5

بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر

​علامہ اقبالؒ کا یہ مصرعہ انسانی نفسیات، غلامی کے گوناگوں اثرات اور بصیرت کی اہمیت پر ایک گہری اور فکر انگیز چوٹ ہے۔ اقبال کے نزدیک غلامی صرف ہاتھوں اور پیروں کی زنجیروں یا کسی سیاسی استعمار کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسی گہری ذہنی اور فکری کیفیت ہے جو انسان کی قوتِ فیصلہ، جراتِ اظہار اور تنقیدی سوچ کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتی ہے۔ غلام شخص اپنی نظر سے دنیا کو دیکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے اور وہی کچھ سوچتا، دیکھتا اور محسوس کرتا ہے جو اس کا آقا چاہتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ غلامی صرف بیرونی طاقتوں کی نہیں ہوتی، بلکہ اس کی جڑیں انسان کے اپنے اندر، اس کی انا اور اس کی نفسانی خواہشات میں بھی اتنی ہی گہرائی سے پیوست ہوتی ہیں جتنی کہ کسی استعماری طاقت کے جبر میں۔
​بہت سے لوگ اپنی خواہشات کے غلام ہوتے ہیں؛ ان کی بصیرت ان کی مادی طلب اور نفسانی خواہشات کے تنگ دائرے میں گھومتی رہتی ہے۔ جب خواہشات غالب آ جاتی ہیں، تو انسان حق اور باطل، اور سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ وہ وہی بات سچ ماننے لگتا ہے جو اس کی خواہشات کے مطابق ہو۔ اسی طرح، انا (Ego) کی غلامی ایک بہت بڑی اخلاقی اور فکری بیماری ہے۔ جو شخص اپنی انا کا اسیر ہو، وہ کبھی سچائی کو قبول نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کی انا اس کے راستے میں ایک بلند دیوار بن کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

ترجمہ: “ان کے دل ہیں مگر وہ سمجھتے نہیں، ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں مگر وہ سنتے نہیں۔”
(سورۃ الاعراف: 179)

یہ وہ لوگ ہیں جو حقیقت کو دیکھ کر بھی اندھے اور حق کو سن کر بھی بہرے بنے رہتے ہیں، کیونکہ ان کی بصیرت ان کی اپنی ذات اور مفادات کی قید میں ہوتی ہے۔
​ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھیں تو تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب مسلمان اپنے رب کے سوا ہر قسم کی غلامی سے آزاد ہوئے، جب انہوں نے اپنی خودی کو پہچانا اور محض اللہ کی بندگی کو اپنا شعار بنایا، تو ان کی ایمانی قوت اور فکر کی آزادی نے انہیں دنیا کی امامت سونپ دی۔ اس وقت قیصر و کسریٰ جیسی عظیم الشان سلطنتیں ان کے زیرِ نگیں ہوئیں، کیونکہ ان کے پاس وہ “مردِ حر” والی بصیرت تھی جو صرف اللہ کے سامنے جھکتی تھی اور دنیاوی جاہ و جلال کے سامنے سر نہیں خم کرتی تھی۔ ان کے پاس وہ فکری شفافیت تھی جو حالات کی سنگینی میں بھی راستہ تلاش کر لیتی تھی۔ اس کے برعکس، جب ان اقوام کے ہاں زوال آیا، تو اس کی بنیادی وجہ فکری غلامی ہی تھی۔ جب حکمرانوں اور عوام کی بصیرت مصلحتوں اور درباری خوشامدوں کی نذر ہو گئی، تو زوالِ بغداد اور اندلس کی بربادی جیسے المناک واقعات پیش آئے۔ وہ لوگ جسمانی طور پر تو آزاد تھے مگر ان کے ذہن غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں وہ اپنے دشمنوں کی چالوں کو بھانپنے میں ناکام رہے۔ بقول اقبال:

محکوم کا دل مُردہ و افسردہ و نومید
آزاد کا دل زندہ و پُرسوز و طرب ناک

یعنی آزادی و غلامی کے درمیان فرق نہ صرف ظاہری حالات کا ہے بلکہ انسان کی داخلی کیفیت اور قلبی حرارت کا بھی آئینہ دار ہے۔ محکوم یعنی غلام وہ ہوتا ہے جس پر کسی اور کی حکومت ہو، چاہے وہ سیاسی، معاشی، یا فکری غلامی کی شکل میں ہو۔ ایسے انسان کا دل مُردہ ہوتا ہے، یعنی اس میں نہ کوئی ولولہ، نہ کوئی مقصد کی جستجو باقی رہتی ہے۔ وہ دل افسردہ ہوتا ہے، یعنی وہ بے کیف، پژمردہ، اور زندگی کی حرارت سے خالی ہو جاتا ہےاور ساتھ ھی ساتھ نومید ہوتا ہے، یعنی اس کی امیدیں دم توڑ چکی ہوتی ہیں، اس کی آنکھوں میں نہ کوئی خواب ہوتا ہے نہ دل میں کوئی چراغ۔ غلامی سب سے پہلے انسان کے دل سے زندگی چھینتی ہے۔ ایسا دل، جو نہ کسی اعلیٰ نصب العین کے لیے تڑپتا ہے، نہ کسی جدوجہد کی لذت جانتا ہے، صرف زندہ لاش ہوتا ہے۔ اس کے برعکس آزاد انسان وہ ہوتا ہے جس کا دل زندہ ہو، یعنی جیتے جاگتے جذبات سے لبریز، مقصد و معنویت سے معمور، پُرسوز ہو، یعنی اس میں دردِ امت، تڑپِ حق، اور سوزِ یقین موجزن ہو، جو نہ صرف خود کو بدلنے کی تڑپ رکھتا ہو بلکہ معاشرے کو بیدار کرنے کی آگ بھی رکھتا ہو اور طرب ناک ہو یعنی ایک ایسا دل جو ظاہری مسرت نہیں بلکہ باطنی سرشاری اور قربِ الٰہی کی خوشی سے روشن ہو۔ یعنی دل کی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔اگر دل مر جائے تو غلامی مقدر بن جاتی ہے اور اگر دل زندہ ہو، تو غلامی کی زنجیروں کو توڑا جا سکتا ہے۔
​ایک مشہور حکایت ہے کہ کسی بادشاہ نے اپنے درباریوں سے پوچھا کہ وقت کا سب سے طاقتور شخص کون ہے؟ سب نے بادشاہ کی خوشامد کرتے ہوئے اسی کا نام لیا، مگر ایک آزاد منش درویش نے کہا: “وہ شخص جو اپنی خواہشات اور انا کی زنجیروں سے آزاد ہے۔” بادشاہ کی بصیرت اپنی کرسی اور اقتدار کے گرد گھومتی تھی، جبکہ درویش کی بصیرت ابدی حقائق اور روحانی بلندیوں تک رسائی رکھتی تھی۔ یہ حکایت ہمیں سمجھاتی ہے کہ اصل غلامی خارجی نہیں داخلی ہوتی ہے۔ جو اپنی انا اور خواہشات کا غلام ہے، وہ دنیا کی بڑی سے بڑی سلطنت کا مالک ہو کر بھی دراصل ایک غلام ہی ہے۔
​آج کے دور میں ہم ٹیکنالوجی اور مادی آلات کے غلام بن چکے ہیں۔ ٹیکنالوجی بذاتِ خود ایک عظیم آلہ ہے، لیکن جب یہ انسان کی عقل و خرد کا آقا بن جائے، تو یہ انسان کی تخلیقی اور تنقیدی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتی ہے۔ ہم نے اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل بیانیوں کو اپنی بصیرت کا مرکز بنا لیا ہے۔ آج کا انسان اپنے اردگرد کے مسائل کو اپنی عقل سے نہیں، بلکہ اس بیانیے کی عینک سے دیکھتا ہے جو اسے انٹرنیٹ کے الگورتھم فراہم کرتے ہیں۔ ہم نے فیصلہ کرنے کی قوت مشینوں کے سپرد کر دی ہے، جس کے نتیجے میں ہماری اپنی سوچنے سمجھنے کی طاقت کمزور پڑ گئی ہے۔

​مستقبل کو سنوارنے کے لیے سب سے پہلی شرط اپنی فکری خودمختاری کی بحالی ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے: “انصاف کو قائم رکھو خواہ تمہارے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔” یہ تبھی ممکن ہے جب انسان اپنی انا، نفسانی خواہشات اور ٹیکنالوجی کی اندھی غلامی سے آزاد ہو۔ حدیثِ نبویؐ کا مفہوم ہے کہ “جو اپنے آپ کو پہچانتا ہے، وہ اپنے رب کو پہچانتا ہے۔” خودشناسی ہی وہ پہلا قدم ہے جو انسان کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلاتا ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ سے سبق سیکھنا ہوگا، اپنے اسلاف کی عظمت کو پہچاننا ہوگا اور اقبال کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ اقبال مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کی کرن دکھاتے ہیں:

​نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی

​ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ بصیرت کا تعلق عمر سے نہیں بلکہ جراتِ اظہار اور حق پر قائم رہنے کے عزم سے ہے۔ آج کا انسان اگر غلامی کی ان تمام شکلوں—خواہ وہ انا کی ہوں، خواہشات کی ہوں یا ٹیکنالوجی کی—کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے، تو ہم اپنی تقدیر کے خود مالک بن سکتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ غلامانہ سوچ انسان کو اندھا کر دیتی ہے، اور ایک اندھا قائد یا پیروکار کبھی بھی صحیح منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ جب تک بصیرت کسی آقا، کسی خواہش یا کسی خود ساختہ مادی بت کی غلام رہے گی، اس وقت تک اس کی آنکھیں حقیقتِ حال کو دیکھ نہیں پائیں گی۔ یہ بصیرت اسی وقت شفا پاتی ہے جب وہ اللہ کی بندگی کے سوا ہر بندگی سے آزاد ہو کر حق کے آئینے میں کائنات کو دیکھنے کی صلاحیت حاصل کر لے، کیونکہ اقبال نے اسی سچائی کو یوں یکجا کیا ہے:

​بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حر کی آنکھ ہے بینا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں