تحریر: عاصم نواز طاہرخیلی (کھڑی گندگر، ہری پور ہزارہ)

برطانوی مفکر برٹرینڈ رسل کا کہنا تھا کہ “اخلاق کے بغیر انسان محض ایک مہذب درندہ ہے”۔ آج اگر ہم اپنے اردگرد کے حالات کا ماتم کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے بستیوں کو تو جدید کر لیا، مگر اپنے اندر کے انسان کو پتھر کے دور میں ہی چھوڑ آئے ہیں۔ ہم اس دورِ پرآشوب میں جی رہے ہیں جہاں مٹی کے گھر تو پکے ہو گئے، مگر رشتوں کی بنیادیں کچی پڑ چکی ہیں۔ ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ڈگریوں کے انبار لگ گئے لیکن ‘آدمی’ کو ‘انسان’ بنانے والی تربیت کہیں کھو گئی۔ ہم نے چہروں پر تہذیب کا غازہ تو مل لیا، مگر دل حسد، کینہ اور نفرت کی آماجگاہ بن چکے ہیں۔
سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شخص مصلحِ قوم بنا پھرتا ہے؛ ڈیجیٹل سکرینوں پر اخلاقیات کے دریا بہائے جاتے ہیں، لیکن حقیقت کی زمین پر وہی شخص اپنے سگے بھائی کی کامیابی پر کانٹے بچھانے سے دریغ نہیں کرتا۔ یہ منافقت کا وہ عروج ہے جہاں بظاہر چہرہ فرشتہ صفت دکھائی دیتا ہے اور اندرونِ خانہ سازشوں کا جال بنا ہوتا ہے۔ جدیدیت کے اس سحر میں ہم نے ‘کنیٹیویٹی’ تو پا لی، مگر ‘تعلق’ کھو دیا۔ آج ایک ہی دسترخوان پر بیٹھے چار افراد کے جسم تو ساتھ ہوتے ہیں، مگر ان کی روحیں سمارٹ فون کی ورچوئل دنیا میں بھٹک رہی ہوتی ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ اب کسی حادثے کی جگہ پر لوگ ‘مدد’ کے لیے ہاتھ بڑھانے کے بجائے ‘ویڈیو’ بنانے کے لیے موبائل نکال لیتے ہیں۔ انسانی تڑپ اور سسکیوں کو لائیکس اور ویوز کی ترازو میں تولا جانے لگا ہے۔ کیا ضمیر کی اس سے بڑی بنجر زمین اور کوئی ہوگی کہ ہم دوسرے کے دکھ کو اپنی ریٹنگ کا ذریعہ بنا لیں؟
آج کا معاشرہ ‘دولت’ کو پیمانہِ شرافت تسلیم کر چکا ہے۔ غریب کی بیٹی محض ‘جہیز’ کے بھاری بوجھ تلے دب کر اپنے خوابوں کی خود ہی قبر کھود لیتی ہے، جبکہ دوسری طرف مادیت پرستی کا یہ حال ہے کہ دولت کی خاطر عمر کے تفاوت کو بھی بالائے طاق رکھ دیا جاتا ہے۔ رشتوں کا تقدس اب صرف بینک بیلنس کی مرہونِ منت رہ گیا ہے۔ رہی سہی کسر موجودہ معاشی گھٹن نے پوری کر دی ہے، جہاں ‘ضرورت’ اب ‘لالچ’ کا روپ دھار چکی ہے۔ ہم وہ قوم بن چکے ہیں جو رمضان میں برکتیں سمیٹنے کے دعوے تو کرتی ہے، مگر منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعے غریب کے منہ سے نوالہ چھیننے میں ذرا برابر بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔ جب معیشت انسانیت سے عاری ہو جائے، تو معاشرہ بازار بن جاتا ہے اور رشتے سوداگری۔ کیا یہ وہی معاشرہ ہے جہاں پڑوسی کا حق اپنی جان سے بڑھ کر سمجھا جاتا تھا؟ آج پڑوسی بھوکا سو جائے یا کسی مصیبت میں ہو، ہمیں اس کی خبر تک نہیں ہوتی، کیونکہ ہم اپنی ‘مصنوعی دنیا’ میں مگن ہیں۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہم نے مذہب کو بھی محض اپنی سہولت کا آلہ بنا لیا ہے۔ مساجد و مدارس کے منبروں سے اتحاد کا درس غائب ہے اور مسلکی تعصب کی دکانیں چمک رہی ہیں۔ ہم پانچ وقت سجدہ ریز تو ہوتے ہیں، مگر اسی پیشانی کے ساتھ یتیموں کا حق مارنے اور بہنوں کو جائیداد سے محروم رکھنے میں ذرا شرم محسوس نہیں کرتے۔ معاشرے کا ہر ادارہ—چاہے وہ تھانہ ہو، ہسپتال ہو یا ایوانِ اقتدار—بے حسی کی تصویر بن چکا ہے۔ انصاف بک رہا ہے اور سچائی گوشہ نشین ہو چکی ہے۔ عدمِ برداشت کا یہ عالم ہے کہ اختلافِ رائے کو اب دشمنی سمجھا جاتا ہے۔ سوشل میڈیا کے کمنٹس سیکشن گالی گلوچ اور تضحیک کے وہ میدان بن چکے ہیں جہاں دلیل مر جاتی ہے اور انا جیت جاتی ہے۔
گھر کی چاردیواری، جسے کبھی حیا کا قلعہ کہا جاتا تھا، اب موبائل فون کی دستک سے لرز رہی ہے۔ والدین اور اولاد کے درمیان ‘مکالمہ’ ختم ہو کر ‘مفادات’ کی جنگ میں بدل گیا ہے۔ مائیں جو کبھی بیٹیوں کی بہترین معلمہ اور رازدار ہوا کرتی تھیں، اب خود بھی اس ڈیجیٹل دوڑ کا حصہ بن کر رہ گئی ہیں۔ نئی نسل نکاح جیسے مضبوط بندھن کو کچے دھاگے کی طرح توڑ رہی ہے کیونکہ برداشت اور قربانی کا مادہ ختم ہو چکا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ معاشرے میں “آوے کا آوا” ہی بگڑ چکا ہے، لیکن مایوسی کفر ہے۔ اگر ہم اب بھی نہ سنبھلے تو آنے والی نسلیں ہمیں صرف ایک عبرت ناک داستان کے طور پر یاد رکھیں گی۔ نجات کا راستہ صرف ایک ہی ہے: اپنی اصل کی طرف واپسی۔ ہمیں اپنے کردار کی تعمیرِ نو اسوہِ حسنہ ﷺ کی روشنی میں کرنا ہوگی۔ ہمیں اس جدید ٹیکنالوجی کے دور میں ‘حقیقی انسانیت’ کو زندہ کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی نسلِ نو کو صرف ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہی نہیں، بلکہ ایک ‘دردمند انسان’ بننا سکھانا ہوگا۔ جب تک ہر فرد اپنی ذات سے اصلاح کا آغاز نہیں کرے گا، معاشرے کا یہ زوال کسی معجزے سے نہیں رکے گا۔ دعا ہے کہ باری تعالیٰ ہمیں ہدایت دے اور ہمیں اسلامی اخلاقی اصولوں پر چلتے ہوئے اپنے معاشرے کی حقیقی اصلاح کا ذریعہ بنائے، آمین۔