6

عاصم نواز خان طاہرخیلی، علم، تحقیق اور قلم کی روشن روایت

از قلم:- ملک ثاقب شاد تنولی ایڈوکیٹ ایبٹ آباد ۔۔۔

کچھ شخصیات محض اپنے عہد میں زندہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ اپنے عمل، فکر اور قلم کے ذریعے آنے والے زمانوں تک سانس لیتی رہتی ہیں۔ ایسی ہی شخصیات معاشروں کی فکری تشکیل میں اینٹ کا کردار ادا کرتی ہیں۔ ہزارہ کی سرزمین، جو صدیوں سے علم، روایت، شجاعت اور تہذیبی وقار کی امین رہی ہے، آج بھی ایسے افراد کو جنم دے رہی ہے جو اپنی ذات کو اجتماعی شعور کے تابع کر دیتے ہیں۔ عاصم نواز خان طاہرخیلی کا نام اسی تسلسل کی ایک روشن کڑی ہے—ایک ایسا نام جو تدریس، تحقیق، تاریخ، ادب اور سماجی خدمت کے کئی دریچوں کو ایک ساتھ روشن کرتا ہے۔
عاصم نواز خان 18 ستمبر 1976ء کو ضلع ہری پور ہزارہ کی تحصیل غازی کے گاؤں خالو میں محترم محمد ریاض خان (سلم کھنڈ) کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق طاہرخیلی پٹھان قوم سے ہے جو یوسف مندنڑ قبیلے کی اتمان زئی شاخ سے وابستہ ہے۔ آپ کا آبائی گاؤں سلم کھنڈ ہزارہ کے تاریخی دیہات میں سے ایک ہے۔ آپ کے پُرکھوں نے شورش چتر سنگھ 1848ء میں اسی مقام پر سکھوں کو پسپا کیا تھا۔ یہ وہ پس منظر ہے جس میں غیرتِ کردار، روایت سے وابستگی اور شناخت کے شعور کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ عاصم نواز خان نے اسی تہذیبی سرمائے کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اسے تحقیق اور قلم کے ذریعے آگے منتقل کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ آپ کا قلمی نام عاصم ہے اور ہزارہ کے علمی و ادبی حلقوں میں آپ اپنے علاقے گندگر اور قوم طاہرخیلی کی بھرپور نمائندگی کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔
تعلیم و تربیت کسی بھی شخصیت کی فکری سمت کا تعین کرتی ہے، اور عاصم نواز خان کی تعلیمی زندگی ابتدا ہی سے غیر معمولی رہی۔ آپ نے پرائمری تعلیم تربیلہ ماڈل سکول خالو اور ایف جی سکول تربیلہ ڈیم سے حاصل کی۔ طالب علمی کے دور ہی میں آپ نمایاں طلبہ میں شمار ہونے لگے اور تعلیمی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ادبی سرگرمیوں میں بھی اپنی شناخت قائم کی۔ ایف جی سکول کی جانب سے پرائمری امتحانات میں وفاق ٹاپ کرنا اور بارہا سٹوڈنٹ آف دی ایئر قرار پانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ آپ محض نصابی طالب علم نہیں بلکہ ہمہ جہت صلاحیتوں کے حامل تھے۔
آپ نے مڈل تعلیم گورنمنٹ مڈل سکول سلم کھنڈ سے حاصل کی اور 1991ء میں گورنمنٹ ہائی سکول غازی سے میٹرک پاس کیا۔ اس کے بعد 1993ء میں ایبٹ آباد بورڈ سے ایف اے مکمل کیا۔ تعلیم سے محبت اور تدریس سے لگاؤ نے آپ کو جلد ہی محکمہ تعلیم کی طرف راغب کر لیا، جہاں آپ نے بطور مدرس عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدا میں غیر مستقل ملازمت کے مراحل آئے، مگر 1999ء میں آر ڈی ای پشاور سے محکمانہ کورس کر کے آپ کی ملازمت مستقل ہو گئی۔ یہ وہ مرحلہ تھا جہاں آپ کی پیشہ ورانہ زندگی کو استحکام ملا اور آپ پوری یکسوئی کے ساتھ علم کی ترسیل کے مشن میں جُت گئے۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنی علمی پیاس بجھانے کا سفر بھی جاری رہا۔ 2000ء میں آپ نے پشاور یونیورسٹی سے پرائیویٹ بی اے کیا، پھر 2002ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے بی ایڈ مکمل کیا، جس کے بعد آپ کی تدریسی سرگرمیوں میں مزید نکھار پیدا ہوا۔ علم کے نئے میدانوں کی جستجو نے آپ کو 2010ء میں سرحد یونیورسٹی پشاور تک پہنچایا جہاں آپ نے ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن میں سینیئر ڈپلومہ کیا اور اسی ادارے سے MSc (HPE) بھی مکمل کی۔ یہ تعلیمی تنوع اس بات کی علامت ہے کہ عاصم نواز خان علم کو محض ایک شعبے تک محدود نہیں رکھتے بلکہ اسے انسانی زندگی کی مجموعی بہتری سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔
ادبی زندگی کے آغاز کی کہانی بھی کم دلچسپ نہیں۔ بچپن اور نوجوانی ہی سے کہانیاں، تاریخی ناول، شاعری، میگزین اور ڈائجسٹ آپ کے ذوق کا حصہ رہے۔ ریڈیو اور ٹی وی پر پرانے گانے، غزلیں، ڈرامے، فلمیں اور معروف شخصیات کے انٹرویوز آپ شوق سے دیکھتے اور سنتے۔ اس کے ساتھ ساتھ بزرگوں کی محافل میں بیٹھ کر علاقے اور خاندان کی تاریخ، روایات اور گزرے وقتوں کی داستانیں سننا آپ کا محبوب مشغلہ تھا۔ یوں آپ کے اندر ایک محقق خاموشی سے پرورش پاتا رہا، اگرچہ علاقے میں ادبی محافل اور منظم ماحول کی کمی کے باعث یہ شوق عملی اظہار نہ پا سکا۔
بالآخر 2018ء وہ سال ثابت ہوا جس نے عاصم نواز خان کی ادبی زندگی کو واضح سمت عطا کی۔ آپ نے اپنے خاندان اور قوم کی تاریخ اور شجرہ نسب پر کام کرنے کا فیصلہ کیا اور تین سال کی انتھک محنت کے بعد اس تحقیقی سفر کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔ یہ محض ایک کتابی کام نہیں تھا بلکہ بکھری ہوئی یادداشتوں، زبانی روایات اور تاریخی حوالوں کو محفوظ کرنے کی ایک سنجیدہ کاوش تھی۔ اسی دوران آپ گزشتہ آٹھ سے دس سال سے سوشل میڈیا اور درجنوں اخبارات میں مستقل مضامین اور آرٹیکلز لکھتے چلے آ رہے ہیں، جس نے آپ کو ایک ذمہ دار اور معتبر قلم کار کے طور پر متعارف کرایا۔
آج عاصم نواز خان طاہرخیلی ایک مصنف، تاریخ دان، شاعر اور سماجی کارکن کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اب تک آپ کی چھ کتب بطور مصنف اور ایک بطور معاون شائع ہو چکی ہیں، جبکہ مزید تین کتب پر کام جاری ہے۔ شائع شدہ کتب میں نقطۂ نظر (منتخب کالمز) 2023ء، باباجی سلم کھنڈی (حکایات و کہانیاں) 2023ء، عاصمیات (منتخب کالمز) 2024ء، بوندیں (سوشل میڈیا کے مضامین) 2024ء، ایک سفر اک روداد (ننکانہ کا سفر اور داستانِ بھیل انٹرنیشنل ادبی سنگت) 2025ء اور تاریخِ قوم طاہرخیلی (تحقیق، بطور معاون) 2018ء شامل ہیں۔ یہ تصانیف اس بات کا اعلان ہیں کہ آپ کا قلم محض اظہار نہیں بلکہ دستاویز سازی کا فریضہ بھی انجام دے رہا ہے۔
تحقیق اور ادب کے ساتھ ساتھ آپ کے اعزازات بھی قابلِ ذکر ہیں۔ 2017ء میں زر منڈے (پلائی شیرخانے) میں اپنی قوم طاہرخیلی کے جد امجد طاہر خان باباؒ کی قبر مبارک کی تلاش اور نشاندہی ایک تاریخی کارنامہ ہے۔ اسی طرح دنیا بھر میں پھیلے ہوئے طاہرخیلی خاندان کے 2018ء تک پیدا ہونے والے بچوں تک کا مکمل شجرہ نسب ترتیب دینا ایک غیر معمولی تحقیقی خدمت ہے۔ آپ آرٹس کونسل غازی (2021ء) کے روحِ رواں ہیں، انٹرنیشنل رائٹرز فورم پاکستان کے تحصیل صدر (2023ء) رہ چکے ہیں اور بزمِ مصنفین ہزارہ کے ضلعی جنرل سیکرٹری (2025ء) کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
آپ کے کالم کم و بیش 80 اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں، جبکہ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور مختلف اخبارات کی اعزازی نمائندگی بھی آپ کے اعزازات میں شامل ہے۔ بے لوث ادبی خدمات کے اعتراف میں ادب، سماج اور انسانیت؛ بزمِ مصنفینِ ہزارہ؛ میری ادب میری پہچان؛ بھیل ادبی سنگت؛ ادارہ تحقیق الاعوان پاکستان؛ پہچان پاکستان نیوز گروپ؛ تحریک اصلاح معاشرہ پاکستان اور انٹرنیشنل رائٹرز فورم کی جانب سے متعدد ایوارڈز اور اسناد آپ کو دی جا چکی ہیں۔عاصم نواز خان طاہرخیلی کے ادبی قد و قامت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ یونیورسٹی آف صوابی سے ملحقہ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج صوابی میں بی ایس اردو کے ایک طالب علم نے آپ کی کتاب “بوندیں” پر تحقیقی مقالہ تحریر کیا، جو کسی بھی ادیب کے لیے فکری قبولیت کی ایک مضبوط دلیل ہے۔بلاشبہ عاصم نواز خان طاہرخیلی ہزارہ کی علمی، ادبی اور تاریخی روایت کے سچے امین ہیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اگر نیت صاف، مقصد بلند اور محنت مسلسل ہو تو فرد اپنی ذات سے بڑھ کر ایک عہد کی آواز بن سکتا ہے۔ اللہ کرے کہ ان کا قلم یونہی علم و آگہی کے چراغ روشن کرتا رہے اور آنے والی نسلیں ان کی خدمات سے رہنمائی حاصل کرتی رہیں۔
آمین ثم آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں