لاہور (عمرحیات چوہدری) صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 167 میں مرحوم رکن اسمبلی عرفان شفیع کھوکھر کے انتقال کے بعد خالی ہونے والی نشست پر ضمنی انتخاب کے دوران سنگین اور تشویشناک صورتحال سامنے آ گئی۔ جماعت اسلامی کے امیدوارچوہدری عبدالقیوم گجر کے وکیل اعجاز الحسن غوری کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے سے قبل مبینہ طور پر اغواء کر لیا گیا۔ اس موقع پر امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ فوری طور پر ذمہ داران کے ہمراہ ریٹرننگ آفیسر (آر او) کے دفتر پہنچے اور میڈیا سے گفتگو کی۔ ان کے ہمراہ ڈپٹی سیکرٹریز جماعت اسلامی لاہور قیصر شریف، عبدالعزیز عابد، ڈاکٹر محمود خان اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ صوبائی حکومت کی فسطائیت آج ضمنی انتخابات کے موقع پر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی جماعت اپنے امیدوار کو بلا مقابلہ منتخب کروانے کیلئے غنڈہ گردی، دھونس اور غیر جمہوری حربے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس نے جماعت اسلامی کے امیدوار کے وکیل کو اغواء کر کے مصطفیٰ ٹاؤن تھانے منتقل کیا۔انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی جماعت اسلامی کی قیادت آر او آفس پہنچی، تو اغواء میں ملوث پولیس اہلکاروں نے وکیل کو رہا کر دیا۔ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے واضح کیا کہ وکیل کے اغواء کا مقصد صرف اور صرف عبدالقیوم چوہدری گجر کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے سے روکنا تھا۔ امیر جماعت اسلامی لاہور نے مزید کہا کہ آر او آفس کے تمام دروازے قبل از وقت بند کر دیے گئے، کاغذات نامزدگی جمع کروانے آنے والے افراد کو اندر داخل ہونے سے روکا گیا اور صرف حکومتی من پسند امیدواران کے کاغذات وصول کیے گئے، جو کھلی انتخابی دھاندلی اور آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی اس معاملے کو عدالت اور الیکشن کمیشن میں لے کر جائے گی اور اس فسطائیت کے خلاف سڑکوں پر بھی بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔ آخر میں انہوں نے حکومت پنجاب اور پنجاب پولیس کے اس غیر جمہوری رویے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار بننے سے باز آئے، جبکہ بلدیاتی اور انتخابی امیدواران کے ساتھ توہین آمیز سلوک کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
