شہزاد فراموش




عہدِ حاضر کے معتبر اور اہم ترین شاعر نذیر قیصر کی سالگرہ کے دن جشنِ نذیر قیصر منایا گیا۔ لاہور کی تاریخ میں یہ وہ دن تھا جو خود کو یاد رکھنے کے لیے آیا تھا۔ہال میں کرسیاں رکھی تھیں مگر اصل نشستیں دِلوں میں تھیں۔لفظ بولنے سے پہلے خاموشی نے اجازت لی اور احترام عقیدت کے چراغ ہتھیلیوں پر رکھ کراندر داخل ہوا۔ نذیر قیصر اس دن سٹیج پر موجود ایک شخص نہیں تھے، وہ فضا میں تحلیل ایک کیفیت کی طرح تھے۔ایسی کیفیت جس میں لفظ اپنا مفہوم یاد کرتے ہیں اور معنی اپنی اصل پہچان۔یہ محفل جشن نہیں بل کہ اعتراف تھا۔اعتراف اس بات کا کہ کچھ لوگ زندگی نہیں جیتے زندگی کو لفظوں میں محفوظ کر دیتے ہیں۔
پہلے سیشن کی صدارت ڈاکٹر نجیب جمال نے کی۔یہ وہ لمحہ تھا جہاں علم بولتا ہے اور شائستگی خاموشی سے بات مکمل کر دیتی ہے۔ڈاکٹر محمد کامران،مسعود علی خان،بلقیس ریاض،سعیدہ دیپ،ڈاکٹر کوثر جمال چیمہ اور عبدالوحید چغتائی یوں آئے جیسے لفظ اپنے اصل قافلے میں لوٹ آئے ہوں۔کسی نے نذیر قیصر کو عہد کی آواز کہا،کسی نے روایت کی سانس،مگر سب کے لہجوں میں ایک ہی سچ تھا:”ان کی شاعری بیان نہیں ضمانت ہے“۔
پروفیسر محمد عباس مرزا سے آفتاب جاوید تک جو بھی بولا وہ اپنی بات نہیں کہہ رہا تھا،وہ نذیر قیصر کے لفظوں میں اپنا عکس تلاش کر رہا تھا۔ارشد نعیم،علی آصف،صفیہ کوثر،آصف عمران،رخشندہ نوید،زوبیہ انور،ڈاکٹر فضیلت بانو،ڈاکٹر صائمہ کامران،ڈاکٹر پونم نورین کے نام محض نام نہیں فکر کی کڑیاں تھے۔سب نے ایک ہی بات مختلف لفظوں میں کہی کہ نذیر قیصر کی شاعری لفظوں کا انبار نہیں بلکہ عہد کی دھڑکن ہے۔ڈاکٹر صائمہ کامران اس شام کسی منصب کی نمائندہ نہیں تھیں، وہ اس بات کا ثبوت تھیں کہ کام اگر سچا ہو تو نام خود راستہ بنا لیتا ہے۔ڈاکٹر کوثر جمال چیمہ جب بولیں تو زبان کوثر و تسنیم میں نہا گئی اور سامعین اپنی ادھوری خواہشیں جاگتی محسوس کرنے لگے۔تقریب میں زاہدہ جبیں راؤ اور اسامہ عباس نے نذیر قیصر کی شاعری کو سُریلی اوازیں دیں اور خوب داد سمیٹی۔
جرمنی سے جڑی ہوئی مگر پاکستان کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے،وہ عورت بھی موجود تھی جس کا کام بولتا ہے۔مسعود علی خان حیرت میں ان لوگوں کے درمیان تھے جنہیں وہ کبھی خوش آمدید کہتے تھے۔ انہوں نے نذیر قیصر کو صرف شاعر نہیں کہا، انہوں نے انہیں انسان مانااور یہ تعریف کسی بھی لقب سے بڑی تھی۔انہوں نے نذیر قیصر کو بڑا شاعر اور بڑا انسان قرار دیا۔ انہوں نے کہا:”نذیر قیصر کی شاعری میں مایوسی نہیں،ایک چراغ ہے جو نسلِ نو کے سینوں میں حوصلہ بن کر جلتا ہے۔“
ہارون الرشید کا بنایا ہوا نذیر قیصر کا پورٹریٹ کسی رنگ کا محتاج نہ تھا۔ وہ ہزار بار لکھے گئے لفظوں سے بنا تھا،جیسے تحریر آخرکار چہرہ بن گئی ہو۔اسے مسعود علی خان اور محمد زبیرشیخ نے پیش کیا۔اس موقع پر نذیر قیصر، ڈاکٹر کوثر جمال چیمہ اور عابدہ قیصر کے ہاتھوں سے نوجوان لکھاریوں میں اسناد اور انعامات بھی تقسیم ہوئے۔یہ انعام ہی نہیں، اعتماد تھے یہ راستے تھے، یہ اس بات کا اعلان تھا کہ ادب ابھی زندہ ہے۔
دوسرا سیشن شروع ہونے سے قبل نذیر قیصر،ان کی اہلیہ اور ان کے خاندان کے افراد سمیت اہم افراد سٹیج پر جمع ہوئے اور اہم ترین شاعر نے اپنی سال گرہ کا کیک کاٹا۔ ڈاکٹر امجد طفیل کی صدارت میں یہ سیشن محبت، روایت اور اعتراف کی دوسری سانس تھا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض شہزاد نئیر نے انجام دیئے۔انہوں نے نہایت خوبصورت انداز میں نذیر قیصر کے بارے میں لکھا اپنا مضمون پڑھا۔بعد ازاں جب نوید صادق اپنا مضمون پڑھنے آئے تو انہوں نے گلہ کیا کہ مضمون کافی طویل تھا۔مگر جب انہوں نے اپنا مضمون پڑھا تو وہ شہزاد نئیر کے مضمون سے کئی گنا طویل تھا جس پر مہمان خصوصی غلام حسین ساجد نے آتے ہی کہا کہ وہ بھی مضمون لکھ کر لائے تھے تاہم وقت کی کمی کے باعث وہ اسے نہیں پڑھیں گے۔ شہزادہ شبیر احمد صدیقی،غلام حسین ساجد،بابا نجمی اور ڈاکٹر عرفان الحق نے نذیر قیصر کو وہ درویش شاعر کہاجس کی سب سے بڑی عبادت محبت ہے۔شہزادہ شبیر احمد صدیقی نے کہا:”اگر دنیا کو خوبصورت دیکھنا ہے تو نذیر قیصر کے خیالات لفظوں میں پڑھنے ہوں گے۔“اور سچ یہی ہے کہ محبت اندھی سہی مگر اس کی آنکھیں بہت حسین ہوتی ہیں۔نذیر قیصر آئے تو انہوں نے کہا کہ بہت باتیں ہو گئیں میں بس اپنا کلام سنا دیتا ہوں۔انہوں نے ہر شعر پر خوب داد سمیٹی۔
دنیا اچھی لگتی ہے ، رب اچھا لگتا ہے
اچھی آنکھوں والوں کو سب اچھا لگتا ہے
ساری کتابیں، سارے صحیفے مجھ پر اُترے ہیں
مجھ کو دنیا کا ہر مذہب اچھا لگتا ہے
آخر میں ڈاکٹر امجد طفیل نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ میں مختصر بات کروں گا کیونکہ اب ڈنر اور آپ کے درمیان صرف میں حائل ہوں جس پر قہقہے بلند ہوئے۔انہوں نے نذیر قیصر کی شاعری کو شاندار کہا اور ان کو محبت کرنے والا انسان قرار دیا۔یہ محفل صرف ایک تقریب نہ تھی یہ ایک عہد کی نمائندگی تھی،ایک روایت کی پاسداری تھی اور ایک شاعر کو سلام تھاجس نے سخن کی زمین کو آسمان کر دیا۔ یوں لگتا ہے یہ تقریب ختم نہیں ہوئی، یہ دِلوں میں منتقل ہو گئی ہے۔نذیر قیصر لفظوں اور نئے خیالات کو جنم دینے والے شاعر ہیں۔ان کی عمر کا ہر پل شاعری کی عمر کو بڑھا رہا ہے اور ان کے پاس بیٹھ کر ہمیں ایسا لگتا ہے جیسے زندگی پل پل شاعری ہےاور ہم بلاشبہ شاعری کے اُس عہد میں زندہ ہیں جس کا نام نذیر قیصر ہے۔ان کے چند شعر دیکھئے۔
عجیب شہر کی تصویر بنتی جاتی ہے
ہوا بناتا ہوں، زنجیر بنتی جاتی ہے
۔۔۔۔۔۔
جو باقی کچھ کہانی رہ گئی ہے
فقط جادو بیانی رہ گئی ہے
یہ روز و شب کھنڈر ہوتی حویلی
بزرگوں کی نشانی رہ گئی ہے
نکالے جا چکے ہیں گھر سے گملے
مگر خوشبو پرانی رہ گئی ہے
اسی میں گھومتے رہنا ہے، قیصر
بھنور میں جو روانی رہ گئی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خواب میں راستہ بنانا پڑتا ہے
اُسے چراغ جلا کر جگانا پڑتا ہے
یہ جو صورت نظر آ رہی ہے، بنتی ہوئی
اِسے بنانے میں خود کو مٹانا پڑتا ہے
کہیں کہیں پر تیرا آسمان خالی ہے
کہیں کہیں سے پرندہ اُڑانا پڑتا ہے
اُتارے جاتے ہیں پہلے زمیں پہ اہلِ کتاب
پھر اہلِ خواب کو دنیا میں آنا پڑتا ہے
٭٭٭