53

صحافی عدالت سے با عزت بری، کرپٹ افسرکا جھوٹا مقدمہ اُلٹا گلے پڑنے کو تیار

سرکاری ملازم بمقابلہ صحافی
صحافت کی تاریخی جیت

محکمہ آبپاشی کی لاہور مشینری ڈویژن میں کروڑوں روپے کی مبینہ کرپشن کی خبر لگانے پر عمر حیات چوہدری ،میاں وہاب،ابوالحسن راجپوت،سیف اللہ صحافیوں پر جھوٹا مقدمہ درج ہوا تھا

ستمبر 2023میں مبینہ چمک سے اور سرکاری اختیارات کے نشے کی بدولت مقدمے میں مختلف 06دفعات لگائی گئیں تھی ، عدالت میں آخر کار تمام کی تمام دفعات غلط ثابت ہونے کا فیصلہ جاری

صحافیوں کی آواز دبانے کی غرض سے بلا جواز مقدمے کے اندارج پر محکمہ کے افسران بالا کی جانب سے ایکسین احمد حسن، SDO راو اطہرا ور سب انجینئر عابد حسین کو کڑی تنقید کا بھی سامنا رہا

جھوٹے مقدمے کے فوراً بعد کرپٹ افسر نے اس کیس کو ختم کرنیکا عندیہ دیا مگر صحافیوں کی جانب سے اس جھوٹے کیس کو چیلنج کرنے اور ٹرائل میں لانے کے سخت موقف نے صحافت کی لاج رکھی

تقریباً03سال کے ٹرائل میں مدعی اور سرکاری پراسیکیوٹر کی ہر محاظ پر مکمل ناکامی نے محکمہ کی ساکھ کو متاثر کیا ، نڈر،بے باک صحافیوں نے صحافت کا الم بلند رکھااور حق بات سامنے لانے کا پرچار کیا

لاہور (نمائندہ خصوصی) سرکاری ملازم بمقابلہ صحافی کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آ گئی عدالت سے صحافت کے حق میں بڑا فیصلہ آ گیا 6عدد مختلف دفعات میں مکمل طور پر آخر کار صحافی عدالت سے با عزت بری قرار پائے اور کرپٹ افسروں کو منہ کی کھانی پڑ گئی جھوٹا مقدمہ اُلٹا گلے پڑنے کو تیار ہو گیا تفصیلات کے مطابق سینئر انویسٹی گیٹر صحافی عمر حیات چوہدری نے روزنامہ شفق انٹرنیشنل میں محکمہ آبپاشی کی لاہور مشینری ڈویژن لاہور کی مبینہ کروڑوں روپے کی کرپشن کو بے نقاب کرتے ہوئے خبریں عوام و حکمران کے سامنے لائے تھے جس سے کرپٹ افسروں (ایکسین احمد حسن،SDO راو اطہر،اور سب انجینئر عابد حسین) نے اپنے اختیارات کے نشے میں آ کر عمر حیات چوہدری ،میاں وہاب،ابوالحسن راجپوت،سیف اللہ صحافیوں پر مورخہ 12 ستمبر2023کو بلا جواز ، ناجائز،جھوٹا مقدمہ FIRنمبر1273/23 تھانہ مصطفے آباد میں 06عدد مختلف دفعات کے ساتھ اندراج کروایا تھا جس پر صحافی برادری نے شدید غم و غصے کا کھل کر اظہار کیا اور اس غیر قانونی ،نا جائز،جھوٹے مقدمے کا واقعہ سیکرٹری آبپاشی پنجاب کے نوٹس میں لائے اس واقعے پر سیکرٹری سمیت چیف انجینئر لاہور زون سمیت دیگر افسران بالا نے فوراًاس کی مذمت کی اور جھوٹے مقدمے کا اندراج کروانے والے افسروں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا افسران بالا کی جانب سے ان کرپٹ افسروں کے گرد گھیرا تنگ ہونا شروع ہو گیا جس کے بعدان افسروں نے صحافیوں سے اس کیس کو ختم کرنیکا عندیہ دیا مگر صحافیوں کی جانب سے اس جھوٹے کیس کو چیلنج کرنے اور ٹرائل میں لانے کے سخت موقف نے صحافت کی لاج رکھی یہ کیس تقریباً03سال عدالت میں چلا ایک طرف اس کیس کے ٹرائل میں مدعی اور سرکاری پراسیکیوٹر کی ہر محاظ پر مکمل ناکامی نے محکمہ کی ساکھ کو متاثر کیا جبکہ دوسری جانب نڈر،بے باک صحافیوں نے صحافت کا الم بلند رکھااور حق بات سامنے لانے کا کھل کر پرچار کیا اور اپنے اوپر لگائے گئے تمام الزامات کا ڈٹ کر سامنا کرتے ہوئے ان کو بے بنیاد اور جھوٹا بھی ثابت کیا جس کے نتیجے میں عدالت سے آخر کار تمام کی تمام دفعات غلط ثابت ہونے کا فیصلہ جاری ہوا دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ عدالت نے مدعی عابد حسین(سب انجینئر) سے یہ جھوٹا،بے بنیاد،اور غلط فہمی سے مقدمہ درج کروانے کے بیان کو تحریری طور پر لکھوایا اور اس بیان کو اس کیس کا حصہ بنایا اس طرح صحافی عدالت سے با عزت بری ہوئے اور سرکاری ملازموں کو محکمہ کی بد نامی کروانے سمیت صحافیوں سے بھی شرمساری کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ جیت ہمیشہ حق کی ہوتی ہے اور اس کیس میں صحافت کی تاریخی جیت ہو گئی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں