وزیراعلی پنجاب سے فوری طوری طور پر خونی بسنت پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہیں
گلی محلوں اور گنجان آبادیوں میں بسنت منانے کی اجازت دینا عوام کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے
گزشتہ 18 گھنٹوں میں بسنت کے مختلف حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 31 سے زائد شہری زخمی ہو چکے ہیں
امیرجماعت سلامی لاہور ضیاالدین انصاری ایڈووکیٹ کی جنرل ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو
لاہور (نمائندہ خصوصی)بسنت کے دوران پتنگ کی ڈور سے زخمی ہونے والے 37 سالہ محمد یسین کی جنرل ہسپتال لاہور میں عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ بسنت اب کسی صورت تفریح نہیں رہی بلکہ یہ خونی کھیل بن چکی ہے، گزشتہ 18 گھنٹوں میں بسنت کے مختلف حادثات کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق اور 31 سے زائد شہری زخمی ہو چکے ہیں، گلی محلوں اور گنجان آبادیوں میں بسنت منانے کی اجازت دینا عوام کی جانوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔اس موق پر صدر پبلک ایڈ کمیٹی لاہور قیصرشریف ،قامی قائدین حافظ لیق شاہد ، ڈاکٹر برہان ، غلام حسین تبسم بھی عیادت کے وفد میں شامل تھے ۔امیر لاہور نے مطالبہ کیا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب فوری طور پر بسنت پر مکمل پابندی عائد کریں، اگر بسنت کی اجازت دینی ہی تھی تو اسے کھلے میدانوں یا دریائے راوی کے کنارے مخصوص مقامات تک محدود کیا جانا چاہیے تھا، بسنت کے نام پر گھروں کے چراغ بجھ رہے ہیں، قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، لہٰذا بسنت کے دوران تمام حادثات کی ذمہ داری صوبائی حکومت بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب پر عائد ہوتی ہےاور ایف آئی آربھی ان پر ہی درج ہونی چاہیے ۔



