3

بھاٹی گیٹ واقعہ محض حادثہ نہیں، انتظامی غفلت کا نتیجہ ہے



کھلے گٹر میں گرنے والی ماں بیٹی کی موت کا ذمہ داران کون ہیں؟

واقعے کے بعد انتظامیہ نے خاتون اور بچی کے گرنے کی خبر کو جھوٹ قرار دیا۔


واقعہ کو سنجیدگی سے نہ لینے کی وجہ سے ماں بیٹی زندگی بازی ہار گئیں,بروقت ریسکیو ہونا چاہیے تھا۔


بھاٹی گیٹ میں کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والی ماں بیٹی کے افسوسناک واقعے پر امیر جماعت اسلامی لاہور کا شدید ردِعمل


لاہور: امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے بھاٹی گیٹ کے علاقے میں کھلے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے والی ماں اور اس کی 9 ماہ کی بچی کے المناک واقعے پر گہرے دکھ اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ محض حادثہ نہیں بلکہ انتظامی غفلت، نااہلی اور مجرمانہ لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ شہر میں موجود کھلے گٹروں کا ذمہ دار کون ہے اور معصوم جانوں کے ضیاع کا حساب کون دے گا؟امیر جماعت اسلامی لاہور نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے فوراً بعد لاہور انتظامیہ کی جانب سے خاتون اور بچی کے گٹر میں گرنے کی اطلاعات کو جھوٹ قرار دیناانتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ تھا۔ اگر اس واقعے کو ابتدا ہی میں سنجیدگی سے لیا جاتا اور بروقت ریسکیو آپریشن کیا جاتا تو شاید قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا تھا۔انہوں نے کہا کہ شورکوٹ سے تعلق رکھنے والی سعدیہاور ان کی 9 ماہ کی بیٹی اندھیرے کے باعث کھلے گٹر میں گر گئیں۔ بعد ازاں خاتون اور بچی کی لاش کا کھلے نالے سے برآمد ہونا انتظامیہ کی بدترین کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے مطالبہ کیا کہ اس سانحے کے ذمہ دار تمام افسران اور متعلقہ محکموں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے اور حادثے کے بعد فوری اقدامات نہ کرنے والے افسران کو بھی جوابدہ ٹھہرایا جائے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی لاہور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور ایسے المناک واقعات پر خاموشی اختیار نہیں کی جائے گی۔ جاری کردہ میڈیا سیل جماعت اسلامی لاہور

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں