ریفرنڈم کمشنر سابق صدر لاہورہائی کورٹ بار شفقت محمود چوہان کی طرف سے پولنگ اسٹیشنز کو بیلٹ بکس اور بیلٹ جاری کر دئیے گئے۔
لاہور کے 30 صوبائی حلقوں میں 1400 پولنگ اسٹیشن قائم ہونگے۔17,16,15 اور 18 جنوری کو لاہور بھر میں پنجاب حکومت کے بلدیاتی کالے قانون کے حوالے سے ریفرنڈم ہوگا۔لاہور کے عوام بلدیاتی قانون پر عدم اعتماد کریں۔
امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کی عوامی ریفرنڈم کی حتمی تیاریوں پر بریفنگ
لاہور (عمرحیات چوہدری)امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے عوامی ریفرنڈم کی حتمی تیاریوں کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئیے کہا کہ جماعت اسلامی کے بلدیاتی کالے قانون کے خلاف عوامی ریفرنڈم کے لیے انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔ ریفرنڈم کمشنر سابق صدر لاہورہائی کورٹ بار شفقت محمود چوہان کی طرف سے پولنگ اسٹیشنز کو بیلٹ بکس اور بیلٹ جاری کر دئیے گئے۔لاہور کے 30 صوبائی حلقوں میں 1400 پولنگ اسٹیشن قائم ہونگے۔17,16,15 اور 18 جنوری کو لاہور بھر میں پنجاب حکومت کے بلدیاتی کالے قانون کے حوالے سے ریفرنڈم ہوگا۔ چار روزہ لاہور کے عوام بلدیاتی قانون پر عدم اعتماد کریں۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی لاہور نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس عوامی ریفرنڈم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور آن لائن اپنی رائے دینے کے لیے https://poll.jamaat.org/](https://poll.jamaat.org/ویب پر جا کر ووٹ دیں یا فراہم کردہ QR کوڈ کے ذریعے اپنی رائے کا اندار کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریفرنڈم کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ عوام کے حقِ حکمرانی، مقامی جمہوریت اور بااختیار بلدیاتی نظام کے تحفظ کی جدوجہد ہے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ بلدیاتی نظام کو مؤثر، بااختیار اور آئینی بنانے کے لیے جماعت اسلامی کی جانب سے 15 جنوری 2026 سے عوامی ریفرنڈم کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں عوام اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کریں گے۔جماعت اسلامی اس عوامی ریفرنڈم کے ذریعے عوام سے اس بات پر رائے لے رہی ہے کہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہونے چاہئیں، تاکہ سیاسی جماعتیں مقامی سطح پر جوابدہ نظام فراہم کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوکل چیئرمین کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹوں کے ذریعے ہونا چاہیے تاکہ حقیقی نمائندگی ممکن ہو۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا کہ بلدیاتی حکومتوں کو آئین کے مطابق مکمل مالی، سیاسی اور انتظامی اختیارات دیے جائیں اور منتخب بلدیاتی نمائندوں کو بااختیار بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری افسران اور بیوروکریسی کو منتخب بلدیاتی نمائندوں کے ماتحت ہونا چاہیے تاکہ عوامی مسائل فوری اور مؤثر انداز میں حل ہو سکیں۔انہوں نے پنجاب بلدیاتی ایکٹ 2025 کو آئین اور جمہوری اصولوں کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک کالا قانون ہے جو مقامی جمہوریت اور عوامی حقِ حکمرانی کو سلب کرتا ہے۔ جماعت اسلامی اس قانون کو مسترد کرتی ہے اور اس کے خلاف عوامی سطح پر بھرپور
آواز بلند کر رہی ہے
