تحریر :
ڈاکٹر حارث اشرف (MBBS)

- جنرل سیکرٹری پنجاب ججٹسو ایسوسی ایشن
- ممبر میڈیکل کمیشن ججٹسو ایشین یونین
- ریجنل ڈائریکٹر الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان
شام ڈھلتے ہی لاہور کے کسی بھی جم میں چلے جائیں، ایک منظر آپ کو ہر جگہ ایک جیسا ملے گا کہ کونے میں کھڑا کوئی نوجوان ایک شیکر میں پانی یا دودھ اور پاؤڈر ڈال کے بہت سنجیدہ انداز میں اسے ہلا رہا ہوتا ہے۔ اور آپ ذرا اس بارے میں بات کریں گے تو وہ آپ کو بتائے گا کہ پروٹین شیک یا کوئی اور سپلیمنٹ لینا کتنا ضروری ہے اور اس نے یہ چیز نہ کی تو اس کی ساری محنت ضائع ہو جائے گی۔
ایک عام پاکستانی کے لیے اس بات پر یقین کرنا بہت مشکل ہے کہ دنیا کے بڑے بڑے ایتھلیٹ اور چیمپئن کسی قسم کے سپلیمنٹ، پاؤڈر یا کسی اور مصنوعی چیز کے محتاج نہیں ہوتے۔ وہ اچھی متوازن غذا اور اپنے کوالیفائیڈ نیوٹریشنسٹ کے بتائے ہوئے ڈائٹ پلان پر بھروسہ کرتے ہیں۔ جب انہیں اپنی کارکردگی میں کوئی کمی محسوس ہوتی ہے، تو کوئی ان کے ہاتھ میں سپلیمنٹ کی بوتل نہیں پکڑاتا، بلکہ سب سے پہلے ان کے ڈائٹ پلان میں تبدیلی کی جاتی ہے اور اسی سے کارکردگی کے بہت سارے مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں یہاں پہ بنیادی طور پر دو طرح کے مسئلے ہیں۔ ایک تو عوام کو شارٹ کٹ کا شوق ہے، اور دوسرا یہ سپلیمنٹ بیچنے والے اپنے کمیشن کے چکر میں معصوم عوام کی صحت داؤ پر لگا رہے ہیں۔ اس میں سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ یہ سپلیمنٹ انڈسٹری کسی سخت ریگولیشن کے تحت نہیں چلتی۔ کون سا پاؤڈر کس فیکٹری میں بن رہا ہے، کون سا کیمیکل استعمال ہو رہا ہے یا کون سے ہارمونز ملائے گئے ہیں، اس کا کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا اور اکثر اوقات کسی خطرناک بیماری کا باعث بھی بن جاتا ہے۔
نوجوان کھلاڑیوں کے لیے یہ سمجھنا نہایت اہم ہے کہ ورلڈ اینٹی ڈوپنگ ایجنسی (واڈا) کی طرف سے جن ممنوعہ اشیاء پر پابندی لگائی گئی ہے، وہ اکثر ان غیر معیاری سپلیمنٹس میں موجود ہوتی ہیں۔ اب بہت سارے ایسے نوجوان کھلاڑی انجانے میں ڈوپ ٹیسٹنگ میں پکڑے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا برسوں کا محنت سے بنا ہوا کیریئر ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔
اس وقت پاکستان میں 90 فیصد سے زیادہ لوگ چاہے وہ عام جم جانے والا شوقین ہو یا کوئی ابھرتا ہوا نوجوان کھلاڑی ہو انھیں کسی قسم کے سپلیمنٹ کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ان کی ہر قسم کی غذائی ضرورت اور کمی قدرتی چیزوں سے، جیسا کہ دودھ، دہی، انڈے، گوشت، پھل اور سبزیاں جو باآسانی بازار میں دستیاب ہیں، اچھے طریقے سے پوری ہو سکتی ہے۔
یہ جم کے مختلف ٹرینرز یا سوشل میڈیا کے وہ انفلونسرز جو طرح طرح کی مصنوعات کو پروموٹ کرتے ہیں، ان کی زیادہ تر کہانیوں کے پیچھے صرف اپنا کمیشن چھپا ہوتا ہے۔ لہذا، نوجوان کھلاڑیوں اور بالعموم تمام نوجوانوں کو چاہیے کہ اپنی صحت کو اس بے بنیاد چکر میں ڈال کر داؤ پر نہ لگائیں۔ اگر آپ کو ورزش کرتے وقت کسی قسم کا کوئی طبی مسئلہ درپیش ہو، تو جم میں بیٹھے کوچز کی کہانیاں سننے کے بجائے کسی مستند ڈاکٹر یا کلینیکل نیوٹریشنسٹ سے رابطہ کریں، تاکہ آپ کی صحت اور کیریئر دونوں محفوظ رہیں۔