لاہور غیر ملکی خواتین سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ہسپانوی شہری آسٹرڈ گیبریلا رابنسن بریچو کا ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ کیا گیا تین صفحات پر مشتمل بیان منظرِ عام پر آ گیا ہے۔



بیان کے مطابق متاثرہ خاتون نے بتایا کہ ان کی عمر 40 سال ہے اور وہ اسپین کے شہر ہونڈاس دی لاس کی رہائشی ہیں۔ انہوں نے حلفاً عدالت کو بتایا کہ ان کا واقعہ دوسری متاثرہ خاتون سٹیفنی کے بیان سے ملتا جلتا ہے، تاہم ان کے ساتھ پیش آنے والے بعض واقعات مختلف تھے۔
خاتون کے مطابق قیام کی پہلی رات چار مسلح افراد گھر میں داخل ہوئے، دونوں خواتین کو باندھ دیا گیا اور ایک شخص، جس نے کالے کپڑے پہن رکھے تھے، نے مبینہ طور پر ان پر تشدد کیا اور جسمانی دست درازی کی۔ بعد ازاں محمد رضا ڈار نامی شخص آیا اور کمپیوٹر اور رقم کے بارے میں پوچھ گچھ کی، جس پر انہوں نے بتایا کہ مطلوبہ اشیاء سبز رنگ کے بیگ میں موجود ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں خواتین سے مسلسل کمپیوٹر، پاس ورڈز اور رقم کے بارے میں سوالات کیے جاتے رہے۔ متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ اس دوران ان کے سر پر پستول کے بٹ سے وار کیا گیا، جبکہ ایک شخص روانی سے انگریزی بول رہا تھا اور مبینہ طور پر انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیتا رہا۔
متاثرہ خاتون نے اپنے بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ محمد رضا ڈار خود کو وزیر علی ڈار کا بیٹا ظاہر کرتا تھا۔ ان کے مطابق انہوں نے انسٹاگرام اور واٹس ایپ پر بااثر شخصیات کے ساتھ اس کی تصاویر دیکھنے کے بعد اس پر اعتماد کیا تھا۔
خاتون نے مزید الزام عائد کیا کہ بعد ازاں ایک شخص انہیں دوسری منزل پر لے گیا، جہاں ان پر جنسی تعلق قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا۔ ان کے مطابق انکار کرنے کے باوجود ان کے ساتھ مبینہ طور پر زیادتی کی گئی۔ شور مچانے پر ملزم رک گیا، انہیں دوبارہ کپڑے پہننے پر مجبور کیا اور واپس کمرے میں لے آیا۔
نوٹ: یہ تمام الزامات متاثرہ خاتون کے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ شدہ عدالتی بیان پر مبنی ہیں۔ ان الزامات کا فیصلہ عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگا، اور ملزمان قانون کی نظر میں اس وقت تک بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں جب تک ان پر جرم ثابت نہ ہو جائے۔