43

اس بار ایمپائر کی انگلی نہیں بلکہ اس کے ہاتھ میں ڈنڈا ہے

(جہانزیب خان کاکڑ)

ایمپائر کی انگلیوں کے اشاروں پر سیاست کرنے والوں کو اب حقائق کو سمجھتے ہوئے اپنا ذہن درست کر لینا چاہیے کیونکہ اس بار انگلی کی جگہ ڈنڈا ہے اور اب یہ سیاسی توجیہات کہ وہ فوج کے خلاف نہیں بلکہ کسی شخصیت کے خلاف ہیں یا فوج کے سیاست میں کردار کے خلاف ہیں نہیں چلیں گی۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے خلاف لب کشائی کا جواب فوج کے ترجمان کی زبان سے سن کر تمام غلط فہمیاں دور ہو جانی چاہئیں کہ فوج کے سربراہ کے احترام پر ادارے نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اس کا حکم ہی فوج کا عمل ہوتا ہے۔

اس طرح عسکری ادارے کے سربراہ پر تنقید سے وہ اپنی سیاست کا ستیا ناس کر رہے ہیں۔ ایسے بیانیے کا بوجھ اٹھانے کے لئے کہیں سے کندھا نہیں ملے گا اور اس بھاری بھر کم بوجھ کے نیچے دب کر وہ اپنے سیاسی وجود کو ختم کر بیٹھیں گے۔ شاید وہ بھول گئے ہیں کہ جس مقبولیت کے بل بوتے پر وہ شیخیاں بکھیر رہے ہیں اس کی بنیاد تبدیلی کے نعرے کی پیشکش اور ہدایتکاری کی سہولت کاریوں والا ماحول اب بدل چکا ہے اور ماضی اپنی غلطیوں پر ندامت کی سیاہی دھونے میں اپنا بہت نقصان کر چکا ہے۔

فوج کی سیاست میں دخل اندازی کے سبب سے سب سے زیادہ بدنامی تو جناب کو فراہم کردہ فیض تھا جو میثاق جمہوریت کو نقصان پہنچانے کی غرض سے کیا گیا جس کی بدولت ہائبرڈ جمہوریت کی نئی اصطلاح متعارف ہوئی اور رئیل اسٹیٹ میں ایمنسٹی کی صورت لہلاتے کھیتوں کو کالونیوں میں تبدیل کر کے ملکی خود کفالت کی صلاحیت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچایا گیا جبکہ ادارے کو محکمہ زراعت جیسے القابات سے یاد کیا جانے لگا۔ اخلاقی اقدار کا جنازہ نکال دیا گیا۔ اس وقت کی پختہ عادات کے نتائج میں ہی اب پی ٹی آئی کو درپیش مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور اچھی سوچ رکھنے والے بھی بانی پی ٹی آئی کے بیانیے پر رسوائی سے پریشان ہیں۔

پی ٹی آئی کی دوسرے درجے کی قیادت خود اس بد اخلاقی کے سوشل میڈیا پر بانی کی طرف سے یک طرفہ سلسلہ سے تنگ ہیں جس کا اعتراف بھی کر رہے ہیں۔ ان کی مجبوری یہ ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کے ہاتھوں یرغمال وہ سختیاں سہنے پر مجبور ہیں وگرنہ وہ ایسی سیاسی پالیسیوں سے سخت نالاں ہیں جس میں فرد واحد کی تکبرانہ خواہشں پر حکومتی معاملات چلتے رہے ہیں یا ابھی بھی کے پی میں چل رہے ہیں۔ یہ کون سی جمہوریت ہے کہ صوبے کی کابینہ کا چناؤ جیل میں ملاقات سے مشروط ہے اور صوبہ دہشت گردی کی آگ میں جھلس رہا ہے۔

وہ اس کو غنیمت سمجھیں کہ ان کے بیانیے کا جواب پریس کانفرنسز کے ذریعے سے دیا جا رہا ہے اور ان کو دانشمند سوچوں سے واسطہ پڑا ہے وگرنہ مکافات عمل میں بھیانک منظر نامہ اپنے آپ کو دہرائے جانے کے لئے بے چینی سے انتظار کر رہا ہے۔

سیاست اور جمہوریت محض مینڈیٹ کا نام نہیں بلکہ عوامی فلاح اور ملکی ترقی پر کارکردگی کی بھی متقاضی ہوتی ہے جو ان کے پلڑے میں کہیں دکھائی نہیں دیتی اور محض مقبولیت کا جادوئی سحر اب زیادہ دیر چلنے والا نہیں اور عوامی سوچوں اور خواہشوں کو حقائق سے مطمئن کرنا ایک بہت بڑا چیلنج بن کر سامنے کھڑا نظر آ رہا ہے۔

سب سے تشویشناک اور توجہ طلب تو ڈی جی آئی ایس پی آر کا کے پی میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کی طرف اشارہ ہے جس میں نہ صرف وہاں کے مفادات پرست بلکہ کئی پنجاب سے نو مئی کے اور بعد کے مقدمات کے بھگوڑے بھی اپنے ہاتھ رنگ رہے ہیں اور وہ زیادہ خوش نہ ہوں اگر ان کی بد عنوانی نظروں میں ہے تو یقیناً ان کی لسٹیں بھی ان کی گرفتاریوں کے لئے مناسب وقت کا انتظار کر رہی ہوں گی۔

بانی پی ٹی آئی کو بھی سوچنا چاہیے کہ ان کی مقبولیت کے بل بوتے پر اس وقت مبینہ طور پر کے پی میں جو بدعنوانی کا بازار گرم ہے اس کا سارا بوجھ بھی انہیں کے سر آئے گا۔ اسی طرح سنجیدہ سوچ اور ایماندار قیادت کو بھی اس پر غور کرنا چاہیے کہ بدنامی تو ان کی بھی ہو رہی ہے جبکہ مفادات پرست تو اپنی جیبیں گرم کر کے رفو چکر ہو جائیں گے۔ اسی طرح بہنوں کو بھی سیاست سے ہٹ کر ان کے لئے رعایت پیدا کرنے والا بیانیہ بنانا چاہیے۔

اگر پی ٹی آئی کی قیادت کے نزدیک عوامی مینڈیٹ کا جمہوری احترام کوئی حیثیت رکھتا ہے تو اس کو اداروں کے سربراہان پر الزامات کی فضول سرگرمیوں اور ترقی و خوشحال کی صورت ان کو لوٹانے کے چانس کو ضائع کر کے اس کی تضحیک نہ کروائیں بلکہ اس عوامی شعور کو صحیح سمت دے کر اسے مفید جمہوریت میں بدلیں۔ اگر اداروں کی سیاست میں دخل اندازی کا سدباب کرنے میں واقعی مخلص ہیں تو سب سے پہلے اس مداخلت میں اپنے کردار پر قوم سے معافی مانگیں اور پھر سیاسی قوتوں سے مل کر مستقبل کے بارے میں کوئی لائحہ عمل بنانے کی ترتیب بنائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں