5

مہنگائی اور پٹرول کی قیمتوں میں وحشا نہ اضافے کے خلاف جماعت اسلامی کا مال روڈ لاہور پر بڑا احتجاج

حکومت نے پٹرول سستا کرکے عوام کو ریلیف نہ دیا تو عید کے بعد شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہوگی، لیاقت بلوچ، ضیاء الدین انصاری و دیگر کا خطاب

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی اپیل پر ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی مہنگائی، پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے کے خلاف مال روڈ پر بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری نے کی، جبکہ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے شرکاء سے خطاب کیا۔ اس موقع پر سیکرٹری جماعت اسلامی لاہور اظہر بلال، نائب امراء لاہور، ڈپٹی سیکرٹریز لاہور، صدر جے آئی یوتھ لاہور، امراء اضلاع، سیکرٹریز، کارکنان، جے آئی یوتھ لاہور کے نوجوانوں اور شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاج میں شرکت کی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکاء نے پٹرول پر عائد ناجائز لیوی کے فوری خاتمے، مہنگائی پر قابو پانے اور عوام کو فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ موجودہ حکمران آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل کرتے ہوئے عوام پر مسلسل مہنگائی اور ٹیکسوں کا بوجھ ڈال رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ظلم کی انتہا ہے جبکہ حکمران طبقہ اپنی مراعات اور عیاشیوں میں مصروف ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے ناجائز معاہدوں کے ذریعے عوام کے اربوں روپے مخصوص مافیاز کی جیبوں میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔ تمام معاہدوں پر فوری نظرثانی کی جائے اور نئے معاہدے خالصتاً عوامی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔مقررین نے مزید کہا کہ بجلی بلوں میں بھاری ٹیکسوں کے بعد ریلیف کے نام پر متعارف کروایا گیا “کیو آر کوڈ” عوام کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے حکومت کو سخت وارننگ دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں کمی نہ کی تو عید کے بعد ملک گیر احتجاجی تحریک، شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال ہوگی، جس کا اعلان امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کریں گے۔قائدین نے کہا کہ جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر جدوجہد جاری رکھے گی اور ضرورت پڑنے پر وزیراعلیٰ ہاؤس اور پنجاب اسمبلی کے گھیراؤ سمیت شدید ترین احتجاجی اقدامات سے بھی گریز نہیں کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں