پیٹرول کی معمولی قیمت میں کمی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
جماعت اسلامی کا پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ٹیکس ختم کرنے کا مطالبہ

لاہور: امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے پٹرول کی حالیہ قیمتوں میں معمولی کمی کو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک لیٹر پٹرول پر تقریباً 120 روپے لیوی ٹیکس وصول کر رہی ہے جو عام آدمی پر ناقابلِ برداشت بوجھ اور سراسر ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بائیک چلا کر روزگار کمانے والے محنت کش، ڈیلیوری بوائز، طلبہ اور متوسط طبقے کے افراد اس بوجھ سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک طرف پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا جبکہ دوسری جانب چند روپے کمی کرکے عوام پر احسان جتانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پٹرول کی قیمتیں خرگوش کی چال سے بڑھائی گئیں جبکہ کمی کچھوے کی رفتار سے کی جا رہی ہے۔ ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت نے پٹرول کی قیمت تقریباً 250 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پونے چار سو روپے تک پہنچا دی، جس کے اثرات معیشت کے ہر شعبے اور روزمرہ استعمال کی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر مرتب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی پالیسیوں نے نوجوانوں، محنت کشوں اور کم آمدنی والے طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں پٹرول کی قیمت کو 250 روپے فی لیٹر تک لایا جائے اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد 120 روپے لیوی ٹیکس کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ایران اور متحدہ عرب امارات سے خام تیل درآمد کرکے مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات تیار کرے، جس سے لاگت میں نمایاں کمی آئے گی اور عوام کو سستا پٹرول فراہم کرنا ممکن ہو سکے گا۔ امیر جماعت اسلامی لاہور نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکسوں کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آنے والے بجٹ میں عوام کو حقیقی ریلیف نہ دیا گیا اور پٹرولیم مصنوعات پر عائد ظالمانہ ٹیکسوں میں کمی نہ کی گئی تو جماعت اسلامی ملک گیر احتجاجی تحریک کے ساتھ پہیہ جام ہڑتال کی کال دینے پر مجبور ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی حقوق کے تحفظ اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے ہر جمہوری اور آئینی فورم پر اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔