ایک سیاستدان جیل سے نکلنے اور دوسرا جیل سے بچنے کیلئے الیکشن لڑ رہا ہے، بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ایک سیاستدان جیل سے نکلنے اور دوسرا جیل سے بچنے کیلئے الیکشن لڑ رہا ہے، آج بھی کچھ لوگ کچھ اور لوگوں کے کندھوں پر سیاست کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

لاڑکانہ میں بینظیر بھٹو کی 16ویں برسی پر مرکزی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین ماضی کے سیاست دان ہیں، پرانی سیاست کرتے ہیں، مستقبل نوجوانوں کا ہے، ملک میں وفاق کو بچانے والی واحد جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ کہا تھا جمہوریت بہترین انتقام ہے، بھگوڑے آمر کو ملک سے باہر نکال کر وہ انتقام لیا، وقت آگیا ہے کہ عوامی راج قائم کرنے کیلئے وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنائیں،تین نسلوں سے بیروز گاری اور غربت کا مقابلہ کرتے آرہے ہیں۔

پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ الیکشن کو مقابلہ سمجھتے ہیں، الیکشن سے ڈرتے نہیں، ڈٹ کر مقابلہ کریں گے، میڈیا پر چلنے والے ڈرامے کا جواب ملک کے عوام 8 فروری کو تیر پر مہر لگا کر دیں گے، اٹھارہ مہینے جن کے ساتھ اتحادی حکومت میں رہے، انہیں معیشت، دہشتگردی اور جمہوریت سے دلچسپی نہیں تھی،مہنگائی، بیروزگاری، غربت اور دہشتگردی کے مقابلے کیلئے آپس کی لڑائیاں چھوڑنا پڑیں گی۔

بلاول بھٹو زرداری  نے مزید کہا کہ عوام، مہنگائی، غربت، بیروزگاری کا خاتمہ چاہتے ہیں، عوام نے پیپلز پارٹی کو موقع دیا، تو 10 کام ترجیحی بنیادوں پر کروں گا۔

انتخابی منشور کا اعلان، بلاول کے 10 وعدے

  1. حکومت بنائی تو پہلی ترجیح لوگوں کی تنخواہیں دگنی کرنا ہوگی۔
  2. 300 یونٹ تک بجلی مفت کردیں گے۔
  3.  ہر بچے کی تعلیم تک رسائی یقینی بنائیں گے۔ 
  4. ملک بھر میں مفت علاج کا نظام بنائیں گے۔
  5. غریبوں کو 30 لاکھ گھر بنا کر دیں گے۔
  6.  غربت مٹانے کیلئے  بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو بڑھائیں گے۔
  7. بینظیر انکم سپورٹ کی طرح کسانوں کیلئے “ہاری کارڈ” بنا کر دیں گے۔
  8. مزدوروں کو “بینظیر مزدور کارڈ” بنا کر دیں گے۔
  9. حکومت بنائی تو نوجوانوں کے لیے “یوتھ کارڈ” کے ذریعے مالی مدد فراہم کریں گے۔
  10.  پاکستان پیپلز پارٹی “بھوک مٹاو پروگرام” شروع کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے لیڈرز اور کارکنان الیکشن کی تیاری پکڑ لیں، دما دم مست قلندر ہوگا پیپلز پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے مجھے جتوانا ہے، مجھے اکثریت چاہیے۔

مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی سولہویں برسی، گڑھی خدا بخش میں ہوئی، نوڈیرو سے گڑھی خدا بخش بھٹو مزار تک سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات تھے، برسی میں ملک بھر سے جیالوں نے شرکت  کی۔

سابق وزیراعظم  بے نظیر بھٹو کو 16 سال پہلے آج ہی کے دن راولپنڈی کے لیاقت باغ میں شہید کیا گیا تھا۔

16 برس گزر گئے اور ہم آج بھی انصاف کے منتظر ہیں: آصفہ بھٹو زرداری

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور ان کی بہن آصفہ بھٹو زرداری نے اپنی والدہ کی 16ویں برسی کے موقع پر اسے تاریخ کا سیاہ دن قرار دیتے ہوئے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو سلام پیش کر دیا۔

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے بڑے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نے سوشل میڈیا پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ میری والدہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو عوام کی چیمپئن تھیں۔ انہوں نے مسلسل غریبوں، مظلوموں، پسماندہ افراد کی زندگی اور عزت و وقار کے لیے جد وجہد کی۔ وہ ہمیشہ آمریت کے خلاف، ان کے ظلم و بربریت اور دہشت گردوں کے وحشیانہ تشدد کے سامنے ثابت قدم رہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی محبت، ہمدردی اور بہادری کی میراث آج بھی میرے لیے مشعل راہ ہے، جس کی مجھے ضرورت ہے، 16 برس بیتنے کے باوجود یہ مشعل مدھم نہیں ہوئی‘۔

شہید محترمہ بے نظیر کی چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے بھی اپنی والدہ کو ان کے یوم شہادت پر یاد کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ اپنی والدہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی پر 2007 کے اس سیاہ دن کو یاد کرتے ہوئے آج 16برس گزر چکے ہیں، پھر بھی ان کو کھونے کا درد آج بھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت تھم گیا ہو۔ ان کی ہنسی، نصیحت اور پیار بھری آغوش ہر روز یاد آتے ہیں۔

آصفہ بھٹو زرداری نے لکھا کہ ان کے جانے کا غم ایک ایسا خلا پیدا کرگیا ہے جسے وقت کبھی نہیں بھر سکتا، یہ غم اپنے پیچھے ایک ایسا گھر چھوڑ گیا ہے جو پھر کبھی پہلے جیسا نہیں ہوگا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ آج 16 برس ہوگئے ہیں جب عوام نے اپنا مضبوط وکیل کھو دیا ہے، جب وہ ایک ایسی آواز سے محروم ہوگئے جو نفرت، لالچ اور جبر کے ہاتھوں خاموش کروائے جانے والے مظلوموں کے حق میں بلند ہوا کرتی تھی۔ 16 برس گزر گئے اور ہم آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں