
شہری علاقوں میں خونی کھیل بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ثقافتی تہواروں کے مخالف نہیں ، بسنت خونی کھیل نہ بنیں ، شدید تحفظات ہیں ۔
بسنت میں کسی جانی نقصان کی ذمہ داری کمشنر ، ڈی سی لاہور و دیگر ذمہ داران ہوں گے ۔
امیرجماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ عدالت سے رجوع کریں گے ۔
لاہور: امیرجماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے حکومت پنجاب کے بسنت کی تیاریوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے کہا کہ جماعت اسلامی ثقافتی تہواروں کی مخالف نہیں، تاہم بسنت کو خونی کھیل بننے سے روکنا حکومتِ پنجاب کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جماعت اسلامی کے مطابق بسنت کا انعقاد گنجان آباد علاقوں میں انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتا ہے، جس پر حکومت پنجاب کی تیاریوں پر ہمیں شدید تحفظات ہیں ۔ بسنت کو صرف شہر کے کھلے اور مخصوص میدانوں تک محدود کیا جائے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ خطرناک دھاتی ڈور اور بے لگام پتنگ بازی کے باعث ماضی میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جسے کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔امیر لاہور نے کہا کہ اگر بسنت کے دوران کسی قسم کا جانی نقصان ہوا تو اس کی مکمل ذمہ داری کمشنر لاہور، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر متعلقہ حکام پر عائد ہو گی۔ حکومت کی جانب سے مؤثر حفاظتی اقدامات اور واضح پالیسی کے بغیر بسنت کے انعقاد کو شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے ۔ امیر لاہور نے اعلان کیا ہے کہ شہریوں کے تحفظ کی ضمانت کے لیے آئندہ ایک دو دن میں عدالت سے رجوع کیا جائے گا، تاکہ دھاتی ڈور، بجلی کی تاروں کے قریب پتنگ بازی اور گنجان علاقوں میں بسنت منانے پر مؤثر پابندی کو یقینی بنایا جا سکے۔