8

حکیم الامت علامہ اقبالؒ کا رومانوی عکستحریر: عاصم نواز طاہرخیلی ( غازی/ہریپور)

شاعری میں غزل کو ہمیشہ سے رومانوی جذبات کے اظہار کا معتبر ترین ذریعہ سمجھا گیا ہے، جہاں حسن و عشق، وصل و ہجر اور شاعر کے داخلی معاملاتِ دل کو تہذیبی پس منظر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ عام طور پر کسی بھی بڑے شاعر کا ابتدائی کلام عشقیہ واردات اور محبوب کے سراپے سے عبارت ہوتا ہے۔ اگرچہ علامہ اقبال کی شہرت ان کے فلسفیانہ اور حکیمانہ افکار کی وجہ سے ہے، لیکن ان کا ابتدائی دورِ شاعری داغ دہلوی جیسی شوخی اور غالب جیسی نکتہ آفرینی کا حسین امتزاج تھا۔ اقبال کی شاعری کو صرف ایک محدود فلسفیانہ زاویے سے دیکھنا دراصل ان کی ہمہ گیر شخصیت کے ساتھ ناانصافی ہے۔
​حقیقت یہ ہے کہ اقبال کا عہدِ شباب بھی دیگر شعرا کی طرح جذبات کی تمازت اور رومانویت سے بھرپور تھا۔ اقبال نے کیمبرج سے بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ایران میں ‘مابعدالطبعیات کا ارتقا’ نامی مقالہ لکھا اور اسی سلسلے میں 1907 میں جرمنی کی میونخ یونیورسٹی پہنچے، جہاں ان کی ملاقات ایما ویگناسٹ سے ہوئی۔ 29 سالہ ایما، اقبال سے دو سال چھوٹی اور قد میں ایک انچ لمبی تھی۔ وہ نہ صرف فلسفہ و شاعری سے شغف رکھتی تھی بلکہ یونانی، فرانسیسی اور جرمن زبانوں پر بھی دسترس رکھتی تھی۔ یہی علمی اشتراک دونوں کے درمیان قربت کا سبب بنا۔ اس وقت اقبال اگرچہ شادی شدہ تھے، مگر وہ شادی ان کی مرضی کے خلاف تھی جس کی وجہ سے وہ گھریلو زندگی میں ناخوش تھے۔ ایما کی رفاقت میں انہیں وہ ذہنی و قلبی سکون ملا جس کی تلاش میں وہ مدتوں سے سرگرداں تھے۔ ان کی نظم “وصال” کا یہ بند اسی کیفیتِ تشفی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے:

​جستجو جس گل کی تڑپاتی تھی اے بلبل مجھے
خوبیِ قسمت سے آخر مل گیا وہ گل مجھے
​مدتوں جس کی تڑپ میں کٹ گئی عمرِ رواں
وہ تپش، وہ درد، وہ سوزِ دروں اب ہے کہاں؟

​اقبال کی رومانویت محض روایتی وصال کی خواہش نہیں تھی، بلکہ ان کے ہاں عشقِ مجازی کا ایک خاص ‘فلسفہ خلوت و جلوت’ ملتا ہے۔ وہ محبوب کے حسن کو دیکھ کر کائنات کے اسرار تلاش کرتے تھے۔ ان کے نزدیک “خوبصورتی” ایک ایسی حقیقت ہے جو انسان کو مادی دنیا سے بلند کر کے روحانیت کی طرف لے جاتی ہے۔ ان کی نظم “ایک شام” (جو ہائیڈل برگ کے دریائے نیکر کے کنارے لکھی گئی) اس کی بہترین مثال ہے، جہاں فطرت کی خاموشی اور محبوب کی یاد مل کر ایک عجب رومانوی فضا تخلیق کرتی ہے۔ ایما کی قربت میں اقبال کو ایک عجیب طرح کی وارفتگی اور آزادی کا احساس ہوتا تھا، جس کا اظہار انہوں نے اس شعر میں بھی کیا:

​قید میں آیا تو حاصل مجھ کو آزادی ہوئی
دل کے لُٹ جانے سے میرے گھر کی آبادی ہوئی

​اقبال جرمنی میں صرف ایما سے متاثر نہیں ہوئے بلکہ وہاں کے عظیم رومانوی شاعر گوئٹے سے بھی ان کی ذہنی ہم آہنگی بڑھی۔ گوئٹے کی طرح اقبال بھی سمجھتے تھے کہ عشق ہی وہ جذبہ ہے جو انسان کی شخصیت (خودی) کو پختہ کرتا ہے۔ جرمنی کے قیام نے اقبال کو یہ احساس دلایا کہ عقل کی منزلیں عشق کے بغیر ادھوری ہیں۔ ان کے ہاں ‘عقل و دل’ کی جو کشمکش ملتی ہے، اس کی بنیادیں اسی دورِ شباب کی رومانویت میں پیوست ہیں۔ ایما کے نام ان کے خطوط اس دلی وابستگی کا ثبوت ہیں۔ 21 جنوری 1908 کو لندن سے لکھے گئے ایک خط میں وہ لکھتے ہیں: “میں ہمیشہ آپ کے بارے میں سوچتا رہتا ہوں اور میرا دل ہمیشہ بڑے خوبصورت خیالوں سے معمور رہتا ہے۔”
​اقبال کے ہاں عورت کا احترام اور ‘فرد’ کا تصور بھی نہایت منفرد ہے۔ عام رومانوی شعرا عورت کو محض ایک “شے” کے طور پر برتتے ہیں، لیکن اقبال نے اسے ایک باصلاحیت فرد کے طور پر دیکھا۔ وہ ایما کی ذہانت کے معترف تھے۔ اقبال کی رومانویت میں عقیدت اور احترام کا عنصر غالب ہے۔ وہ محبوب کی ذہنی ہم آہنگی کو جسمانی قربت پر ترجیح دیتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں وہ ابتذال نہیں ملتا جو روایتی عشقیہ شاعری کا حصہ رہا ہے۔ عطیہ فیضی کی یادداشتوں سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ ایک دن ایما ورزش کر رہی تھیں اور اقبال ٹکٹکی باندھ کر انہیں تکے جارہے تھے۔ ٹوکنے پر کہنے لگے: “میں فلکیات دان بن گیا ہوں اور ستاروں کے جھرمٹ کا مشاہدہ کر رہا ہوں۔” عطیہ نے یہ بھی ذکر کیا کہ اقبال ایما کے ساتھ رقص بھی کیا کرتے تھے، اگرچہ وہ اس فن میں کافی اناڑی تھے۔
​اقبال نے اپنی عشقیہ شاعری میں صنفِ مخالف کو محض ایک خیالی پیکر نہیں بلکہ ایک جیتا جاگتا ‘فرد’ تسلیم کیا۔ ان کے ہاں مبالغہ آرائی کے بجائے وہ سچے تجربات ملتے ہیں جن سے وہ خود گزرے۔ ماہرینِ اقبال جو انہیں صرف ایک خشک فلسفی کے طور پر پیش کرتے ہیں، وہ شاید بھول جاتے ہیں کہ انسانی عشق کی ناکامی اور اس سے پیدا ہونے والے سوز نے ہی اقبال کے کلام کو وہ گداز بخشا جو بعد میں ‘عشقِ حقیقی’ کی بنیاد بنا۔ بقولِ اقبال:

​غمِ جوانی کو جگا دیتا ہے لطفِ خواب سے
ساز یہ بیدار ہوتا ہے اسی مضراب سے

​اقبال کی زندگی کے یہ رومانوی نقوش نہ مٹائے جا سکتے ہیں اور نہ ہی انہیں چھپانا ممکن ہے، کیونکہ یہی وہ انسانی جذبات تھے جنہوں نے ان کے فکر کو آفاقیت بخشی اور انہیں عالمی ادب کے عظیم شعراء کی صف میں لا کھڑا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں