی گیشن سیل،عمر حیات چوہدری) محکمہ واسا لاہور میں آوے کا آوہ ہی بگڑے جانے کا تہلکہ خیز انکشاف سامنے آیا ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس والی مثال اس محکمے پر لگتی محسوس ہو رہی ہے میگا کرپشن اور غیر قانونی پریکٹس کی بدولت قومی خزانے کا تقریباً1.5ارب روپے کا نقصان ریکور ہونے کی بجائے متعلقہ کرپٹ ٹولوںکے اکائونٹوں میں سیو ہوتا چلا جا رہا ہے اقبال ٹائون O&M-1ڈویژن میں تقریباً 1.5ارب کا میگا کرپشن اسکینڈل کیس محکمہ کے افسران بالا کے لئے معمولی حیثیت والا کیس قرار پانا نہائیت تشویشناک ہے تفصیلات کے مطابق ایکسین فیصل سرور غیر قانونی پریکٹس کے باوجود پروٹیکشن لئے ہوئے ہے ثبوتوں کی وصولی کے بعد4منٹ میں ہونے والا فیصلہ 4مہینوں پر محیط کرنے پر 7عدد افسرانِ بالا کی کارکردگی کا پول کھل گیاہے اور سرکاری خزانے سے خطیر فنڈز خرد برد کا سراغ مل گیا۔!! ایم ڈی کے ذاتی قانون میں ثبوتوں کے ساتھ تحریری شکایات ردی ہیںجبکہ ایکسین ا ور ٹھیکیداروںکے غیر قانونی دستاویزات جھٹ پٹ پاس ہوتے ہیں اس دوہرے معیار کی اصل چہرہ شناسی ہو تی نظر آ رہی ہے ڈی جی واسا پنجاب کاسیکرٹری کے حکم پر بھی انکوائری نہ کروانا کرپٹ افسر کو پروٹیکشن دینے کے مترادف ہے دوسری جانب ایم ڈی واسا لاہور اپنے ٹھیکیداروں کو تیزی سے ادائیگیاں کروانے میں مصروف ہیں جس کے نتیجے میں محکمہ 1.5ارب روپے کے اسیکنڈل کی انکوائری اور ریکوری کروانے سے صاف طور پر گُریزاں ہے دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ موجودہ ڈائریکٹر (O&M) اقبال ٹائون غفران بھی اس کیس میں ملوث ہونے پر PPC کی دفعہ 163کے مرتکب قرار پانے کے واضح اشارے ہیں مزید دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ ڈائریکٹر غفران ماضی میں بطور ایکسین اقبال ٹائون تعیناتی کے دوران اینٹی کرپشن کی انکوائری نمبری E-107/23 میں FIRکے دہانے پر موجود ہیںجو نا معلوم وجوہات کی بناء پر پینڈنگ ہے کمپلینر /شہری نے اس کو منطقی انجام پر پہنچانے کیلئے سر توڑ کوششیں کرنا شروع کر دی ہیںکرپٹ ایکسین فیصل سرور کی میگا کرپشن ،مبینہ غیر قانونی پریکٹس کا کیس محکمہ کے DG واسا پنجاب کے آفس میں ثبوتوں کے ساتھ جمع کرایا گیا، پھر ایم ڈی واسا لاہور کو ،پھر ڈی ایم ڈی (O&M ) واسا ، پھر ڈی ایم ڈی (F&R) واسا، پھر ڈائریکٹر (ایڈمن) واسا لاہور، پھر ڈائریکٹر(فنانس) واسا، پھرڈائریکٹر (O&M) واسا اقبال ٹائون کو تحریری شکایات بمہ ثبوت لف دی گئیں مگر اس پر ایم ڈی سمیت تمام افسران بالا نے اس پر کان نہ دھرے اُلٹا اس غیر قانونی پریکٹس سے میگا کرپشن ہونے کی نشاندہی پر ٹھیکیداروں کو ادائیگیوں کا سلسلہ مزید تیز کر دیا گیا جو نہائیت ہی تشویشناک امر ہے اس دانستہ غفلت یا غالب گمان حصہ پتی منسوب یا پُشت پناہی وغیرہ کی وجوہات پر اس کیس کو مسلسل 4مہینوں سے لٹکا کر کمپلینر کو ایک بار بھی سنے بغیر کھڈے لائن لگا رکھا ہے جس کے بعد اس کیس کو اینٹی کرپشن میں فائل کر دیا گیا ہے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نے ثبوتوں کے ساتھ تحریری شکایت پر آرڈر کرتے ہوئے فوری طور پر اس کی انکوائری کروانے کے ساتھ ساتھ سرکاری خزانے سے غیر قانونی طریقے سے لوٹی گئی خطیر رقم کی بازیابی بھی کروانے کی مکمل یقین دہانی کروائی گئی ہے دیکھتے ہیں اب اُونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں