6

بہاولنگر ہسپتال میں علاج کے نام پر موت کا رقص

بہاولنگر (شہزاد بھٹی) کسی بھی مہذب معاشرے کی پہچان اس کے ہسپتالوں سے ہوتی ہے، مگر ہمارے سرکاری ہسپتال اب انسانیت کے لیے مراکز نہیں بلکہ خاموش قتل گاہیں بن چکے ہیں جہاں حکومتی دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان غریب کی سانسیں دم توڑ رہی ہیں۔ ہسپتال میں درکار بنیادی سہولیات کا فقدان اور وسائل کی کمی نے مریضوں کو زندگی کی بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا ہے، سرکاری سطح پر اعلانات تو بڑے بڑے کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر ہسپتالوں کا ڈھانچہ اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے، جس کا خمیازہ صرف غریب عوام بھگت رہے ہیں۔ ہسپتال کے نام پر قائم یہ ادارے عوامی سہولت کے بجائے مالی استحصال کا گڑھ بن چکے ہیں، جو انتظامی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، جن کا سدِباب صرف عملی اقدامات اور سخت احتساب سے ہی ممکن ہے۔ یہ صرف ایک نوحہ نہیں، بلکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بہاولنگر سے لے کر پنجاب کے کونے کونے میں پھیلے سرکاری ہسپتالوں کا وہ کرب ناک سچ ہے جسے ہر روز دہرایا جا رہا ہے۔ ایک طرف ہسپتال کی دیواریں رنگ برنگی فلیکسوں اور “انقلابی اصلاحات” کے بینروں سے مزین ہیں اور لاؤڈ اسپیکر پر اعلانات کیے جا رہے ہیں کہ تمام تر سہولیات مفت دستیاب ہیں مگر حقیقت ان اعلانات کے بالکل برعکس ہے۔ یہاں ایک حاضر سروس ڈاکٹر اپنی تمام تر مہارت اور درست تشخیص کے باوجود مجبور ہے کیونکہ اسے حکم ہے کہ سرکاری لسٹ سے باہر کوئی دوا نہیں لکھنی۔ ڈاکٹر جانتا ہے کہ اس کا یہ نامکمل نسخہ مریض کو صحت یا زندگی دینے سے قاصر ہے مگر افسوس! نظام کی زنجیروں نے اس کے قلم کو مفلوج کر رکھا ہے۔ ہسپتال کا ایک اور بھیانک چہرہ یہاں سے جاری ہونے والی جعلی میڈیکل رپورٹس ہیں، جنہیں بااثر افراد ذاتی دشمنیوں کی بنیاد پر حاصل کر کے بے گناہ شہریوں کو تھانوں اور عدالتوں میں ذلیل کرواتے ہیں۔ ہسپتال جو علاج کا مرکز ہونا چاہیے تھا، اب قانونی سازشوں کا اڈہ بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ، ہسپتال سرکاری ہونے کے باوجود مختلف ٹیسٹوں کی مد میں غریب مریضوں سے بھاری فیسیں وصول کرنا ظلم کی انتہا ہے۔ محترمہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ! ذرا سوچئے، ہسپتال میں آنے والا مریض وہ مجبور شہری ہے جس کے پاس دوائی خریدنے کے پیسے نہیں اور جسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں؛ وہ ان مہنگے ٹیسٹوں کی فیسیں کہاں سے ادا کرے گا؟ جب ہسپتال سرکاری ہے تو پھر یہاں ٹیسٹ مکمل طور پر مفت کیوں نہیں؟ کیا یہ عوام کے زخموں پر نمک پاشی نہیں ہے؟ مزید یہ کہ سائیکل اسٹینڈ پر سرعام اوور چارجنگ عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ چند ایک کے علاوہ ڈاکٹرز و طبی عملے کا رویہ بھی تضحیک آمیز اور غیر شائستہ ہے۔ انتظامی غفلت کا یہ عالم ہے کہ ڈپٹی کمشنر بہاولنگر کے وقتاً فوقتاً وزٹ تو ہوتے رہتے ہیں مگر ان کے کوئی مثبت ثمرات عوام تک نہیں پہنچ رہے، یہ وزٹ صرف “فوٹو سیشن” تک محدود ہیں۔ اسی طرح سی ای او ہیلتھ اور ایم ایس بھی اپنی ذمہ داریوں سے مکمل غافل دکھائی دیتے ہیں؛ ان کا رویہ دیکھ کر یہ کہنا بجا ہوگا کہ یہ صاحبان کان میں تیل ڈال کر سوئے ہوئے ہیں اور وہ زمینی حقائق سے لاتعلق بنے ہوئے ہیں۔ اس صورتحال پر ہماری نظریں وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر اور بالخصوص وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ پر مرکوز ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ہسپتالوں میں زندگی بچانے والی تمام ضروری ادویات کی فراہمی اور ٹیسٹوں کو مکمل مفت یقینی بنائیں یا ڈاکٹرز کو باہر کی دوا لکھنے کی قانونی اجازت دیں۔ ساتھ ہی جھوٹی میڈیکل رپورٹس، ٹیسٹوں کی مد میں لوٹ مار، سائیکل اسٹینڈ کی من مانی اور عملے کے غیر انسانی رویوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کریں۔ وزیرِ صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر اور بالخصوص وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ سے گزارش ہے کہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال بہاولنگر کی مجموعی کارکردگی کا ایک آزادانہ اور شفاف آڈٹ کروایا جائے۔ ادویات کی فراہمی، لیبارٹری نظام، طبی رپورٹس کے اجراء، مریضوں سے وصول کی جانے والی فیسوں، پارکنگ و سائیکل اسٹینڈ کے انتظامات اور عملے کے رویے کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے۔ اگر کہیں بے ضابطگیاں موجود ہیں تو ان کا فوری سدباب کیا جائے اور اگر شکایات بے بنیاد ہیں تو حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔ ہمارے نظامِ صحت کی سب سے تلخ حقیقت یہ ہے کہ یہاں غریب کا خون نچوڑا جاتا ہے جبکہ صاحبِ اقتدار کے لیے پروٹوکول کے دروازے کھلے ہیں۔ اب نعروں اور اعلانات کا وقت بیت چکا، عوام کو بنیادی حقوق کی بازیابی درکار ہے۔ یاد رہے کہ یہ کالم “تنقید برائے اصلاح” کے مثبت جذبے کے تحت لکھا گیا ہے تاکہ متعلقہ ادارے اپنی کوتاہیوں کو دور کر کے عوام کے لیے مسیحا ثابت ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو غریب عوام کا درد سمجھنے کی توفیق دے اور تمام بیماروں کو کامل شفا عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں