3

اولڈ گرانٹ کی زمین پلازے میں شامل، ایک کروڑ دس لاکھ روپے کی مبینہ رشوت طلبی؛ کنٹونمنٹ انتظامیہ پر سنگین سوالات

جی ایل آر میں مبینہ ٹیمپرنگ کے ’’بادشاہ‘‘ ڈرافٹ مین حمزہ کے خلاف ایک اور سنسنی خیز معاملہ سامنے آگیا

پلازہ معاملے میں ڈائریکٹر ہیڈکوارٹرز سَیما شاہ نے چیف ایگزیکٹو افیسر عامر رشید سے کیوں رابطہ کیا؟ تعلق، سرکاری ذمہ داری اور رابطے کے پسِ پردہ محرکات کی وضاحت ضروری


ویسٹریج بازار میں آدھی زمین پرانی لیز، پچھلی جانب اولڈ گرانٹ کی جگہ بھی پلازے میں شامل ہونے کا دعویٰ؛ پراپرٹی نمبر 101 اور 102، مالک نواز؛ کمرشل نقشہ منظور ہونے کے باوجود قانونی حیثیت پر سوالات

کنٹونمنٹ بورڈ کے ڈرافٹ مین حمزہ پر ایک کروڑ دس لاکھ روپے مبینہ رشوت طلب کرنے کا الزام، مبینہ مطالبہ پورا نہ ہونے پر پلازہ سیل کیے جانے کا دعویٰ؛ چیف ایگزیکٹو افیسر  کی مبینہ زبانی معطلی ہدایت، سسپنشن لیٹر تیار ہونے کے باوجود کارروائی دبائے جانے کے دعوے*

ایک پلازے کا معاملہ یا اولڈ گرانٹ جائیدادوں کے پورے نظام کا سوال؟ جی ایل آر میں مبینہ ردوبدل، اختیارات کے ممکنہ ناجائز استعمال اور انتظامی نگرانی کی ناکامی نے کئی سوالات کھڑے کردیئے

راولپنڈی کنٹونمنٹ کے علاقے ویسٹریج بازار میں اولڈ گرانٹ کی ایک جائیداد سے متعلق سامنے آنے والے معاملے نے کنٹونمنٹ بورڈ کے اراضی ریکارڈ، تعمیراتی نگرانی، اختیارات کے استعمال، افسران کی ذمہ داری اور مبینہ مالی مطالبات کے حوالے سے متعدد سنگین قانونی و انتظامی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ پراپرٹی ویسٹرج  بازار میں پراپرٹی نمبر 101 اور 102 پر واقع ہے جبکہ اس کے مالک کا نام نواز بتایا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق مذکورہ پلازے کی زمین کا ایک حصہ کافی عرصہ قبل باقاعدہ طور پر انہی مالکان کے نام لیز ہو چکا تھا، جبکہ پلازے کی پچھلی جانب کچھ اراضی اولڈ گرانٹ کے طور پر موجود تھی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مالکان نے اپنی لیز شدہ زمین کے ساتھ پچھلی جانب موجود اولڈ گرانٹ کی جگہ کو بھی شامل کرکے اس پر پلازہ تعمیر کر لیا۔ذرائع کے مطابق مذکورہ پلازے کا کمرشل نقشہ بھی منظور شدہ ہے، تاہم اصل قانونی سوال یہ ہے کہ آیا منظور شدہ نقشے میں اولڈ گرانٹ کی وہ اضافی زمین بھی شامل تھی جس پر مبینہ طور پر تعمیر کی گئی۔ کیا نقشہ منظور کرتے وقت زمین کی مکمل قانونی حیثیت، جنرل لینڈ رجسٹر اور اصل اولڈ گرانٹ ریکارڈ کی باقاعدہ جانچ کی گئی؟ اگر اولڈ گرانٹ کی جگہ تعمیر میں شامل کی گئی تو کیا اس کے لیے متعلقہ مجاز اتھارٹی سے تحریری اجازت حاصل کی گئی تھی؟ ان سوالات کا حتمی جواب سرکاری ریکارڈ، منظور شدہ نقشے اور متعلقہ اجازت ناموں سے ہی سامنے آسکتا ہے۔اولڈ گرانٹ جائیدادیں عام نجی ملکیت نہیں بلکہ مخصوص شرائط و ضوابط کے تحت زیرِ استعمال ایسی اراضی ہیں جن کا ریکارڈ جنرل لینڈ رجسٹر میں برقرار رکھا جاتا ہے۔ ایسی زمین پر تعمیر، توسیع، ردوبدل یا رقبے میں کسی قسم کی تبدیلی کے لیے متعلقہ قانونی و انتظامی طریقہ کار کی پابندی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ذرائع کے مطابق مذکورہ پلازہ کئی برسوں کے دوران تعمیر ہو کر مکمل ہوا، بعد ازاں اسے کرائے پر بھی دے دیا گیا اور وہاں باقاعدہ کاروباری سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔ یہاں بنیادی انتظامی سوال یہ ہے کہ اگر تعمیر شدہ رقبے میں واقعی اولڈ گرانٹ کی زمین شامل تھی تو تعمیر کے آغاز، دورانِ تعمیر، تکمیل یا کمرشل استعمال کے کسی بھی مرحلے پر متعلقہ اراضی و تعمیراتی شعبوں نے اس کی نشاندہی کیوں نہیں کی؟معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب ذرائع کے مطابق کنٹونمنٹ بورڈ کے ڈرافٹ مین حمزہ نے موقع پر جاکر متعلقہ افراد سے مبینہ طور پر ایک کروڑ دس لاکھ روپے بطور رشوت طلب کیے۔ذرائع کے مطابق جب متعلقہ افراد نے مبینہ طور پر ایک کروڑ دس لاکھ روپے کی یہ ناجائز ڈیمانڈ پوری کرنے سے انکار کیا تو ڈرافٹ مین حمزہ نے مبینہ طور پر کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ پلازے کو سیل کر دیا، جس کے بعد معاملہ مزید سنگین ہوگیا اور پلازے کی قانونی حیثیت، اولڈ گرانٹ اراضی اور متعلقہ اہلکار کے اختیارات پر نئے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے۔اس معاملے میں ایک اور اہم دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جب چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید کے علم میں یہ معاملہ آیا کہ ان کے ماتحت ڈرافٹ مین حمزہ نے مبینہ طور پر ایک کروڑ دس لاکھ روپے کی رقم طلب کی ہے تو انہوں نے مبینہ طور پر فوری طور پر زبانی ہدایت دی کہ حمزہ کو فوراً معطل کیا جائے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس سلسلے میں سسپنشن لیٹر بھی تیار کرلیا گیا تھا، تاہم اس کارروائی کو باضابطہ طور پر نافذ کرنے سے قبل ہی معاملہ مبینہ طور پر بااثر عناصر کے علم میں آگیا۔ذرائع کے مطابق راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں موجود بااثر عناصر نے مبینہ طور پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید پر دباؤ ڈالا، جس کے نتیجے میں تیار کیا گیا سسپنشن لیٹر آگے بڑھنے کے بجائے ختم کرکے معاملہ دبا دیا گیا۔ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوسکی، تاہم اگر سسپنشن لیٹر واقعی تیار ہوا تھا تو اس کی فائل، ڈرافٹ، نوٹنگ اور اسے روکنے یا ختم کرنے کی وجوہات بھی تحقیقات کا اہم حصہ بن سکتی ہیں۔یہاں یہ سوال بھی انتہائی اہمیت اختیار کرتا ہے کہ اگر ایک سرکاری اہلکار پر اتنی بڑی رقم طلب کرنے کا الزام سامنے آنے کے بعد اس کی معطلی کی ہدایت دی گئی تھی تو بعد ازاں اس کارروائی کو روکنے یا ختم کرنے کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا گیا؟ کیا کوئی باقاعدہ تحریری حکم جاری ہوا؟ کیا کوئی انکوائری شروع ہوئی؟ اور اگر انکوائری نہیں ہوئی تو اس کی وجہ کیا تھی؟دوسری جانب پلازے کی سیلنگ بھی ایک اہم قانونی سوال بن چکی ہے۔ عام طور پر کسی کمرشل پلازے یا تعمیراتی منصوبے کو سیل کرنے کی کارروائی باقاعدہ قانونی و انتظامی طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے اور متعلقہ ریکارڈ میں مجاز اتھارٹی کا حکم موجود ہونا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں یہ بات قابلِ غور ہے کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید کی جانب سے مذکورہ پلازے کو سیل کرنے کا کوئی باقاعدہ سیلنگ آرڈر جاری نہیں کیا گیا تھا۔اگر یہ بات ریکارڈ سے درست ثابت ہوتی ہے تو پھر یہ بنیادی سوال سامنے آتا ہے کہ ڈرافٹ مین حمزہ نے پلازے کو سیل کرنے کا اختیار کس حکم یا کس افسر کی ہدایت پر استعمال کیا؟ وہاں لگائی گئی سیل کس کے حکم پر لگائی گئی؟ اسے لگانے کے لیے کس افسر یا مجاز اتھارٹی کی منظوری موجود تھی؟ اور اگر چیف ایگزیکٹو آفیسر کی جانب سے کوئی تحریری سیلنگ آرڈر جاری نہیں ہوا تھا تو متعلقہ اہلکار نے کس قانونی بنیاد پر یہ کارروائی کی؟
اس حوالے سے اصل سیلنگ آرڈر، موقع پر جاری کیا گیا نوٹس، متعلقہ فائل کی نوٹنگ، ڈرافٹ مین کی رپورٹ اور سیل لگانے والے اہلکار کی شناخت سامنے آنا انتہائی اہم ہے۔ اگر سیلنگ قانونی حکم کے تحت ہوئی تھی تو وہ حکم ریکارڈ پر موجود ہونا چاہیے، جبکہ اگر ایسا کوئی حکم موجود نہیں تو پھر اس کارروائی کی قانونی حیثیت اور ذمہ داری کا تعین بھی ضروری ہوگا۔یہ بھی تحقیقات کا حصہ ہونا چاہیے کہ حمزہ کے پاس موقع پر سیل لگانے والی سیل کہاں سے آئی، کس نے اسے فراہم کی، کس کے کہنے پر استعمال کی گئی اور کس افسر کو اس کارروائی کی پیشگی یا بعد ازاں اطلاع دی گئی۔یہاں ڈرافٹ مین حمزہ کے سابقہ معاملات بھی اہمیت اختیار کرجاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق راولپنڈی میں جنرل لینڈ رجسٹر (GLR) میں مبینہ ٹیمپرنگ سے متعلق ایک معاملے میں حمزہ کا نام زیرِ بحث آچکا ہے اور یہ معاملہ مبینہ طور پر ایف آئی اے میں بھی زیرِ تفتیش ہے۔ تاہم ایف آئی اے میں اس معاملے کی موجودہ حیثیت اور حمزہ کے خلاف کسی حتمی کارروائی کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ذرائع مزید دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے قبل جب حمزہ کھاریاں میں تعینات تھے تو جہلم میں ٹیکنیکل اسٹاف موجود نہ ہونے کے باعث انہیں جہلم کی ذمہ داری بھی سونپی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق وہاں بھی جنرل لینڈ رجسٹر میں مبینہ ٹیمپرنگ کا الزام ان کے خلاف سامنے آیا، جس پر انکوائری ہوئی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انکوائری کے بعد بھی حمزہ کسی بڑی محکمانہ کارروائی کے بغیر اس معاملے سے نکل گئے اور بعد ازاں انہیں واہ منتقل کردیا گیا۔اگر سابقہ معاملات کی دستاویزی تصدیق ہوتی ہے تو موجودہ معاملے میں یہ جانچنا بھی ضروری ہوجاتا ہے کہ ماضی میں سامنے آنے والی شکایات پر کس سطح پر تحقیقات ہوئیں، انکوائری رپورٹس میں کیا نتائج اخذ کیے گئے اور کیا کسی افسر یا اہلکار کے خلاف ذمہ داری کا تعین کیا گیا۔ذرائع کے مطابق پلازے کے مالکان نے معاملہ سامنے آنے کے بعد اعلیٰ سطح پر رابطے کیے۔ بعض ذرائع کے مطابق ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر میڈم سَیما شاہ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید سے رابطہ کیا۔ تاہم اس رابطے کی نوعیت، مقصد اور پس منظر کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔اس رابطے نے بھی کئی قانونی و انتظامی سوالات پیدا کردیئے ہیں۔ کیا مذکورہ پلازہ میڈم سَیما شاہ کے کسی رشتہ دار یا قریبی متعلقہ شخص کی ملکیت ہے؟ اگر ایسا کوئی تعلق موجود نہیں تو پھر ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر میڈم سَیما شاہ نے چیف ایگزیکٹو آفیسر سے اس مخصوص معاملے میں رابطہ کیوں کیا؟ کیا ان کے پاس معاملے سے متعلق کوئی سرکاری ذمہ داری یا معلومات تھیں؟ کیا رابطے کا تعلق مبینہ رقم طلب کرنے سے تھا یا پلازے کی قانونی حیثیت سے؟ ان سوالات کا جواب متعلقہ افسران کے مؤقف اور سرکاری ریکارڈ سے ہی سامنے آسکتا ہے۔ان مبینہ رابطوں کے بعد معاملہ اعلیٰ سطح پر نمایاں ہوگیا اور یہ سوال مزید اہم ہوگیا کہ جس پلازے کے حوالے سے ایک کروڑ دس لاکھ روپے طلب کیے جانے کا الزام ہے، اس کی زمین کی اصل قانونی حیثیت کیا ہے۔ کیا اولڈ گرانٹ کی زمین واقعی پلازے کے تعمیر شدہ رقبے میں شامل ہے؟ کیا اس اضافی رقبے کی کوئی باقاعدہ اجازت موجود ہے؟ اور اگر اجازت موجود نہیں تو اس تعمیر کے خلاف اب تک کیا قانونی کارروائی کی گئی؟اس حوالے سے چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے بات نہیں ہوسکی۔ ان کا مؤقف موصول ہونے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا۔دوسری جانب کچھ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں ایک بااثر گروہ یا مافیا مبینہ طور پر مختلف معاملات میں اثرانداز ہوتا ہے اور بعض اہلکاروں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق بعض بااثر عناصر خود بھی مبینہ طور پر ایسے معاملات میں ملوث رہے ہیں اور اسی وجہ سے بعض اہلکاروں کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں ہوپاتی۔یہ دعویٰ اگر درست ثابت ہوتا ہے تو معاملہ کسی ایک اہلکار کے مبینہ اقدام سے آگے بڑھ کر ادارہ جاتی جوابدہی کا بن جاتا ہے۔ پھر یہ طے کرنا ضروری ہوگا کہ اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال، ریکارڈ میں مبینہ تبدیلیوں اور سرکاری ریونیو کے ممکنہ نقصان کے باوجود ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوئی۔اس معاملے میں پلازے کے مالکان کے مبینہ اثر و رسوخ کا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اگر معاملہ سامنے آتے ہی اعلیٰ سطح پر رابطے کیے گئے تو یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ ان رابطوں کا مقصد کیا تھا، کس نے کس حیثیت سے رابطہ کیا اور کیا کسی افسر یا اہلکار پر کارروائی روکنے، مؤخر کرنے یا کسی مخصوص انداز میں کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا؟اگر کسی اہلکار نے واقعی ایک کروڑ دس لاکھ روپے طلب کیے تو اس مطالبے کی قانونی بنیاد کیا تھی؟ اور اگر پلازہ خلافِ ضابطہ تھا تو کیا اس کے خلاف کارروائی باقاعدہ قانونی طریقہ کار کے مطابق ہوئی؟ دونوں صورتوں میں سرکاری ریکارڈ فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔اگر پلازہ کئی برسوں کے دوران تعمیر ہوا، مکمل ہوا اور بعد ازاں کرائے پر بھی دے دیا گیا تو متعلقہ اراضی، تعمیراتی اور نگرانی کے شعبوں کی کارکردگی کا بھی باقاعدہ جائزہ ضروری ہے۔ ایک بڑے کمرشل منصوبے کی تعمیر کے دوران متعلقہ حکام کی جانب سے زمین کے رقبے، ملکیتی حیثیت، نقشے اور تعمیر شدہ حدود کی جانچ کس مرحلے پر کی گئی؟ اگر کوئی خلاف ورزی تھی تو اس کی نشاندہی میں تاخیر کی ذمہ داری کس افسر یا شعبے پر عائد ہوتی ہے؟یہ معاملہ جنرل لینڈ رجسٹر کے حوالے سے بھی انتہائی اہمیت اختیار کرجاتا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ دیگر اولڈ گرانٹ جائیدادوں کے جنرل لینڈ رجسٹر میں بھی مبینہ طور پر ردوبدل کیا گیا ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو محض ایک جائیداد کا ریکارڈ دیکھنا کافی نہیں ہوگا بلکہ اولڈ گرانٹ جائیدادوں کے پورے GLR ریکارڈ کا ریکارڈ بیسڈ اور غیر جانب دارانہ آڈٹ ناگزیر ہوجائے گا۔اہم سوال یہ ہے کہ GLR میں تبدیلیاں کس مجاز افسر کی منظوری سے ہوتی ہیں، کون ان تبدیلیوں کی تصدیق کرتا ہے اور اصل ریکارڈ کس سطح پر محفوظ رکھا جاتا ہے؟ اگر کسی ریکارڈ میں تبدیلی ہوئی ہے تو اس کے لیے متعلقہ فائل، منظوری، نوٹنگ اور معاون دستاویزات موجود ہونی چاہئیں۔ ایسی دستاویزات کی جانچ ہی سے یہ معلوم ہوسکے گا کہ کوئی تبدیلی قانونی طریقہ کار کے تحت ہوئی یا ریکارڈ میں غیر مجاز مداخلت کی گئی۔یہاں ذمہ داری کا دائرہ بھی واضح ہونا چاہیے۔ جنرل لینڈ رجسٹر کی نگرانی، اولڈ گرانٹ جائیدادوں کی قانونی حیثیت، تعمیرات کی حدود اور ریکارڈ میں تبدیلیوں کی منظوری کسی ایک ماتحت اہلکار کی ذمہ داری نہیں ہوسکتی۔ اگر کسی بے ضابطگی کی تصدیق ہوتی ہے تو اس پورے انتظامی سلسلے کا تعین ضروری ہوگا کہ فائل کس کے پاس گئی، کس نے جانچ کی، کس نے منظوری دی اور کس افسر نے حتمی نگرانی کی۔چیف ایگزیکٹو آفیسر عامر رشید کے حوالے سے بنیادی سوال یہی ہے کہ ان کی کمان میں سامنے آنے والی ایسی شکایات پر ادارہ جاتی ردعمل کیا ہے؟ اگر ایک اہلکار پر ایک کروڑ دس لاکھ روپے طلب کرنے کا الزام سامنے آتا ہے تو کیا اس معاملے کی باقاعدہ محکمانہ انکوائری شروع کی گئی؟ کیا متعلقہ اہلکار سے وضاحت طلب کی گئی؟ کیا پلازے کے سیل کیے جانے کی قانونی بنیاد کی جانچ ہوئی؟ اور کیا زمین کے اصل ریکارڈ اور منظور شدہ نقشے کو باہم ملا کر دیکھا گیا؟اگر ان سوالات کے جوابات سرکاری ریکارڈ میں موجود نہیں تو یہ خود نگرانی کے نظام کے لیے ایک سنجیدہ سوال ہے۔ اور اگر ریکارڈ موجود ہے تو اسے سامنے لاکر معاملے کی حقیقت واضح کی جاسکتی ہے۔چیف ایگزیکٹو آفیسر کی کمان میں ہونے والے کسی بھی مبینہ خلافِ ضابطہ اقدام کی ذمہ داری صرف ماتحت اہلکار تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ جہاں قانون یا ضابطے کے تحت نگرانی، منظوری یا انتظامی کنٹرول سینئر سطح پر موجود ہو وہاں اس پورے نظام کی کارکردگی بھی جانچ کے دائرے میں آتی ہے۔اب بنیادی سوال یہ ہے کہ ویسٹریج بازار کی پراپرٹی نمبر 101 اور 102 پر قائم یہ پلازہ کس قانونی اجازت، کس نقشے اور کس اراضی ریکارڈ کی بنیاد پر تعمیر ہوا؟ اگر اولڈ گرانٹ کی زمین واقعی اس میں شامل ہوئی تو کس مرحلے پر اس کی اجازت دی گئی؟ اگر اجازت نہیں تھی تو کئی برسوں تک تعمیر اور بعد ازاں کمرشل استعمال کیسے جاری رہا؟ اور اگر پلازہ قانونی طور پر درست تھا تو پھر اس کے خلاف کارروائی اور مبینہ ایک کروڑ دس لاکھ روپے کی طلبی کی بنیاد کیا تھی؟یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ مبینہ رشوت طلبی اور پلازے کی سیلنگ کے درمیان کیا تعلق تھا۔ اگر دونوں واقعات ایک ہی کارروائی کا حصہ تھے تو متعلقہ افسر کے اختیارات اور کارروائی کا قانونی جواز سامنے آنا چاہیے، جبکہ اگر دونوں معاملات الگ تھے تو دونوں کی الگ الگ قانونی بنیاد اور دستاویزی حیثیت واضح کرنا ضروری ہوگی۔اگر راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ میں اولڈ گرانٹ جائیدادوں کے حوالے سے متعدد شکایات موجود ہیں تو ایک جامع انکوائری، اصل GLR ریکارڈ کی جانچ اور متعلقہ تعمیرات کا تقابلی سروے ہی حقیقت سامنے لانے کا مؤثر راستہ ہوسکتا ہے۔ اسی طرح مبینہ سرکاری ریونیو نقصان کا تعین بھی ریکارڈ اور مالی دستاویزات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔یہ معاملہ اب صرف ایک پلازے یا ایک ڈرافٹ مین کے خلاف الزام کا نہیں رہا۔ اس میں اولڈ گرانٹ اراضی کی قانونی حیثیت، GLR کے ریکارڈ کی سالمیت، تعمیراتی منظوری کے نظام، اختیارات کے استعمال، مبینہ مالی مطالبے، نگرانی کے نظام اور سرکاری ریونیو کے تحفظ جیسے بنیادی انتظامی و قانونی سوالات شامل ہوچکے ہیں۔اب اصل امتحان یہ ہے کہ کنٹونمنٹ انتظامیہ ان سوالات کا جواب الزامات اور بیانات سے نہیں بلکہ اصل ریکارڈ، منظور شدہ نقشے، GLR، انکوائری رپورٹس، سیلنگ آرڈر، متعلقہ فائلوں اور ذمہ دار افسران کے تحریری مؤقف کے ذریعے دیتی ہے یا نہیں۔اگر الزامات بے بنیاد ہیں تو ریکارڈ سامنے لاکر انہیں رد کیا جاسکتا ہے، اور اگر الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو ذمہ دار اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ان افسران کا بھی تعین ضروری ہوگا جن کی نگرانی، منظوری یا مبینہ غفلت کے باعث صورتحال پیدا ہوئی۔اسی بنیاد پر ویسٹریج بازار کا یہ معاملہ اب راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے لیے محض ایک انتظامی شکایت نہیں بلکہ قانون کی بالادستی، سرکاری ریکارڈ کے تحفظ، اختیارات کے شفاف استعمال اور ادارہ جاتی جوابدہی کا امتحان بن چکا ہے۔اولڈ گرانٹ جائیدادوں کے حوالے سے جنرل لینڈ رجسٹر بنیادی اراضی ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں زمین کی نوعیت، متعلقہ حقوق اور تبدیلیوں کا اندراج کیا جاتا ہے۔ ریکارڈ میں کسی بھی تبدیلی کے لیے مقررہ قانونی طریقہ کار کی پابندی ضروری ہے۔اولڈ گرانٹ کی زمین کو عام نجی ملکیت سمجھ کر اس میں ازخود توسیع یا کسی دوسری زمین کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ کسی تعمیر کے لیے کمرشل نقشہ منظور ہونا اپنی جگہ اہم ہے، تاہم یہ بھی دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ منظور شدہ نقشے میں شامل زمین کی قانونی حیثیت کیا ہے اور تعمیر مقررہ حدود کے اندر ہوئی یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں