9

سابق ناظمینِ لاہور کی زندگیاں غلبۂ دین اور فلاحِ انسانیت کے لیے وقف تھیں: ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ


اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے زیرِ اہتمام تعزیتی ریفرنس: سابق ناظمینِ لاہور کی دینی، فلاحی اور ملی خدمات کو شاندار خراجِ عقیدت

لاہور (عمرحیات چوہدری):امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ اسلامی جمعیت طلبہ کے سابق ناظمینِ لاہورامیر العظیم، حافظ محمد ادریس، میاں مقصود احمد اور حافظ سلمان بٹ  کی زندگیاں غلبۂ دینِ حق کی جدوجہد، اعلاء کلمۃ اللہ اور انسانیت کی بے لوث فلاح و بہبود کا ایک درخشاں باب ہیں۔ یہ بات انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے زیرِ اہتمام ان مخلص قائدین کی یاد میں منعقدہ ایک پروقار تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے مرحومین کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شخصیات نے کٹھور اور مشکل ترین ادوار میں بھی حق کا ساتھ دینے اور ظلم و استبداد کے سامنے ڈٹ جانے کی جو لازوال مثالیں قائم کی ہیں، وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں، وقت اور توانائیاں اس تحریک کے مشن کے لیے وقف کیے رکھی تھیں۔ ان کا ہر قدم باطل قوتوں کے خلاف مزاحمت اور مظلومین کی دادرس کا مظہر تھا۔ ان کی مدبرانہ قیادت اور استقامت کا یہ سفر تحریکِ اسلامی کے کارکنان کے لیے ایک قیمتی اور مشعلِ راہ اثاثہ ہے۔ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ  نے کہا کہ اسلامی جمعیت طلبہ صرف ایک تنظیم نہیں بلکہ نوجوانوں کی کردار سازی اور فکری تربیت کا ایک ایسا ادارہ ہے جس نے ملک کو ایسے مدبر اور نڈر قائدین دیے جنہوں نے زندگی بھر عوام کے حقوق کی جنگ لڑی۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ طلبہ و نوجوان ان قائدین کے نقوشِ قدم پر چلتے ہوئے ملک میں عدل و انصاف کے قیام اور فلاحی معاشرے کے فروغ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔تقریب میں  رہنما جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، نائب صدر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان ذکر اللہ مجاہد، ناظمِ اسلامی جمعیت طلبہ لاہور برادر عبداللہ بن عباس، معاون معتمد عام برادر حسن امین،عطاء اللہ چوہدری، جبران بٹ، فصیح العظیم، یاسر معراج اور طلحہ ادریس سمیت دیگر  نے بھی ریفرنس سے خطاب کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ملکی حالات میں ان مخلص شخصیات کے افکار اور باطل کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جانے کے درس کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔تقریب کے آخر میں مرحومین کی بلندیِ درجات، مغفرت اور ان کے ورثاء کے لیے صبرِ جمیل کی دعائیں مانگی گئیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں