3

محکمہ PHA لاہور میں فہیم احمد خان غیر قانونی بھرتی ہونے کے باوجود حکومتی مشینری سے ٹکر لے گیا

شارک مائنڈ نے اپنے جرم کو ثابت ہونے کے باوجود سیکرٹری ہائوسنگ کو بھی بے بس بنائے رکھا۔! DG کی مبینہ میسنی خاموشی بھی ملزم کو پروٹیکشن دینے کے مترادف

قانون کے بر خلاف 8 سال اوور ایج کے مطابق کنٹریکٹ بیس پر بھرتی ہوتے ہی غربت کے ستائے نے محکمہ میں اَت مچا دی، قومی خزانے کے وجود پر مسلسل کرپشن کوڑے مارنے میں مصروف

کنٹریکٹ بھرتی کے چند ماہ بعد ہی رشوت والے گل کھلائے، سسپنڈ ہونے کی بجائے پنجے مزید مظبوط گاڑھے، ” بگڑا ،نا فرمان بیٹا باپ پر بھاری ” پورے سسٹم کو انگلی کے اشاروں پر چلانے لگا۔!!

سیکرٹری آفس میں اہم ترین انکوائری کے دوران موصوف کی کھلم کھلا موج مستی، ریکوری دینے کی بجائے اُلٹا اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی پروموشن لے کر نکلنے پر قانون کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ بھی مارا

سیکشن آفیسر کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل کو درجنوں بار رپورٹ دینے کا کہنا بھی ڈرامہ محسوس ہوا ، DG نے آرڈر کو پائوں تلے اور اپنے بگل بچے کو مسلسل اپنی چھایا تلے رکھا

دلچسپ امر ہے کہ سیکرٹری نے کئی انکوائری آفیسرز تبدیل کئے مگر ملزم اپنی سیٹ سے ایک انچ بھی نہیں ہٹا۔!! حصہ پتی منسوب کا اندیشہ پیدا ہونے لگ گیا، ملزم کی گیڈر سنگھی کام کر گئی

مسلسل 19سال غیر قانونی دھرلے سے نوکری، ثبوت کے باوجود 04 سال انکوائری پائپ لائن، ماننا پڑے گا فہیم PHA کا ” سرٹیفائیڈ ڈان ” بن کر سامنے آ گیا

لاہور (نیوز انویسٹی گیشن سیل،عمر حیات چوہدری) محکمہ پارکس اینڈ ہارٹی کلچر اتھارٹی لاہور (PHA) میں چکاچوند روشنی کے بل بوتے پر یا پھر چہیتے افسروں سے ذاتی کام نکلوانے کے لئے معمولی افسروں کو گلے لگانے سمیت ان کو پروٹیکشن دینے کا بھی ٹھیکہ لینے کا انکشاف سامنے آیا ہے جس نے حکومتی رٹ کو خطرے میں ڈال دیا ہے انویسٹی گیشن اور تفصیلات کے مطابق محکمہ پی ایچ اے لاہور میں فہیم احمد خان سال 2007 کو غیر قانونی طور پر ڈائریکٹر ایڈمن لیٹر نمبرDA/PHA/07/562 کے مطابق کنٹریکٹ بیس پر بطور سب انجینئر 5سال کے لئے بھرتی ہو ا جس کا بعد میں پتا چلا کہ قانون اور پالیسی کے مطابق 08 سال اوورایج پر غیر قانونی بھرتی ہوا ہے ، غربت کے ستائے ہوئے نے بھرتی ہوتے ہی اَت مچا دی موصوف نے بھرتی ہوتے ہی رشوت کے گل کھلانے شروع کر دئیے تھے جس کی تحریری شکائیت پر ڈائریکٹر ایڈمن PHA لاہور کی جانب سے مورخہ 11 نومبر 2008 کو لیٹر نمبر DA/PHA/08/249 کے مطابق ٹھیکیدار سے مبلغ 53,500 روپے کی مہر شدہ رشوت لینے کا حوالہ دیتے ہوئے پیڈا ایکٹ 2006 انڈر کلاز5 کے تحت اس کا کنٹریکٹ ٹرمینیٹ کیا گیااور اس کو محکمہ کی ساکھ کو بری طرح بد نام کرنے کا بھی کہا گیا تھامگر موصوف نے عجب فارمولوں سے اپنے اس سسپنڈ لیٹر کو بحالی میں تبدیل کروا لیا اور آشیرباد سے مزید مظبوط ہونے لگاپھر سال 2022 اگست میں اس کی اوور ایج اور غیر قانونی بھرتی کی تحریری شکائیت وزیراعلی پنجاب صاحب کو لگائی گئی جس کے جواب میں وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے اگلے ہی دن اس کا نوٹس لینے کا لیٹر جاری ہوااور پھر سیکرٹری ہائوسنگ میں اس کی رپورٹ کرنے اور انکوائری کرنے کا کیس لگ گیا سیکرٹری ہائوسنگ کی جانب سے مورخہ 06 ستمبر 2022 کو ڈائریکٹر جنرل (DG ) پی ایچ اے لاہور کو فہیم احمد خان کی اس غیر قانونی اور اوورایج بھرتی کو کینسل کرنے کی ریکویسٹ کی گئی مگر ڈی جی نے اس حکم پر بھی میسنی خاموشی اختیار کی اور اس کو معاملے کو دبایا پھر ڈائریکٹر آڈٹ ورکس نے بھی اتھارٹی کو اس کی غیر قانونی اور کنٹریکٹ اپوائنٹ منٹ پالیسی 2004 کے قانون کلاز 08 (a) کو حوالہ دیتے ہوئے فہیم احمد خان کو 08 سال اوور ایج بھرتی ہونے کی رپورٹ کی اور اس کا نوٹس لیکر قانونی کاروائی کی سفارش کی اور لیٹر میں یہ بھی ذکر کیا کہ ڈائریکٹر آڈٹ ورکس کی جانب سے اگست 2022 سے اس کی نشاندہی اور رپورٹ کی ہوئی ہے مگر اتھارٹی نے نہ تو کوئی ریپلائی ، جواب دیا ہے اور نہ ہی اس کا نوٹس لیا تب سے لیکر آج تک سیکرٹری آفس ہو یا ڈی جی آفس لیٹر بازی تو کھلم کھلا ہو رہی ہے مگر اس کو مسلسل دبایا جاتا ہے نہ فیصلہ نہ ہی کوئی اپ ڈیٹ ” بلی چوہے کا کھیل جاری ” ہے دلچسپ امر ہے کہ سیکرٹری نے کئی انکوائری آفیسرز تبدیل کئے مگر ملزم اپنی سیٹ سے ایک انچ بھی نہیں ہٹا۔!! حصہ پتی منسوب کا اندیشہ پیدا ہونے لگ گیا، ملزم کی گیڈر سنگھی کام کر گئی ہے جبکہ موصوف ان سب باتوں سے نا آشنا ہونے کے مترادف اپنی نوکری پر براجمان ہے اُلٹا اپنی پروموشن بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر ( الیکڑیکل) لے کر موج مستی میں دھن ہیں جس کے نتیجے میں حلقہ احباب میں چہ مگویاں ہو رہی ہیں کہ فہیم احمد خان غیر قانونی بھرتی ہونے کے باوجود حکومتی مشینری سے ٹکر لے گیا ہے شارک مائنڈ نے اپنے جرم کو ثابت ہونے کے باوجود سیکرٹری ہائوسنگ کو بھی بے بس بنا کر رکھا ہے۔! DG کی مبینہ میسنی خاموشی ملزم کو پروٹیکشن دینے کے مترادف ہے ، قومی خزانے کے وجود پر مسلسل کرپشن کوڑے مارنے میں مصروف ہے، ” بگڑا ،نا فرمان بیٹا باپ پر بھاری ” پورے سسٹم کو انگلی کے اشاروں پر چلانے لگا ہے۔!! ریکوری دینے کی بجائے اُلٹا اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی پروموشن لے کر نکلنے پر قانون کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ بھی مارا ہے، سیکشن آفیسر کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل کو درجنوں بار رپورٹ دینے کا کہنا بھی ڈرامہ محسوس ہوتا ہے ، DGنے آرڈر کو پائوں تلے اور اپنے بگل بچے کو مسلسل اپنی چھایا تلے رکھا ہوا ہے، مسلسل 19سال غیر قانونی دھرلے سے نوکری کرنے والا، ثبوت کے باوجود04سال انکوائری پائپ لائن میں رکھنے والے کو ماننا پڑے گا فہیم احمد خان محکمہ PHA لاہور کا ” سرٹیفائیڈ ڈان ” بن کر سامنے آ گیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں