آئی پی پیز کے معاہدے عوام پر بجلی کے بھاری بلوں کا بوجھ بن گئے،
امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری ایڈووکیٹ کا مال روڈ وزیر ہاوس کے سامنے اجتجاجی دھرنے سے خطاب


لاہور : امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاء الدین انصاری نے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کی آواز اسلام آباد کے ایوانوں تک پہنچ رہی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے دو سال قبل قوم کو بجلی کے بھاری بلوں اور آئی پی پیز کے معاملے پر شعور دیا۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے 1996ء سے آئی پی پیز کے ساتھ ناجائز معاہدے کیے ہیں، جبکہ مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی حکومتوں نے بھی آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے کیے۔ آئی پی پیز کو کیپسٹی پیمنٹ کے نام پر قومی خزانے سے اربوں روپے ادا کیے جاتے ہیں اور بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکسز بھی عوام پر اسی بوجھ کو پورا کرنے کے لیے عائد کیے جاتے ہیں۔ضیاء الدین انصاری نے کہا کہ جماعت اسلامی کے 14 روزہ دھرنے سے قبل عوام کی اکثریت آئی پی پیز کے معاملے سے آگاہ نہیں تھی۔ عوامی مزاحمت کے نتیجے میں پانچ آئی پی پیز کیپسٹی پیمنٹ سے دستبردار ہوئے، جبکہ حکومت نے بھی تسلیم کیا کہ اس اقدام سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی 77 آئی پی پیز کیپسٹی پیمنٹ وصول کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 2024ء کے انتخابات میں بلاول بھٹو زرداری نے 300 اور مریم نواز نے 200 یونٹس مفت بجلی دینے کا اعلان کیا تھا۔
بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی لاہور نے کہا کہ حکمران ٹولہ گزشتہ کئی دہائیوں سے پنجاب پر قابض ہے لیکن بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار نہیں۔ 2015ء میں بلدیاتی انتخابات ہوئے، تاہم منتخب نمائندوں سے 2017ء تک حلف نہیں لیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کا عمل معطل کر دیا، جس کے خلاف جماعت اسلامی نے ہائیکورٹ سے رجوع کیا۔ ہائیکورٹ کی جانب سے جماعت اسلامی کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد بلدیاتی انتخابات کا نیا قانون متعارف کرا دیا گیا۔
ضیاء الدین انصاری نے کہا کہ حکمران بلدیاتی انتخابات کرانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر بلدیاتی انتخابات ہوئے تو جماعت اسلامی بھرپور حصہ لے گی۔