19

شوکت عزیز برطرفی کیس، سپریم کورٹ میں سماعت، براہِ راست نشر

سابق جج اسلام آباد ہائیکورٹ شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہوگئی۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کر رہا ہے۔ جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس عرفان سعادت بھی بینچ میں شامل ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کیا درست ہیں؟ شوکت عزیز صدیقی کو ان الزامات پر مبنی تقریر پر برطرف کیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ سوچ کر جواب دیں کہ کیا آپ کے الزامات درست ہیں، وہ جنرل جنہیں آپ فریق بنانا چاہتے ہیں وہ خود 2018ء میں اقتدار میں آنا چاہتے تھے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ کے الزامات درست ہیں تو وہ جنرلز کسی کے سہولت کار بننا چاہ رہے تھے، جس کی یہ جنرل سہولت کاری کر رہے تھے وہ کون تھا؟

وکیل حامد خان نے عدالت میں کہا کہ لگائے گئے الزامات درست ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ ہمارے سامنے آرٹیکل 184 تین کے تحت آئے ہیں، یہ بھی یاد رکھیں کہ اصل دائرہ اختیار کے تحت کیا ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ روز شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج اسلام آباد ہائیکورٹ برطرفی کے خلاف آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کو افواجِ پاکستان کے متعلقہ افسران کو بھی مقدمے میں فریق بنانے کی اجازت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آج تک ملتوی کی تھی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی نے اپنی برطرفی کو چیلنج کر رکھا ہے۔

اس سے قبل آئینی درخواستوں میں صرف وفاق، سیکریٹری قانون و انصاف جبکہ سپریم جوڈیشل کونسل کو اس کے سیکریٹری کے ذریعے فریق بنایا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں