45

دہشت گردی کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے

تحریر:حافظ محمد صالح

پاکستان کو درپیش سب سے سنگین اور پیچیدہ مسئلہ اس وقت دہشت گردی ہے، جو محض ایک سیکیورٹی چیلنج نہیں بلکہ ریاستی بقا، قومی وحدت اور سماجی استحکام کا امتحان بن چکا ہے۔گزشتہ دو دہائیوں سے یہ مسئلہ مختلف صورتوں میں سامنے آتا رہا ہے، کبھی مذہبی انتہا پسندی کے نام پر،کبھی علیحدگی پسندی کے لبادے میں اورکبھی بیرونی ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے۔جب سیاستدان، مذہبی رہنما یا مقامی طاقتور حلقے ریاست دشمن عناصرکے ساتھ نرم رویہ اختیارکرتے ہیں تو وہ دراصل ریاستی رِٹ کو کمزور کرتے ہیں۔ دہشت گردی کبھی یکطرفہ عمل نہیں ہوتی، اس کے لیے سہولت کاری، خاموش حمایت اور نظریاتی جواز درکار ہوتا ہے، اگر کسی خطے میں یہ تمام عوامل جمع ہو جائیں تو وہاں دہشت گردی کا فروغ ناگزیر ہو جاتا ہے۔بھارت کی سرپرستی میں افغانستان دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے اور دنیا بھرکی مختلف دہشت گرد تنظیمیںجن میں القاعدہ، داعش، ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور دیگر انتہاپسند تنظیمیں اور جرائم پیشہ گروہ شامل ہیں افغانستان سے آپریٹ کر رہی ہیں۔افغانستان میں ایک ایسی فضا بنائی گئی ہے جس میں تشدد اور انتہاپسندی کو مزاحمت اور دہشت گردی کو جہاد کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔اس بیانیے نے نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے میں انتہا پسند سوچ کو تقویت دی۔ نوجوانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ سیاسی جدوجہد، آئینی راستے اور مکالمہ غیر ضروری ہیں، اصل طاقت اسلحے میں ہے، یہ سوچ انتہائی خطرناک ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے گزشتہ دنوں اپنی پریس کانفرنس میں درست نشاندہی کی تھی کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ محض فوج کی جنگ نہیں بلکہ یہ پاکستان اور ریاست پاکستان کی جنگ ہے۔ اس جنگ سے نمٹنا یا اس کا مقابلہ کرنا حکومت سمیت تمام فریقوں کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ میںیہ دیکھ رہا ہوں کہ اس جنگ کی ساری ذمے داری فوج کے کندھوں پر ڈال دی گئی ہے۔حکمران طبقات نجی مجالس میں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ یہ جنگ ہماری نہیں بلکہ افواج پاکستان کی جنگ ہے۔ اسی لیے اس جنگ میں پارلیمنٹ اور سیاسی قیادت کا کردار محدود نظر آتا ہے، خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن پر وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کے درمیان بھی تقسیم دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ صوبائی حکومت نے دو ماہ قبل دہشت گردی کے خلاف جنگ سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ جرگہ بلایا تھا۔ جرگے میں حکومت اور اپوزیشن سمیت پارلیمنٹ سے باہر موجود تمام جماعتوں، قبائلی عمائدین اور میڈیا کے لوگوں کو دعوت دی گئی تھی ۔اس جرگے کے مشترکہ اعلامیہ میں صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی اور فوجی آپریشن کے بارے میں صوبائی حکومت سمیت تمام جماعتوں اور فریقوں کو اعتماد میں لے کر فیصلہ سازی کو یقینی بنایا جائے۔ لیکن بدقسمتی سے ابھی تک ہمیں وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور کے پی کے کی صوبائی حکومت کے درمیان ان معاملات پر کوئی تعاون اور اتفاق رائے دیکھنے کو نہیں مل رہا۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں اس طرح کی بیان بازی یا الزام تراشی کوئی اچھی بات نہیں، اس سے یقینی طور پر پہلے سے موجود تلخیوں میں اور زیادہ اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اس وقت پاکستان کے دو صوبے یعنی بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ ایک طرف بھارت کی جانب سے ہمیں خطرات کا سامنا ہے تو دوسری طرف بھارت اور افغانستان کے درمیان پاکستان کے خلاف باہمی گٹھ جوڑ بھی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا حصہ بنا ہوا ہے۔ ہمیں بھارت اور افغانستان کی جانب سے ایک پراکسی جنگ کا سامنا بھی ہے۔ ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے ہمیں داخلی طور پر اتفاق رائے اور متفقہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔ لیکن اس کے مقابلے میں پاکستان میں جاری سیاسی محاذ آرائی، ٹکراﺅاور تناﺅکی وجہ سے سیاست میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا بھرپور فائدہ دہشت گرد اٹھا رہے ہیں۔ اصولی طور پر تو وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی کے درمیان فوجی آپریشن کے حوالے سے مذاکرات ہونے چاہیے تھے اور جو بھی قدم اٹھایا جاتا وہ سب کی مرضی اور منشا کے مطابق ہوتا۔ یہ بات بھی ذہن نشین رکھیں کہ فوجی آپریشن پر تحفظات محض پی ٹی آئی کو ہی نہیں ہے بلکہ مولانا فضل الرحمن بھی فوجی آپریشن کی مخالفت کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ اے این پی بھی حکومتی موقف کے برعکس ہے۔ اس لیے جس صوبے میں فوجی آپریشن ہونا ہے وہاں کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا اور بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔پارلیمنٹ کا ان کیمرہ سیشن اس مسئلے پر طلب کر کے اتفاق رائے پیدا کرنا ضروری ہے۔ اس معاملے کو اگر جذباتیت یا محض الزام تراشیوں کی بنیاد پر لے کر آگے چلنا ہے تو اس سے نہ صرف ٹکراﺅپیدا ہوگا بلکہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں کامیابی ممکن نہیں ہوسکے گی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ حالیہ کچھ عرصے میں افغانستان کا طرز عمل پاکستان کے حوالے سے کافی مایوس کن ہے۔ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر افغانستان کی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنے ملک میں دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی ختم کر دیں اور اگر وہ افغان سرزمین دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں تو ان کے خلاف ایکشن لیا جانا چاہیے۔ پاکستان کے دونوں صوبے بلوچستان اور خبر پختون خوا ملکی سلامتی کے تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں اور اگر ان دونوں صوبوں کے حالات میں بہتری نہیں آتی اور دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہوتا تو پھر سیاسی اور معاشی استحکام بھی بہت پیچھے چلا جائے گا۔ اس لیے پاکستان کی سیاسی قیادت کو ان اہم معاملات میں زیادہ تدبر کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور تلخیوں کو کم کرنا ہو گا۔
دہشت گردی کے مسئلے کو عسکری یا سیکیورٹی زاویے سے دیکھنا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ متبادل بیانئے کی تشکیل کے لیے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم میں ہمہ جہت تبدیلیاں بھی ناگزیر ہیں۔جدید نظام تعلیم جس میں رد انتہاپسندی نصاب کا حصہ ہو، جب تک ان تمام پہلوو¿ں پر بیک وقت کام نہیں کیا جائے گا، دہشت گردی کی جڑیں مکمل طور پر نہیں کاٹی جا سکتیں۔ تعلیمی نظام کا کردار دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم کا معیار اور نصاب دونوں ہی کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف طویل المدتی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اصلاحات کو قومی سلامتی کا حصہ سمجھا جائے، نہ کہ محض ایک انتظامی مسئلہ۔مذہبی بیانیہ بھی اس جنگ کا ایک اہم محاذ ہے۔دہشت گرد تنظیمیں اکثر مذہب کا سہارا لے کر اپنے اقدامات کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس صورت حال میں علما اور مذہبی رہنماو¿ں کی ذمے داری دوچند ہو جاتی ہے۔انھیں واضح اور دو ٹوک انداز میں یہ بتانا ہوگا کہ بے گناہ انسانوں کا قتل، ریاست کے خلاف مسلح بغاوت اور خوف و ہراس پھیلانا اسلام کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے، اگر مذہبی طبقہ اس حوالے سے خاموش رہے یا مبہم مو¿قف اختیار کرے تو اس کا فائدہ انتہا پسند عناصر کو پہنچتا ہے۔ریاست کو بھی چاہیے کہ ایسے علما اور مذہبی اداروں کی حوصلہ افزائی کرے جو امن، برداشت اور قانون کی بالادستی کا پیغام دیتے ہیں۔معاشی عوامل کو بھی دہشت گردی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔غربت، بے روزگاری اور سماجی ناانصافی ایسے عناصر ہیں جو نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ جب کسی نوجوان کو تعلیم، روزگار اور بہتر مستقبل کی امید نظر نہیں آتی تو وہ آسانی سے ایسے گروہوں کے جال میں پھنس سکتا ہے جو اسے مقصد، شناخت اور مالی سہولت کا لالچ دیتے ہیں۔ عدالتی نظام کا کردار بھی اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ دہشت گردی کے مقدمات کا بروقت اور شفاف فیصلہ ہونا عوام کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہے۔ اگر دہشت گرد گرفتار ہو کر قانونی پیچیدگیوں یا کمزور تفتیش کے باعث رہا ہو جائیں تو یہ نہ صرف سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو ضایع کرتا ہے بلکہ دہشت گردوں کے حوصلے بھی بلند کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں