کالم نگار:محمد شہزاد بھٹی

کہا جاتا ہے کہ غربت تمام برائیوں کی جڑ ہے مگر آج کے دور میں یہ محض ایک پرانا مقولہ نہیں رہی بلکہ ایک دہکتی ہوئی حقیقت بن چکی ہے جو ہمارے گلی کوچوں میں بے آواز رقص کر رہی ہے، آج غربت ایک معاشرتی المیہ بن چکی ہے۔ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے سوچا ہے کہ ہمارے اردگرد پھیلتی یہ خاموش اذیت آخر کب تک نظر انداز ہوتی رہے گی؟ کیا ہم واقعی اس معاشی طوفان کو محسوس کر رہے ہیں جو خاموشی سے گھروں کی بنیادیں ہلا رہا ہے؟ جب ایک باپ اپنے بچوں کو بھوکا سوتے دیکھتا ہے اور ایک ماں کے پاس بیمار بچے کی دوا کے لیے پیسے نہیں ہوتے تو وہاں اخلاقیات اور ضابطوں کی مضبوط دیواریں بھی ریت کے محل ثابت ہونے لگتی ہیں۔ غربت صرف وسائل کی کمی کا نام نہیں بلکہ یہ انسان سے اس کی عزتِ نفس، اس کا سکون اور بسا اوقات اس کا یقین بھی چھین لیتی ہے۔ کیا یہ لمحہ ہمارے لیے خود احتسابی کا تقاضا نہیں کرتا؟معاشرے میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز، موبائل چھیننے کی وارداتیں اور چوریاں محض امن و امان کا مسئلہ اب نہیں رہیں۔ اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو ان کے پس منظر میں اکثر و بیشتر معاشی تنگدستی کارفرما ہوتی ہے مگر کیا ہم کبھی یہ سوال اپنے آپ سے کرتے ہیں کہ آخر ایک نوجوان جرم کے راستے پر چلنے پر کیوں مجبور ہوتا ہے؟ کیا اسے کوئی متبادل راستہ دکھانے والا موجود تھا؟ جب ریاست اپنے شہریوں کو باعزت روزگار فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے اور مہنگائی کا جن بے قابو ہو جائے تو بقا کی جنگ انسان کو قانون شکنی کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ ابتدا میں وہ حالات سے لڑتا ہے پھر سمجھوتہ کرتا ہے اور جب سفید پوشی کا پردہ چاک ہونے لگتا ہے تو وہ معاشرے سے انتقام لینے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ جرائم پیشہ گروہ بھی انہی مجبور اور بے روزگار نوجوانوں کو اپنا ایندھن بناتے ہیں جنہیں چند ہزار روپے کے عوض بڑے جرائم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یوں ایک معاشی مسئلہ رفتہ رفتہ ناسور بن کر پورے امنِ عامہ کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ کیا ہم اس ناسور کو جڑ پکڑنے سے پہلے روکنے کے لیے کچھ کر رہے ہیں؟ جب خاموشی بے معنی سی ہو جائے کوئی خاموشی کے پس پردہ صدا کو سننے یا سمجھنے والا نا ہو تو پھر مایوس ہو کر خودکشی کا راستہ اختیار کیا جاتا ہے۔ یاد رہے، خود کشی کسی بھی معاشرے کی وہ آخری صدا ہوتی ہے جسے سننے میں ہم اجتماعی طور پر ناکام ہو چکے ہوتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں معاشی دباؤ، بجلی کے بھاری بلوں اور قرضوں کے بوجھ تلے دبے افراد کی جانب سے اپنی زندگی کا چراغ گل کرنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ کیا یہ ہمارے اجتماعی ضمیر کے لیے لمحۂ فکریہ نہیں؟ کیا ہم صرف خبر پڑھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں یا اس کے پیچھے چھپی اذیت کو بھی محسوس کرتے ہیں؟ یہ انتہائی تکلیف دہ منظر ہوتا ہے جب کوئی شخص مایوس و دلبرداشتہ ہو کر موت کو گلے لگا لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ ایک طرح کا معاشی قتل ہے۔ جب معاشرہ کسی انسان کو تنہا چھوڑ دیتا ہے اور اسے کہیں سے امید کی کرن نظر نہیں آتی تو اسے زندگی سے زیادہ موت آسان محسوس ہونے لگتی ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ ہمارے رویے کس طرح کسی کو اس انجام تک پہنچا دیتے ہیں؟ ہم بحیثیتِ مجموعی اس وقت تک جواب دہ ہیں جب تک ہمارے آس پاس کوئی شخص محض روٹی نہ ہونے کے باعث زندگی کی بازی ہار رہا ہے۔ ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں مادی ترقی تو عروج پر ہے لیکن انسانی ہمدردی مسلسل زوال پذیر ہے۔ ایک طرف دولت کی ریل پیل ہے، عالیشان کوٹھیاں اور مہنگی گاڑیاں ہیں اور دوسری طرف انہی شہروں کے فٹ پاتھوں پر فاقہ کش خاندان رات گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیا یہ تضاد ہمارے معاشرتی نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان نہیں؟ کیا دولت کے انبار ہمیں انسانوں کی ٹوٹتی سانسوں سے بے نیاز کر چکے ہیں؟ دولت کا یہ غیر منصفانہ ارتقاء معاشرے میں نفرت اور احساسِ محرومی کو جنم دیتا ہے اور یہی احساس جب شدت اختیار کرتا ہے تو تشدد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ مسئلہ موجود ہے یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم کب تک آنکھیں بند رکھیں گے؟ کیا محض پولیس کی نفری بڑھانے یا جیلیں بھر دینے سے جرائم اور خودکشیوں کو روکا جا سکتا ہے؟ کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ غربت کے خلاف جنگ کو قومی ترجیح بنانے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے؟ اس کے لیے جڑ پر وار کرنا ضروری ہے۔ حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر ایسے معاشی منصوبے متعارف کرانے ہونگے جو واقعی عام آدمی کی پہنچ میں ہوں۔ تعلیم اور ہنر کو عام کیا جائے تاکہ نوجوان طبقہ جرائم کے بجائے پیداواری کاموں کی طرف راغب ہو۔ اگر ہم انفرادی سطح پر اپنے مال کا حق ادا کریں اور اپنے اردگرد کے ضرورت مندوں کی بروقت خبر لیں تو بہت سے لوگ جرم کا راستہ اپنانے یا انتہائی قدم اٹھانے سے بچ سکتے ہیں۔ کیا ہم اپنے پڑوسیوں، رشتہ داروں اور ملازمین کے حالات سے واقعی باخبر ہیں؟ کیا ہم نے کبھی کسی خاموش مدد کو اپنی ترجیح بنایا ہے؟ ہمیں ان پر نظر رکھنی چاہیے۔ کبھی ایک ہمدردانہ جملہ اور کبھی معمولی سی مالی مدد کسی انسان کو موت کے منہ سے نکال سکتی ہے۔ غربت، جرم اور خودکشی کا یہ مثلث اسی دن ٹوٹے گا جب ہم مادیت کے خول سے نکل کر انسانیت کو ترجیح دیں گے۔ ہمیں ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھنی ہوگی جہاں انسان کی قدر اس کے بینک بیلنس سے نہیں بلکہ اس کے انسان ہونے کی بنیاد پر کی جائے۔ کیا ہم اس سوچ کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کے لیے تیار ہیں؟ یاد رکھیے، جس معاشرے میں غریب کی بھوک اسے سونے نہیں دیتی وہاں امیر کا سکون بھی زیادہ دیر محفوظ نہیں رہ سکتا۔ اللہ کرے کہ ہمیں وہ بصیرت عطا ہو جائے کہ ہم بھوک کو جرم بننے سے پہلے پہچان سکیں، مایوسی کو موت کا راستہ اختیار کرنے سے پہلے تھام سکیں اور اپنے اردگرد ٹوٹتے ہوئے انسانوں کے لیے سہارا بن سکیں۔ کیا ہم اپنے دلوں کے دروازے بروقت کھول پائیں گے؟ کیا ہم کسی ٹوٹتے ہوئے وجود کے لیے آخری امید بن سکتے ہیں؟ ہمارے شہروں میں کوئی ماں دوا کے بغیر تڑپتے بچے کو نہ دیکھے، کوئی باپ خالی ہاتھ گھر لوٹنے پر خود کو مجرم نہ سمجھے اور کوئی نوجوان حالات سے ہار کر زندگی سے منہ نہ موڑے۔ اگر ہم نے آج انسان کو سنبھال لیا تو شاید کل ہمیں کسی لاش پر افسوس کے پھول نہ رکھنے پڑیں۔ اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین