3

سیاسی جنونیت میں اندھے اور ریاست دشمنی

تحریر : شہزاد بھٹی

​پاکستانی سیاست میں “یوتھیا” کی اصطلاح اب محض ایک سیاسی حامی کی پہچان نہیں رہی بلکہ یہ ایک مخصوص طرزِ فکر کی علامت بن چکی ہے جہاں شخصیت کی پرستش اکثر ریاست کی محبت پر غالب آ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں ان جذباتی حامیوں کی ایسی اقسام سامنے آئی ہیں جو ہر اس قومی کامیابی کی مخالفت کرتے ہیں جو ان کے سیاسی بت کے دورِ اقتدار میں نہ ہوئی ہو۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ان نفسیاتی مریضوں کی ہے جن کا فکری تضاد اب کھل کر سامنے آ چکا ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب “آپریشن بنیان المرصوص” ہوا اور بھارت کے ساتھ جنگی صورتحال پیدا ہوئی تو ان لوگوں کی تمام تر ہمدردیاں اور دلوں کی دھڑکنیں بھارت کے ساتھ دھڑکتی محسوس ہوئیں، صرف اس لیے کہ وہ اس وقت موجودہ فوجی اور سیاسی قیادت سے ناراض تھے۔ یہی رویہ تب بھی دیکھا گیا جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی بڑھی تو یہ لوگ اپنے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کے بجائے افغان بیانیے کے حامی بن کر کھڑے ہو گئے۔حالیہ دنوں میں پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان جس طرح ایک پل کا کردار ادا کیا اور کامیاب سیز فائر (جنگ بندی) کروائی، اس نے دنیا بھر میں پاکستان کے سفارتی قد میں اضافہ کر دیا ہے مگر جہاں ایک طرف بھارت اس کامیابی پر تلملا رہا ہے، وہیں ہمارے یہ مخصوص سیاسی لیڈر کے حامی و پیروکار بھی شدید ناخوش ہیں۔ ان کا رویہ یہ بتاتا ہے کہ چاہے بھارت کے خلاف دفاعی محاذ ہو یا حالیہ سفارتی کامیابی، انہوں نے ریاست کی کسی بھی کوشش کا کریڈٹ نہیں دینا بلکہ الٹا یہ کہہ کر اپنے ہی ملک پاکستان کو ان نمک حراموں نے ڈی گریڈ کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ پاکستان کی اتنی اوقات یا حیثیت کہاں کہ یہ اتنی بڑی جنگ بندی کروا سکے۔ ان کے نزدیک پاکستان کی جیت سے زیادہ اہم ان کی سیاسی انا کی تسکین ہے، اسی لیے یہ ریاست کی عالمی کامیابی کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں موجود کی بورڈ واریئرز اس وقت ایران امریکہ سیز فائر کے خلاف ایسے دلائل گھڑ رہے ہیں جیسے وہ پاکستان کے نہیں بلکہ دشمن کے ترجمان ہوں، اور ان کا تضاد دیکھیے کہ ماضی میں یہی لوگ امن کے سفیر بننے کے دعوے کرتے تھے مگر آج جب پاکستان نے عملاً امن قائم کروا دیا ہے تو یہ اسے تسلیم کرنے کے بجائے اس کی اہمیت کم کرنے میں مصروف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ چاہے وہ بھارت سے جنگ ہو، افغانستان سے سرحدی کشیدگی ہو یا ایران امریکہ کے درمیان حالیہ تاریخی ثالثی، ان لوگوں نے ہمیشہ ریاست کے مخالف بیانیے کو تقویت دی ہے جو کہ انتہائی لمحہ فکریہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر ریاست کی سلامتی اور اس کی سفارتی کامیابیاں پوری قوم کا اثاثہ ہوتی ہیں لہٰذا سیاسی اختلاف کو ریاست سے دشمنی میں بدلنا اور اپنی ہی ریاست کی حیثیت کو کم تر دکھانا اپنے ہی گھر کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے مترادف ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پاکستان کو اندرونی و بیرونی سازشوں سے محفوظ رکھے، ہمیں سیاسی تعصب سے نکال کر صرف پاکستان کی ترقی اور سالمیت کے لیے سوچنے کی توفیق عطا فرمائے اور وطنِ عزیز کا پرچم اقوامِ عالم میں ہمیشہ سربلند رہے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں