49

انتظامیہ سوات سرینا ہوٹل ملازمین دیگر ہوٹلوں میں ایڈجسٹ کرے:عجب خان


صدر مملکت ، وزیر اعظم ، گورنر اور وزیر اعلیٰ ملازمین کو بے روزگاری سے بچانے کیلئے ہنگامی اقدامات کریں
کوئٹہ سرینا ہوٹل لیبر یونین (سی بی اے) کے چارٹر آف ڈیمانڈپر عملدرآمد کیا جائے: اجلاس سے خطاب
اسلام آباد( نمائندہ خصوصی)کوئٹہ سرینا ہوٹل لیبر یونین (سی بی اے) نے سرینا ہوٹل انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سوات سرینا ہوٹل کی بندش کے سبب بے روزگار ہونے والے ملازمین کو سرینا گروپ کے دیگر ہوٹلوں میں ایڈجسٹ کیا جائے یا پھر تمام ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک کی طرز پر مکمل مالی مراعات فراہم کی جائیں جبکہ کوئٹہ سرینا ہوٹل لیبر یونین (سی بی اے) کے چارٹر آف ڈیمانڈپر عملدرآمد کیا جائے۔یہ مطالبات کوئٹہ سرینا ہوٹل لیبر یونین (سی بی اے)کی جنرل باڈی اجلاس کے دوران کیے گئے۔ جنرل باڈی کا اجلاس صدر حاجی عجب خان کی قیادت میں منعقد ہوا جا میں جنرل سیکرٹری خادم حسین بھٹی ،سینئر نائب صدر محمد غوت ،جوائنٹ سیکرٹری رانا محمد عتیق ، پریس سیکرٹری محمد حسین،آفس سیکرٹری محمد رفیق ،فنانس سیکرٹری حاجی محمد صادق، سپورٹس سیکرٹری محمد حفیظ سمیت دیگر ارکین نے شرکت کی۔اجلاس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کوئٹہ سرینا ہوٹل لیبر یونین (سی بی اے) کے صدرحاجی عجب خان نے کہا کہ سوات سرینا ہوٹل انتظامیہ نے ایک سو سے زائد ملازمین کو فارغ کرکے بے روز گار کر دیاہے جس سے سینکڑوں خاندانوں معاشی مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں ،متاثرہ ملازمین طویل عرصے سے سرینا ہوٹل سوات سے وابستہ رہے اور اپنی عملی زندگی کا قیمتی حصہ سرینا ہوٹل کو دیا ہے، تاہم اچانک برطرفی کے بعد اب ان کیلئے متبادل روزگار کا حصول انتہائی مشکل ہو گیا ہے، ملازمین اس وقت فاقہ کشی اور بے روزگاری کے دہانے پر کھڑے ہیںلہٰذا سوات سرینا ہوٹل کی انتظامیہ برطرف کیے گئے تمام ملازمین کو مکمل پنشن اور دیگر مراعات دے تاکہ وہ باعزت طریقے سے اپنی زندگی گزار سکیں۔ کوئٹہ سرینا ہوٹل لیبر یونین (سی بی اے) کے صدرحاجی عجب خان نے کہا کہ سوات سرینا ہوٹل طویل عرصے تک وادی سوات کی پہچان رہا اور اس کی بندش سے خطے کی سیاحتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے لہٰذاصدر مملکت آصف علی زردار ، وزیر اعظم شہباز شریف ، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور متاثرہ خاندانوں کو بے روزگاری اور معاشی تباہی سے بچانے کیلئے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں