9

مون سون کی آزمائش میں راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی مؤثر حکمتِ عملی

کنٹونمنٹ ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید کی قیادت میں رین ایمرجنسی فوری فعال، انجینئرنگ برانچ کے افسران کی مؤثر منصوبہ بندی اور ہیوی مشینری کی بروقت تعیناتی سے متاثرہ علاقوں میں نکاسیٔ آب بحال

ٹینچ بھاٹہ، ڈھوک حسو اور دیگر متاثرہ علاقوں میں نالوں کی ڈی سلٹنگ، سیوریج لائنوں کی بلاکیجز کا خاتمہ اور بارش کے پانی کی بروقت نکاسی سے شہریوں کو فوری ریلیف

مون سون کی بارشیں ہر سال شہری انتظام کے نظام کو ایک نئے امتحان سے دوچار کرتی ہیں۔ چند گھنٹوں کی موسلا دھار بارش بھی نکاسیٔ آب کے نظام، سڑکوں، سیوریج لائنوں اور نشیبی علاقوں میں معمولاتِ زندگی کو متاثر کر سکتی ہے۔ایسے حالات میں کسی بھی ادارے کی کارکردگی کا اصل معیار اس کی پیشگی منصوبہ بندی، بروقت فیصلوں اور فیلڈ میں فوری ردعمل سے جانچا جاتا ہے۔ حالیہ مون سون بارشوں کے دوران راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے بھی اسی حکمتِ عملی کے تحت رین ایمرجنسی کو فوری فعال کرتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں جامع آپریشن کا آغاز کیا۔کنٹونمنٹ ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید کی ہدایات پر بارش شروع ہوتے ہی انجینئرنگ برانچ، سینی ٹیشن برانچ اور متعلقہ شعبوں کو متحرک کر دیا گیا۔ رین ایمرجنسی پلان کے مطابق حساس مقامات کی مسلسل نگرانی، فیلڈ ٹیموں کے درمیان رابطہ اور وسائل کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا گیا تاکہ کسی بھی علاقے میں کارروائی میں تاخیر نہ ہو۔ سی ای او کی ہدایت تھی کہ پانی جمع ہونے والے مقامات پر فوری رسپانس دیا جائے اور انجینئرنگ برانچ کے افسران خود فیلڈ میں موجود رہ کر آپریشن کی نگرانی کریں۔اس پورے آپریشن میں انجینئرنگ برانچ نے مرکزی کردار ادا کیا۔ بارش کے ابتدائی مرحلے میں ہی افسران نے مختلف علاقوں کا جائزہ لے کر ان مقامات کی نشاندہی کی جہاں نکاسیٔ آب میں رکاوٹ پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ اسی تکنیکی جائزے کی بنیاد پر ہیوی مشینری، افرادی قوت اور فیلڈ ٹیموں کو مرحلہ وار تعینات کیا گیا۔ اس منصوبہ بندی کا مقصد صرف فوری پانی نکالنا نہیں بلکہ پانی کے قدرتی بہاؤ کو بحال رکھنا بھی تھا تاکہ صورتحال مزید خراب نہ ہو۔ٹینچ بھاٹہ، ڈھوک حسو ریلوے ریزیڈنشل کوارٹرز اور دیگر متاثرہ علاقوں میں ایکسکیویٹرز اور ٹریکٹر ٹرالیوں کے ذریعے نالوں سے مٹی، کیچڑ اور جمع شدہ ملبہ نکالا گیا۔سیوریج لائنوں میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں دور کی گئیں جبکہ ڈرینوں کی صفائی اور ڈی سلٹنگ کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو بحال کیا گیا۔ تصاویر میں نظر آنے والی سرگرمیاں اس امر کی عکاسی کرتی ہیں کہ ہیوی مشینری بارش کے دوران بھی مسلسل کام کرتی رہی اور ٹیمیں مشکل موسمی حالات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں انجام دیتی رہیں۔انجینئرنگ برانچ کے افسران نے آپریشن کے دوران صرف نگرانی ہی نہیں کی بلکہ ہر مقام کی ضرورت کے مطابق فوری فیصلے بھی کیے۔ جہاں اضافی مشینری درکار تھی وہاں فوری فراہم کی گئی، جبکہ مختلف ٹیموں کے درمیان رابطہ برقرار رکھ کر کام کی رفتار کو متاثر نہیں ہونے دیا گیا۔ یہی مؤثر کوآرڈینیشن اس رین ایمرجنسی آپریشن کی نمایاں خصوصیت رہی۔جیسے ہی پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوئی، سینی ٹیشن برانچ کی ٹیموں نے صفائی کا مرحلہ سنبھال لیا۔گلیوں، سڑکوں اور عوامی مقامات سے کیچڑ، کچرا اور ملبہ ہٹا کر ماحول کو معمول پر لانے کی کوشش کی گئی۔ صفائی اور نکاسیٔ آب کے کام کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط رکھا گیا تاکہ متاثرہ علاقوں میں شہریوں کو جلد از جلد آمدورفت اور روزمرہ سرگرمیوں کی سہولت میسر آ سکے۔اس آپریشن کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی رہی کہ کارروائیاں صرف ہنگامی ردعمل تک محدود نہیں رہیں بلکہ ایسے مقامات کی بھی نشاندہی کی گئی جہاں مستقبل میں نکاسیٔ آب کے نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔انجینئرنگ برانچ نے ان علاقوں کا تکنیکی جائزہ لے کر ایسے عوامل کی نشاندہی کی جو بارش کے دوران پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ بنتے ہیں، تاکہ آئندہ مون سون سیزن میں ان مسائل کو مزید مؤثر انداز میں حل کیا جا سکے۔متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں نے بھی اس بروقت کارروائی کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ بارش کے دوران ہی فیلڈ ٹیموں کی موجودگی اور مشینری کی فوری دستیابی کے باعث پانی زیادہ دیر تک کھڑا نہیں رہا، جس سے آمدورفت اور روزمرہ معمولات کی بحالی میں مدد ملی۔ شہریوں نے انجینئرنگ برانچ کے افسران اور فیلڈ عملے کی مسلسل محنت کو قابلِ تحسین قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی اسی جذبے اور پیشہ ورانہ انداز کے ساتھ خدمات کا سلسلہ جاری رہے گا۔مون سون جیسے موسمی چیلنجز اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ شہری انتظام صرف وسائل کا نام نہیں بلکہ بروقت منصوبہ بندی، تکنیکی مہارت اور مؤثر قیادت کا مجموعہ ہے۔ حالیہ بارشوں کے دوران راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ نے جس انداز میں رین ایمرجنسی کو فعال کیا، انجینئرنگ برانچ کے افسران نے فیلڈ میں ذمہ داریاں نبھائیں اور مختلف شعبوں نے باہمی رابطے کے ساتھ کام کیا، وہ ایک منظم حکمتِ عملی کی مثال ہے۔اگرچہ مون سون کا سلسلہ ابھی جاری ہے، تاہم حالیہ آپریشن نے یہ واضح کیا ہے کہ پیشگی تیاری، جدید مشینری، فعال نگرانی اور مربوط ٹیم ورک کسی بھی ہنگامی صورتحال سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی کے ساتھ شہریوں کا تعاون بھی ناگزیر ہے۔ نالوں اور ڈرینوں میں کچرا نہ پھینکنا، صفائی کے نظام کا خیال رکھنا اور بارش کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنا وہ اقدامات ہیں جو انتظامیہ کی کوششوں کو مزید مؤثر بنا سکتے ہیں۔ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی حالیہ رین ایمرجنسی کارروائیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ بروقت فیصلے، انجینئرنگ مہارت اور فیلڈ میں مسلسل موجودگی کے ذریعے شہری مشکلات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں